ستائیس برس قبل منجمد کیے گئے بیضے سے بچی کی پیدائش

ہولی ہونڈرچ - بي بي سي نیوز، واشنگٹن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب مولی گبسن رواں برس اکتوبر میں پیدا ہوئی تھی تو اس کی پیدائش کے لیے منجمد بیضے کو 27 سال ہو گئے تھے۔ اس نومولود بچی کے ایمبریو یا بیضے کو اکتوبر 1992 میں منجمد کر دیا گیا تھا اور وہ رواں برس فروری تک اسی حالت میں رہا، پھر امریکی شہر ٹینیسی کے رہائشی جوڑے نے اس کو اپنا لیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مولی نے سب سے طویل منجمد بیضے سے پیدائش کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور اپنی بڑی بہن ایما کا قائم کردہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔

مس گبسن کا کہنا ہے کہ ‘میں بے انتہا خوش ہوں، اب بھی خوش سے میرا دم نکل جاتا ہے۔’ ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر آپ مجھ سے پانچ سال پہلے پوچھتے کہ اگر میری ایک نہیں دو بچیاں ہیں تو میں یہ کہتی کہ آپ پاگل ہیں۔’

مس گبسن کے والدین کی جانب سے ایک مقامی نیوز چینل پر بیضے کو گود لینے یا اپنانے کی خبر سننے سے قبل اس خاندان کو پانچ برس تک بانجھ پن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

انتیس سالہ مس گبسن کا کہنا ہے کہ ‘یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی کہانی شیئر کرتے ہیں۔ اگر میرے والدین نے یہ خبر نہ دیکھی ہوتی تو ہم یہاں نہیں ہوتے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسے منظر عام پر آنا چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بیضے منجمد کرنے کی ٹیکنالوجی کتنی کامیاب؟

مردہ عورت کی بچہ دانی سے پہلی بار بچے کی پیدائش

آئی وی ایف ‘مکس اپ’: غلط بچے کو جنم دینے کا مقدمہ

مسز گبسن جو ایک ایلیمنٹری سکول ٹیچر ہیں اور ان کے 36 سالہ شوہر، ایک سائبر سیکیورٹی تجزیہ کار ہیں۔ وہ نیشنل ایمبریو ڈونیشن سینٹر (این ای ڈی سی) سے منسلک ہیں۔ جو کہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے اور جو منجمد بیضوں کو محفوظ کرتا ہے۔

گبسنز کی طرح کے خاندان ان سے غیر استعمال شدہ بیضے حاصل کر کے ایسے بچوں کو جنم دے سکتے ہیں جو جینیاتی طور پر ان سے تعلق نہیں رکھتے۔ این ای ڈی سی کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً دس لاکھ انسانی منجمد بیضے محفوظ کیے گئے ہیں۔

این ای ڈی سی کے مارکیٹنگ اور ڈویلمپنٹ ڈائریکٹر مارک میلنگر کا کہنا ہے کہ ایسے خاندانوں میں بانجھ پن کے مسائل عام ہیں جو بیضوں کو حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘میں کہوں گا کہ شاید 95 فیصد کو کسی قسم کی بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہمیں ان جوڑوں کو اپنے کنبے بڑھانے میں مدد کرنے پر فخر اور خوشی محسوس ہوتی ہے’

گبسن خاندان کی جانب سے ان کے پہلے بیضے کو گود لینے کے بعد ، مس گبسن نے 2017 میں ایما کو جنم دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ راتوں کو جاگ کر بچے کی دعا مانگنے والی راتیں زچگی کی جگ راتوں میں تبدیل ہوگئیں تھیں۔’یہ تھکاوٹ کی بہترین قسم تھی اور یہ تھکن بہت اچھی ہے۔’

سترہ برس قبل قائم ہونے والے ادارے این ای ڈی سی نے 1000 سے زیادہ بیضوں کو گود دینے اور بچوں کی پیدائش میں مدد فراہم کی ہے، اور اب ہر سال تقریباً 200 بیضوں کو لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ کسی بچے کو گود لینے کے روایتی عمل کی طرح ہی، جوڑے فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا وہ بیضے کو گود لینے کے ’بندمعاہدے کو یا ’کھلے معاہدے کو اپنانا چاہتے ہیں۔

یعنی بیضے لینے کے کھلے معاہدے کے تحت اس کو عطیہ کرنے والے خاندان سے کسی قسم کا رابطہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مارک میلنگر کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں جوڑوں کے درمیان چند ای میلز کے تبادلے سے لے کر کزن جیسے تعلق کی اجازت ہوتی ہے۔

جوڑے کو دو سو سے تین سو ڈونر پروفائلز پیش کیے جاتے ہیں جس میں ڈونر کنبے کا مکمل شجرہ نسب اور آبادیاتی تاریخ ہوتی ہے۔ گبسنز بھی بہت عرصے سے بچہ چاہتے تھے اور ان کے پاس بہت سی آپشن تھیں۔

مس گبسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس کی پرواہ نہیں تھی کہ یہ بچہ کیسا دکھے گا، یہ کہاں سے آیا ہے۔‘

انھوں نے اس متعلق این ای ڈی سی سے صلاح طلب کی جہاں ایک ملازم نے انھیں کچھ ‘احمقانہ’ لینے اور وہاں سے جانے کو کہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اور میرے شوہر چھوٹے قد کے تھے لہذا ہم نے تمام پروفائلز دیکھے اور ایسے بیضے کا انتخاب کیا جو ہمارے قد کاٹھ کے مطابق ہوں اور ہم جیسے دکھے۔ اس کے لیے ہم نے سینکڑوں پروفائلز کا جائزہ لیا۔`

گبسنز جوڑے کی بیٹیاں ایما اور مولی جینیاتی طور پر ایک دوسرے کی بہنیں ہیں۔ دونوں بیضے سنہ 1992 میں ایک ساتھ عطیہ اور منجمد کیے گئے تھے جب ٹینا گبسن تقریباً ایک برس کی تھی۔

این ای ڈی سی کے مطابق، رواں برس مولی کی پیدائش سے قبل تک ایما کا 24 سالہ بیضہ تاریخ میں سب سے پرانا تھا۔

مس گبسن کا کہنا ہے کہ ایما کو اپنی چھوٹی بہن سے پیار ہے، وہ ہر کسی کو یہ کہہ کر تعارف کرواتی ہے کہ ’یہ ہے میری چھوٹی بہن مولی۔‘ اور مس گبسن اپنی دونوں بیٹیوں میں مشابہت دیکھ کر خوش ہوتی ہیں۔ دونوں میں کافی مشابہت ہے حتی کہ غصے یا پریشانی میں دونوں کی بھنووں پر پرنے والی جھری بھی ایک جیسی ہے۔

این ای ڈی سی کے مطابق، منجمد بیضوں کے لیے شیلف لائف لا محدود ہے۔

مسٹر میلنگر کا کہنا ہے کہ ‘ممکن ہے کہ کسی دن تیس برس پرانے منجمد بیضے سے کسی کی پیدائش ہو جائے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17352 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp