ٹرمپ کی انتخابی دھاندلی کی درخواستیں مسترد: ‘ججز میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعینات کردہ ایک وفاقی جج نے گزشتہ ہفتے صدارتی انتخابات میں دھاندلی سے متعلق صدر کی انتخابی مہم کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔

وفاقی جج اسٹیفنوز بباس نے ریاست پینسلوینیا میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور نتائج کی تصدیق سے متعلق درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا تھا کہ “ناانصافی کے الزامات سنگین ہیں لیکن انتخابات کو محض غیر منصفانہ قرار دینے سے یہ حقیقت نہیں بن جاتی۔”

اکاون سالہ وفاقی جج بباس صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ پہلے جج نہیں جنہوں نے اُن کی انتخابی جعلی سازی کی درخواست مسترد کی۔

نارتھ ڈسٹرکٹ آف جارجیا کے اسٹیون گرمبرگ سمیت ری پبلکن ادوار میں تقرر پانے والے کئی جج صدر ٹرمپ کی انتخابی عذرداریوں کے خلاف فیصلے دے چکے ہیں۔

وفاقی جج بباس نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جرم کے لیے الزامات اور پھر ثبوت درکار ہوتے ہیں لیکن ہمارے سامنے تو ایسا کچھ نہیں۔

مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ریاست پینسلوینیا میں دائر درخواست مسترد ہونے پر صدر ٹرمپ کی کمپین کو عدالتی محاذ پر ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے شواہد نہیں ملے، امریکی اٹارنی جنرل کا اعتراف

صدر اور اُن کے حامیوں نے کئی ریاستوں میں تین درجن سے زائد انتخابی عذرداریاں دائر کی تھیں جن میں انتخابات میں دھاندلی، لاکھوں غیر قانونی ووٹ ڈالے جانے اور ووٹوں کی غلط گنتی جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

کئی ریاستوں میں صدر اور اُن کے حامیوں کی بیشتر عذرداریاں مسترد ہو چکی ہیں۔

کیلی فورنیا سپریم کورٹ کے سابق ایسوسی ایٹ جج جوزف گروڈن نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کے باوجود عدلیہ کی آزادی اب بھی زندہ و جاوید ہے۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ججز قانون کی پیروی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جسٹس بباس نے صدر ٹرمپ کے عذرداری کو میرٹ پر پورا نہ اترنے پر خارج کیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جن ججز کو تعینات کیا تھا ان میں بباس بھی شامل تھے جنہیں 2017 میں کورٹ آف اپیل فار تھرڈ ڈسٹرکٹ میں تعینات کیا گیا تھا جس کے دائرۂ اختیار میں ریاست پینسلوینیا کے علاوہ دیگر دو ریاستیں بھی آتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کو جہاں انتخابات میں دھاندلی کے بیانیے پر عدالتی جنگ میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے وہیں ری پبلکن جماعت کے اندر سے جو بائیڈن کی کامیابی تسلیم کرنے کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

امریکی انتخابات: 'یہ قانونی نہیں سیاسی مسئلہ ہے'

منگل کو ہی اٹارنی جنرل ولیم بار نے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کے ایسے شواہد نہیں ملے جو انتخابی نتیجے کو یکسر بدل کر رکھ دیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر جوناتھن ٹرلی کا کہنا ہے کہ وفاقی ججز کو تاحیات تعینات کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ اُنہیں سیاسی اثر و رسوخ سے تحفظ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی عدالتوں نے گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹھیک کام کیا ہے اور گزشتہ چار ہفتوں میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

اُن کے بقول وفاقی ججز بشمول صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ ججز مسلسل صدر کی جانب سے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستیں یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ جن الزامات پر ریلیف مانگا جا رہا ہے ان سے متعلق شواہد نہیں پیش کیے گئے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے کو دیکھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت یہ معاملہ دیکھ سکتی ہے لیکن ماتحت عدالتوں کی جانب سے مسسلسل صدر ٹرمپ کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔

جوناتھن ٹرلی کے مطابق ری پبلکنز نے انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق بعض جائز تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات نے عدالتوں میں اُن کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے۔

جوناتھن کے بقول سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی روش اختیار کرنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ٹرلی کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کا معاملہ سننے کے لیے راضی بھی ہو جائے تو بھی یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے حق میں آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1286 posts and counting.See all posts by voa