برطانوی پاؤنڈ: 50 ارب پاؤنڈ مالیت کے برطانوی نوٹ ’لاپتہ‘ ہونے پر تشویش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

bank notes
Getty Images
برطانیہ میں اراکین پارلیمان کی ایک کمیٹی نے کہا ہے کہ بینک آف انگلینڈ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ 50 ارب پاؤنڈ مالیت کی ’لاپتہ‘ برطانوی کرنسی کہاں ہے اور اسے انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ رقم چھپی ہوئی برطانوی کرنسی کا تین چوتھائی بنتی ہے۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ مالیت کا نوٹ 50 پاؤنڈ کا ہے۔

یہ کیش کسی لین دین میں استعمال ہوا اور نہ ہی اسے بچت کے طور پر رکھا گیا ہے، لیکن شاید یہ بیرون ملک پڑا ہو، گھروں میں رکھا ہوا ہو یا پھر کالے دھن کی صورت میں ’شیڈو اکانومی‘ یا غیر قانونی معیشت کا حصہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ 40 ارب پاؤنڈ کے نوٹوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہا ہے؟

2020 تک برطانوی مالیات میں ’25 ارب پاؤنڈ کی کمی‘

بربری کروڑوں پاؤنڈ کے ملبوسات، پرس کیوں جلا رہا ہے؟

نظام کے35 ملین پاؤنڈ میں سے ورثا اور انڈیا کو حصہ مل گیا

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ بینک کو کرنسی کی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

کمیٹی نے کہا کہ اگر اتنے زیادہ روپے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو اس کے پبلک پالیسی پر اثرات پڑیں گے۔

تاہم برطانیہ واحد ملک نہیں ہے جسے اس طرح کے مسئلے کا سامنا ہے۔ دیگر اہم عالمی کرنسیوں کو اس سے بھی بڑا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کے ایک ترجمان نے کہا ’یہ بینک آف انگلینڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بینک نوٹوں کی عوامی طلب پوری کرے۔ بینک ہمیشہ ہی یہ طلب پوری کرتا رہا ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا۔‘

’عوام کو یہ بینک کو بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ وہ بینک نوٹ کیوں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کرنسی نوٹ لاپتہ نہیں ہیں۔‘

’کہیں پڑے ہیں‘

کمیٹی کی سربراہی کرنے والے میگ ہلئیر کا کہنا ہے کہ ’یہ رقم کہیں اور رکھی گئی ہے، لیکن بینک آف انگلینڈ کو یہ نہیں معلوم کہ کہاں، کس کے پاس یا کس مقصد کے لیے۔ اور یہ اس میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتا بھی نہیں نظر آ رہا۔‘

’بینک کو اس بارے میں زیادہ فکر ہونی چاہیے کہ لاپتہ 50 ارب پاؤنڈ کہاں ہیں۔‘

’بینک جس قومی کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے اسے اس کے بارے میں بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

UK banknotes

PA Media

کمیٹی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بینک نوٹوں کا مطالبہ باقاعدگی سے مستقل طور پر بڑھتا گیا ہے، اگرچہ ان کا استعمال کم ہو گیا ہے، لیکن لگتا ہے کہ بینک آف انگلینڈ کے پاس ’اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے کہ نوٹوں کی مانگ میں اضافہ کیوں ہوتا رہتا ہے۔‘


بینک نوٹ چھپائے جانے کی وجہ معصومانہ نہیں ہے

کیون پیچے، پرسنل فنانس کے نامہ نگار

کیش کے بارے میں حالیہ بحث کا مرکز اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ان کمزور لوگوں کو جنھیں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں مشکل پیش آتی ہے، مستقبل میں نوٹوں اور سِکوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

کمیٹی میں موجود ممبر پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ آج اس بات پر بہت کم توجہ دی جا رہی ہے کہ بینک نوٹ کہاں ہیں۔

کیش کو خرچنے کے بجائے کسی جگہ رکھنا کوئی غلط بات نہیں، تاہم یہ جگہ محفوظ ہونی چاہیے۔

لیکن یہ آپ کے بینک میں پیسے رکھنے والے اوسط شخص کو سمجھ نہیں آئے گی جو اس کو بینک میں رکھ کر اس سے کچھ منافع کما سکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی تھوڑا ہو۔

اسی لیے ممبر پارلیمان کو شک ہے کہ بینک نوٹ کسی وجہ سے ہی چھپائے گئے ہیں اور اس کی کوئی معصومانہ وجہ نہیں ہے۔


ناجائز فائدے

کمیٹی نے خود ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی ’طلب کا یہ رجحان دوسری بڑی کرنسیوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔‘

یہ خاص طور پر ڈالر اور یورو پر اثر انداز ہوتا ہے، جنھیں پوری دنیا میں ریزرو کرنسیوں کے طور پر رکھا جاتا ہے۔

امریکی ڈالر کے کیس میں، صرف 15 فیصد کرنسی کا حساب ہی دیا جا سکتا ہے۔

یہ دونوں کرنسیاں جرائم پیشہ افراد کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہیں کیونکہ ان میں زیادہ مالیت والے نوٹ ہوتے ہیں جو آسانی سے سمگل کیے جا سکتے ہیں یا انھیں چھپا کے رکھنا آسان ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، ڈالر کے کسی نوٹ سے بھی زیادہ 100 ڈالر کے نوٹ موجود ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق ان کی 80 فیصد تعداد امریکہ سے باہر پڑی ہے۔

جہاں تک یورو کا تعلق ہے، فرینکفرٹ میں موجود یوروپیئن سینٹرل بینک نے 500 یورو کے نوٹ ختم کر دیے ہیں کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

تاہم 100 یورو اور 200 یورو کے نوٹ ابھی بھی پروڈکشن میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp