کینیا: انجیر کے ایک درخت نے کیسے صدر کا دل جیت لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A fig tree that has been saved from being cut down to make way for a high way in Nairobi, Kenya
AFP
افریقی صحافیوں کی جانب سے خطوط کی اس سیریز میں، میڈیا اور مواصلات کے ٹرینر جوزف وارونگو نے کینیا کے سیاستدانوں پر درختوں کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

حکومتیں اکثر عوام کی بات ماننا پسند نہیں کرتیں۔

اگر ایسا ہوتا تو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا کی سڑکوں پر اتنا تشدد نہ ہو رہا ہوتا۔۔۔ حال ہی میں یہاں حکومت نے الیکشن سیزن کے دوران تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیا ہے۔

کینیا میں لوگ حکومت اور سیاستدانوں سے التجا کر رہے ہیں کہ وہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے سیاسی جلسے بند کر دیں۔ یہ جلسے آئین میں تبدیلیوں کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی حمایت میں کیے جا رہے ہیں۔

عوام فکرمند ہیں کہ کووڈ 19 ان جلسوں کی وجہ سے مزید نہ پھیل جائے لیکن حکومت اور اپوزیشن کی ریلیاں جاری ہیں۔ ایسے میں جب لوگوں کی نہ سنی جائے اور کسی مسئلے پر ملک کا صدر ایک درخت کی بات مان جائے اور پالیسی بلد لے حیرت تو ہوگی۔ آخر ماجرا کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

سات صدیاں پرانا درخت جسے تواہم نے بچا رکھا ہے

جب ایک درخت دو طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لے آیا

پاکستانی جو عراق میں پانچ لاکھ درخت لگانا چاہتا ہے

Medics performing coronavirus tests in Kibera, Nairobi, Kenya - October 2020

AFP
کینیا میں حالیہ چند دنوں میں، پچھلے کچھ مہنیوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

لیکن جس درخت کی بات مانی گئی یہ کوئی عام درخت نہیں۔

انجیر کا یہ قد آور درخت 100 سال پرانا ہے اور نیروبی کے مغرب میں ویاکی وے کے ایک حصے پر کھڑا ہے۔ ایک زیرِ تعمیر سڑک کا راستہ بنانے کے لیے اسے کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

27 کلومیٹر طویل یہ سڑک، جمو کینیاٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نیروبی کے مغربی علاقے سے ملائے گی اور یہ مرکزی سڑک ویاکی وے سے جاکر ملے گی جو مغربی کینیا اور یوگنڈا کی طرف جاتی ہے۔

کینیا کے ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کا نشان

کوئی نہیں جانتا کہ آخر صدر نے کیوں حکومت کا فیصلہ بدل دیا اور انجیر کے اس درخت کو نہ کاٹنے کا حکم جاری کیا۔

An aerial view of the fig tree, Nairobi, Kenya - October 2020

AFP
سڑک کو مزید چوڑا کرنے کے لیے اس 100 سالہ درخت کو کاٹنے کا منصوبہ تھا

انھوں نے اس درخت کو ’کینیا کے ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کا نشان‘ کے طور پر بیان کیا۔

یقیناً بانٹو زبان بولنے والی برادریوں کے لیے اس درخت کی ثقافتی اور مذہبی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

درخت جس کی چھاؤں میں بزرگ مقدموں کی سماعت کرتے تھے

مغربی کینیا میں لوہیا برادری کے ماراگولی جیسے کچھ طبقے ’مکومو‘ یا انجیر کے درخت کا بہت احترام کرتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ درخت ایک کمرہ عدالت تھا جس کی چھاؤں میں بزرگ مقدموں کی سماعت کرتے تھے۔

ماراگولی کے علاقوں میں انجیر کے درخت سنگ میل کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

طاقت کی منقتلی کا اشارہ

ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے نسلی گروپ وسطی کینیا کے کیکیو افراد کے لیے، انجیر کا درخت ایک مزار، عبادت گاہ اور قربانیوں کا مقام رہا ہے۔

وہ انجیر کے درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح کی حرکت سے تباہی پھیل سکتی ہے۔

جب انجیر کا درخت قدرتی طور پر مرجھا جاتا ہے یا زمین پر گرتا ہے تو، کیکیو اسے بدشگونی یا ایک نسل سے دوسری نسل کو اقتدار کی منتقلی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ہر نسل تقریباً 30 سال تک حکمرانی کرتی ہے۔


صدر اوہورو کینیاٹا جو خود کیکیو ہیں، شاید اپنی سیاسی زندگی میں کینیا کے لیے کوئی بری خبر لانے کا سبب بنے ہوں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ انھوں نے مگومو درخت کو کاٹنے کے تہذیبی اور روحانی بوجھ کو اٹھانا قبول کیا ہو گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی ضدی حکومت کی قدرتی ماحول کو خراب کرنے والی کوششوں کو، خود فطرت نے روک دیا ہو۔

سن 1980 کی دہائی کے آخر میں اس وقت کی حکمراں جماعت، کینیا افریقین نیشنل یونین نے نیروبی کے مشہور اوہورو پارک کے وسط میں ہیڈکوارٹر کے طور پر ایک فلک بوس عمارت بنانے کے لیے ایک عظیم منصوبہ تیار کیا۔

Campaigners in front of the fig tree in Nairobi, Kenya - October 2020

Getty Images
مظاہرین نے انجیر کے درخت کو بچانے کے لیے ایک مہم چلائی

60 منزلہ ٹائمز میڈیا کمپلیکس نامی اس عمارت میں دفاتر، شاپنگ مال اور سینکڑوں کاروں کے لیے پارکنگ رکھی گئی تھی، اور یہ مشرقی افریقہ کے خطے میں سب سے اونچی عمارت بننے جارہی تھی۔

نوبل امن انعام یافتہ پروفیسر وانگاری ماتھی کی سربراہی میں ماحولیات کے ماہرین نے اس عمارت کی تعمیر کے خلاف اور پارک کو بچانے کے لیے ایک مہم چلائی۔

آخر میں ڈینیئل آراپ موئی، جو اس وقت کے صدر تھے، بادِل ناخواستہ اہورو پارک اور اس میں موجود درختوں کی آواز سننے پر مجبور ہو گئے۔

فلک بوس عمارت بنانے کا منصوبہ وہیں ڈھیر ہو گیا اور آج بھی نیروبی کے بہت سارے باشندے اپنے خاندانوں کے ساتھ سیر و تفریح ​​کے لیے اس پُرسکون اور سر سبز جگہ کا رخ کرتے ہیں۔

چینیوں کی گھبراہٹ

ویاکی وے انجیر کا درخت بھی اب سکون کے سانس لے سکتا ہے کیونکہ اسے نہ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جب اس ہفتے میں نے اس مقام کا دورہ کیا تو مزدوروں نے اس کے اردگرد سرنگ کھودنے کے منصوبے تیار کر رکھے تھے۔

A trench being built around the fig tree in Nairobi, Kenya

Geofrey Angote
اب ویاکی وے انجیر کے اس درخت کے آس پاسسرنگ کھودی جارہی ہے

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے بتایا ’صدر کے فرمان کے بعد چینی ٹھیکیدار آئے اور درخت کو گھورتے رہے، پھر انھوں نے سرنگ کی جانب دیکھا جو اس درخت کو بچانے کے لیے کھودی جا رہی تھی اور اپنا سر ہلاتے ہوئے چلے گئے۔‘

چینی سوچتے ہوں گے کہ مگومو کے درخت نے انجینئروں کے کام کو روکنے اور اپنی بات سننے پر مجبور کرنے کے لیے کس قدر طاقتور زبان استعمال ہو گی۔

کینیا میں بہت سے افراد کی خواہش ہے کہ اور درخت بھی آواز اٹھائیں اور ریفرنڈم میں ان کے بقول ان خود غرض سیاستدانوں کی حمایت کرنے اور ان کی جیبیں بھرنے سے انکار کریں جو کورونا وائرس وبا کے نازک دور میں عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

لیکن کیا حکومت سنے گی؟

اس کے لیے درختوں کے بولنے کا انتظار کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17279 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp