سمیع چوہدری کا کالم: 'نیوزی لینڈ صاحب! اتنی سخت بات کرنے سے پہلے آپ تھوڑا سوچ تو لیتے'

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابر
Getty Images
فائل فوٹو
پرانے وقتوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیرونِ ملک دورے اکثر ہنگامہ خیز ہوا کرتے تھے۔ کبھی کرکٹرز منشیات کے ساتھ پکڑے جاتے اور کبھی کسی کلب میں ناچتے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو جاتے۔

کبھی کبھار لڑکیوں کی ہوٹل کے کمروں میں آمد و رفت بھی زیرِ بحث آتی اور پھر جب اتنا کچھ ہونے کے بعد قومی ٹیم سیریز ہارتی تو کھلاڑیوں کے پتلے جلنے سے لے کر کپتانوں اور سلیکٹرز کی برطرفیوں کا شور اٹھنے تک، کئی قسم کا غوغا مچتا تھا۔

لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سمجھ دار ہو گیا۔ کرکٹرز بھی کسی حد تک محتاط ہو گئے اور وہ وقت بھی آیا کہ میچز کے اعداد و شمار کے سوا مجال ہے کوئی سنسنی خیز خبر ملتی۔

پی سی بی اس وقت جس سانحے کی زد پر ہے، بالخاصہ اس میں پی سی بی کا کوئی قصور نہیں۔ کورونا کے دوران اگر کھلاڑی اس طرح سے پبلک پروازوں پر سفر کریں گے تو وبا تو چِپکے گی ہی، مگر کیا واقعی یہ پی سی بی انتظامیہ کی نااہلی قرار دی جا سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیے

دو ہفتے کی محنت اور نتیجہ صرف تھکاوٹ

آٹھواں مثبت ٹیسٹ: نیوزی لینڈ کے دورےمیں اب تک کیا ہوا؟

پاکستانی کرکٹرز کے کورونا سے متاثر ہونے کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

شعیب اختر نے اپنی تندوتیز ویڈیو تقریر میں باقی جو کچھ بھی کہا، یہ بات بہرحال قابلِ غور ہے کہ اگر پی سی بی کھلاڑیوں کو یوں پبلک پروازوں اور کنکٹنگ فلائٹس کے جوکھم سے بچا کر کسی چارٹرڈ پرواز کا بندوبست کر لیتا تو ہزیمت سے بچا جا سکتا تھا۔

مگر غور طلب بات یہ ہے کہ کیا کورونا کے اثرات سے گزرتی کسی بھی کاروباری کمپنی کے لیے ایسا مہنگا قدم اٹھانا قابلِ عمل بھی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ کچھ ماہ پہلے انگلینڈ کے دورے کے لیے ایسے ہی انتہائی اقدامات کیے گئے تھے جس سے دورہ غیر مطلوبہ خبروں سے محفوظ رہا۔

لیکن یہاں یہ واضح نہیں ہے کہ پی سی بی اور انگلش کرکٹ بورڈ کے مابین یہ دورہ کن شرائط پر طے پایا تھا۔ ہمیں اس کی ہلکی سی جھلک انگلینڈ کے پاکستان دورے کے اعلان کی شکل میں ملتی ہے۔ مگر کیا کیوی کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کو کوئی ایسی جوابی رعایت دینے پر آمادہ تھا؟

وسیع تر تناظر میں یہ بات بعید از گمان ہے۔ کیوی کرکٹ بورڈ بذاتِ خود اتنا بڑا معاشی ادارہ نہیں کہ اس کا مقابلہ انگلش کرکٹ بورڈ اور اس کی طے کردہ ’رعایات‘ سے کیا جا سکے۔ فی الوقت کیوی کرکٹ بورڈ کو محض اپنی نئی براڈکاسٹ ڈیل کا پیٹ بھرنا ہے جو کورونا کے تحت پچھلی ڈیل ختم ہونے پر سامنے آئی ہے۔

جبکہ یہ واضح ہے کہ کیوی کرکٹ بورڈ اس دورے سے بہت کچھ کمانے جا رہا ہے تو ان حالات میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا کیوی کرکٹ بورڈ کو دورہ ختم کرنے کی دھمکی دینے جیسا اقدام اٹھانا چاہیے تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں کرکٹ بورڈز کی باہمی ڈیلز کا بوجھ صرف ٹورنگ سکواڈ اٹھا رہے ہیں۔

یہ پلئیرز اور بیک روم سٹاف خود کو رضاکارانہ طور پہ ہفتوں تک اپنے کمروں میں محصور کر کے یہ ممکن بنا رہے ہیں کہ کرکٹ کی معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔

ایسے میں کسی ٹورنگ پارٹی کے لیے ایسی انتہائی زبان استعمال کرنا سفارتی روایات کے بھی منافی ہے۔ یہ بات بہرحال قابلِ ستائش ہے کہ کیوی کرکٹ بورڈ کے کسی عہدیدار نے اس بارے میں زبان نہیں کھولی۔ وسیم خان نے ہی یہ بات اپنے تئیں قومی ٹیم تک پہنچائی۔

اب یہ بات بھی غور طلب ہے کہ وسیم خان نے اگر ایسا سخت پیغام ٹیم کے کسی واٹس ایپ گروپ پر بھیجا ہی تھا تو اس کو انتہائی رازداری میں رکھا جانا چاہیے تھا مگر یہاں یہ ہوا کہ پیغام گروپ میں موصول ہونے کے کچھ ہی گھنٹے بعد چنیدہ چینلز کے ٹکرز میں جگمگا رہا تھا۔

ستم تو یہ ہوا کہ کورونا مثبت کھلاڑیوں کے نام بھی کیوی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ظاہر کیے جانے سے پہلے ہی ’مخبروں‘ نے سنسنی اور ریٹنگ کا بازار گرم کر ڈالا۔ جب اتنے زیادہ ’ہمدرد‘ اپنی ہی صفوں میں موجود ہوں تو پی سی بی کو ایسے حساس سفارتی معاملات میں کمیونیکیشن کرتے ہوئے زیادہ بہتر اور محفوظ طریقے اپنانا چاہیے تھا۔

بہرحال کھیلوں کا مقصد لوگوں کو جوڑنا ہے، مختلف قومیتوں اور متنوع سوچوں کو کسی مشترکہ مقصد پر اکٹھا کرنا ہے اور سیاسی حریف ممالک کے درمیان ایسے دورے ہمیشہ ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔

سو اگر کیوی وزیرِ صحت اپنے ملک کی کورونا صورتِ حال کے بارے اتنے ہی فکر مند تھے تو انھیں کم از کم اپنے بورڈ کو یہی مشورہ دے دینا چاہیے تھا کہ کھلاڑیوں کو کسی یکسر الگ ہوٹل میں ٹھہرایا جائے نہ کہ کسی ایسے ہوٹل میں کہ جہاں عام لوگوں سے ان کا میل جول ممکن ہو۔

کھلاڑیوں کو کورونا کہاں سے ہوا، کیسے ہوا، یہ بحث ہی بے کار ہے۔ جب ایسی وبائی صورتحال میں دو کرکٹ بورڈز صرف باہمی معاہدوں کی پاسداری کا خیال کریں گے اور وبا کے تدارک کے لیے کوئی ٹھوس اور ’مہنگے‘ اقدامات اٹھانے سے جان چھڑائیں گے تو کورونا تو کہیں نہ کہیں سے ہو ہی جائے گا۔

مگر جس طرح سے کھلاڑیوں کو رگیدا گیا اور تنِ تنہا موردِ الزام ٹھہرایا گیا، وہ قابلِ تعریف نہیں ہے۔ اگر جہاز میں ویڈیو بناتے ہوئے کسی کرکٹر کا ماسک ناک سے نیچے تھا تو اس میں کوئی ایسی اچنبھے کی بات نہیں ہے، اسے قومی مزاج سے منہا کر کے مت دیکھیے، وہ بھی آپ کے ہی جیسا انسان ہے اور انھی خصائل میں پلا بڑھا ہے جو مجموعی قومی رجحانات ہیں۔

کیوی کرکٹ بورڈ اس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں کہ دورے کو منسوخ کرنے کا سوچ بھی سکے۔ لیکن دونوں کرکٹ بورڈز کو اپنے حفاظتی اقدامات پر نظرِ ثانی کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ محض کھلاڑیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا زیادتی ہے۔

ہم شعیب اختر صاحب کی طرح ’یوزی لینڈ صاحب‘ کو کوئی جوابی دھمکی دینے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے مگر اتنا کہنے کی حسرت ضرور ہے کہ ’نیوزی لینڈ صاحب! اتنی سخت بات کرنے سے پہلے آپ تھوڑا سوچ تو لیتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17324 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp