پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ نیوزی لینڈ 2020: آٹھواں مثبت ٹیسٹ، کیا پاکستانی ٹیم کا دورہ نیوزی لینڈ خطرے میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ پاکستانی کرکٹ سکواڈ کے ایک اور رکن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اس طرح نیوزی لینڈ میں پاکستانی سکواڈ کے کورونا کیسز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

پاکستانی کرکٹ سکواڈ میں کورونا مثبت ٹیسٹ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ کہیں اس دورے کو خطرہ لاحق تو نہیں؟ کیا میچوں کا پہلے سے طے شدہ شیڈول تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے اور اس صورتحال کے اس دورے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

اس کا تفصیلی جائزہ ہم بعد میں لیتے ہیں لیکن پھر اس پر نظر ڈالتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ یہ صورتحال کیوں اور کیسے پیش آئی؟

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستانی ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ میں وہی ہو گا جو انڈیا کے ساتھ ہوا

پاکستانی کھلاڑیوں نے کورونا پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کیسے کی؟

’نیوزی لینڈ صاحب، آپ نے کیسے کہا ٹیم کو واپس بھیج دیں گے‘

نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد کی صورتحال

پاکستانی کرکٹ ٹیم لاہور سے دبئی اور کوالالمپور سے ہوتے ہوئے آکلینڈ پہنچی تھی جس کے بعد اس کی منزل کرائسٹ چرچ تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان طے شدہ ایس او پیز کے تحت نیوزی لینڈ آمد کے بعد 14 روز کا عرصہ قرنطینہ میں گزارنا تھا اور اس دوران سکواڈ کے کورونا ٹیسٹ ہونا تھے اور ان کے نتائج کی بنیاد پر سکواڈ کو ٹریننگ کی اجازت دی جانی تھی۔

کھلاڑیوں کے کورونا مثبت ٹیسٹ

تاہم کرائسٹ چرچ پہنچنے سے قبل ہی اسے ایک دھچکہ اس وقت لگا تھا جب اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم نے سفری ہیلتھ کارڈ پر کھانسی کی شکایت کے بارے میں درج کیا تھا جس کے بعد انھیں ٹیم سے الگ کر کے آکلینڈ میں ہی روک لیا گیا۔ اگرچہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے لیکن وہ وہاں 14 روزہ قرنطینہ کی مدت پوری کر رہے ہیں۔

کرائسٹ چرچ میں پاکستانی ٹیم کے کورونا ٹیسٹ کا عمل شروع ہوا تو پہلے ہی مرحلے میں چھ کھلاڑیوں کے نتائج مثبت آ گئے۔ دوسرے مرحلے میں مزید ایک کھلاڑی کا نتیجہ مثبت آیا اور بدھ کے روز مزید ایک کھلاڑی کے بارے میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ وہ بھی کورونا میں مبتلا ہے۔

جن آٹھ کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ان میں سے اس وقت چھ کھلاڑی سکواڈ سے بالکل الگ رکھے گئے ہیں۔ دو کھلاڑی جن کے بارے میں نیوزی لینڈ وزارت صحت نے بتایا تھا کہ ان سے کسی کو انفیکشن لگنے کا خطرہ نہیں ہے اور وہ واپس ٹیم ہوٹل کی اسی منزل پر آ گئے ہیں جہاں وہ پہلے مقیم تھے۔

اس طرح اب چھ کھلاڑی بقیہ سکواڈ سے الگ آئسولیشن میں ہیں تاہم ان چھ میں سے اب بھی دو کھلاڑی ایسے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ’ہسٹارک کیسز‘ ہیں جن کے ٹیسٹ کا نتیجہ جمعرات کو سامنے آئے گا۔

نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد پاکستانی کرکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کی خبریں بھی آئیں جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکواڈ کو آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مزید خلاف ورزیوں پر پاکستانی ٹیم کو وطن واپس بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

بابر

Getty Images
ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کا منظر

کھلاڑیوں کو کورونا کیسے ہوا؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کے مثبت کورونا ٹیسٹ کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ تاہم اس بارے میں کوئی بھی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ عام خیال یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ طویل سفر کا نتیجہ ہو سکتا ہے جس میں سکواڈ کا کمرشل فلائٹ میں عام مسافروں کے ساتھ سفر کرنا، ایئرپورٹوں پر امیگریشن کے عمل سے گزرنا اور باتھ روم استعمال کرنا شامل ہیں۔

یہ بھی پتا چلا ہے کہ سکواڈ کےچند کھلاڑی اس وقت بخار میں مبتلا تھے جب وہ یہاں قائداعظم ٹرافی کھیل رہے تھے اسے موسمی بخار سمجھا گیا تھا تاہم ٹیم کی روانگی سے قبل ان تمام کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ منفی آئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ٹیم کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل تمام کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے کورونا ٹیسٹ شوکت خانم ہسپتال سے کروائے گئے تھے لہٰذا ٹیسٹنگ اور ان کے نتائج کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہے کی قطعاً گنجائش نہیں۔

انھوں نے کہا کہ طویل سفر کی وجہ سے ممکن ہے کہ کھلاڑی ایکسپوز ہوئے ہوں لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ میں کھلاڑیوں کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی وجہ سے انھیں کورونا ہوا ہے۔

وسیم خان سے جب پوچھا گیا کہ اتنے سخت قواعد و ضوابط میں کیا یہ دورہ کرنا درست فیصلہ تھا؟ تو ان کا جواب تھا کہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم بھی نیوزی لینڈ میں ہے اور اس کے کھلاڑیوں نے بھی اسی ماحول میں 14 روز کا قرنطینہ مکمل کیا ہے جس کے بعد انھیں ٹریننگ کی اجازت ملی ہے۔

کیا دورے کو کوئی خطرہ ہے؟

وسیم خان کا کہنا ہے کہ فی الحال اس دورے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان اے جو پاکستان شاہینز کے نام سے نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے اس کا نیوزی لینڈ اے کے خلاف پہلا میچ منسوخ کر دیا جائے کیونکہ اس کے کھلاڑی قرنطینہ میں ہیں اور جب وہ باہر آئیں گے تو ان کے لیے بغیر پریکٹس کر یہ میچ کھیلنا آسان نہ ہو گا۔

کھلاڑیوں کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟

پاکستانی سکواڈ اس وقت کرائسٹ چرچ میں مینجڈ آئسولیشن میں ہے جہاں اسے 14 روز کا قرنطینہ مکمل کرنا ہے جو آٹھ دسمبر کو ختم ہو گا۔

تمام کھلاڑی اپنے اپنے کمروں میں ہیں۔ ایک وقت میں چار افراد کے ایک گروپ کو ہوٹل کے لان میں چہل قدمی کی اجازت ہے اور اس میں بھی دو میٹر کے فاصلے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

سکواڈ کو ان کے کمروں میں ناشتہ اور کھانا فراہم کیا جاتا ہے لیکن جب کھانے کی ٹرے ان کے کمروں کے باہر رکھی جاتی ہے تو انھیں ماسک پہن کر وہ ٹرے وصول کرنی اور واپس کرنی ہوتی ہے۔

وسیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹروں سے ان کا مستقل رابطہ ہے اور ان کھلاڑیوں کا صرف یہی کہنا ہے کہ وہ ٹریننگ چاہتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں وہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے حکام سے بھی رابطے میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ سکواڈ کی ٹیسٹنگ کا عمل مکمل ہونے اور مطلوبہ نتائج کے بعد اسے جمعے کے روز سے ٹریننگ کی اجازت مل جائے۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آٹھ دسمبر کو کرائسٹ چرچ سے کویئنز ٹاؤن روانہ ہونا ہے اور ٹیم انتظامیہ یہ توقع کر رہی ہے کہ جن کھلاڑیوں کے منفی نتائج آ رہے ہیں انھیں پانچ دسمبر سے پریکٹس کی اجازت مل جائے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس دورے میں تین ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔ دورے کا آغاز ٹی ٹوئنٹی سیریز سے ہو گا جس کا پہلا میچ اٹھارہ دسمبر کو آکلینڈ میں کھیلا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17349 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp