بی بی سی 100 ویمن: بینائی سے محروم ہوتی ایلِن ویلیئمز کا بلاگ جو ان کے لیے ’زندہ رہنے کا سہارا ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایلِن
Williams family
جب 12 برس کی عمر میں ایلِن ویلیئمز کی نظر کی شدید کمزوری یا ممکنہ طور پر نابینا ہونے کے تشخیص ہوئی تو انھوں نے انٹرنیٹ پر ایسے بچوں کی تلاش شروع کر دی جو ایسی ہی کیفیت سے دو چار تھے۔

انھیں بہت سے اعداد و شمار اور میڈیکل رپورٹس ملیں مگر اپنے جیسے مرض میں مبتلا افراد کو ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ 22 سالہ مصنفہ اور معذوروں کی بہبود کی داعی اس برس بی بی سی کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل ہیں۔

زیر نظر مضمون میں وہ بتاتی ہیں کہ بصارت سے محروم افراد کے لیے لکھا جانے والے بلاگ کس طرح ان کے خود ’زندہ رہنے کا سہارا‘ بنا:

’میری نظر اس کیمرے کی طرح ہے جو ہر وقت آؤٹ آف فوکس (دھندلایا) رہتا ہے۔ یہ کیفیت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تصویر کے گرد کالے دائرے بناتے ہوئے کیمرے کا شٹر آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھنے کا خدشہ‘

’میرا مشن یہ ہے کہ میں دنیا کا ہر ملک دیکھوں‘

نابینا افراد کو ٹیکنالوجی سِکھانے والا نابینا جوڑا

‘تم نابینا ہو، تم کچھ بھی نہیں کر سکتے’

میری بصارت کی خرابی کا سبب آنکھوں کی انحطاط پذیر وہ کیفیت ہے جو ریٹینائٹِس پِگمینٹوسا (آر پی) کہلاتی ہے، اور چھ برس کی عمر میں میرے اندر اس مرض کی تشخیص ہوئی تھی۔

پانچ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں کہ میں اپنا بلاگ ’مائی بلرڈ ورلڈ‘ یعنی ’میری دھندلی دنیا‘ لکھ رہی ہوں، جس کے اندر میں نے بصارت جاتے رہنے کے میرے جذبات اور خود اعتمادی پر اثرات، اور حسن اور فیشن کی صنعتوں تک میری رسائی کی اہمیت کے بارے میں ہر موضوع پر لکھا۔

میں نے ان غلطیوں کے بارے میں بھی لکھا ہے جنھیں میں ’نابینا لڑکی کے لمحات‘ کہتی ہوں، مثلاً وہ حادثے جو میری چھڑی کی وجہ سے پیش آئے، یا ہونٹوں پر لِپ گلوس کی جگہ کنسیلر لگانا وغیرہ۔

میں نے ان باتوں کو اس لیے موضوع بنایا کہ میں نہ صرف ان کے بارے میں مشتاق ہوں، بلکہ اس لیے بھی کہ جب میں بڑھی ہو رہی تھی تو میں ان سے فائدہ اٹھا سکتی تھی۔ اس سے مجھ یہ جاننے میں مدد ملتی کہ میں تنہا نہیں ہوں۔

اپنے بارے میں اتنا کھل کر لکھنے سے شاید آپ کو نہ لگے کہ میں اپنی کہانی سنانے کے بارے میں ہمیشہ سے اتنی پر اعتماد نہیں تھی۔

یہ بات شاید آپ کو ناقابل یقین لگے مگر لکھنا میرے لیے ’زندہ رہنے کا سہارا‘ بنا ہے، ایک ایسی چیز جس نے زیادہ بیباک ہونے میں مجھے مدد دی۔ اپنے بارے میں کھل کر بات کرنے سے پہلے میں اپنی روز مرہ زندگی میں بہت شرمیلی اور خود اعتمادی سے عاری تھی۔

ایلن کی خراب بصارت کا نمونہ

Williams family
ایلِن کی بیماری، ریٹیِنائٹس پِگمینٹوسا، کی وجہ سے انھیں اپنی اطراف کی دنیا کی بس دھندلی سی تصویریں دکھائی دیتی ہیں

لوگوں میں’سمونے‘ کی کوشش

میرا بچپن غیر یقینی سے بھرپور تھا کیونکہ میں نے خود کو ایک ایسی کیفیت میں پایا جسے میں پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتی تھی۔

جب پہلی بار میری تشخیص ہوئی تو میرے لیے یہ سمجھنا دشوار تھا کہ سب لوگوں کو دنیا میری طرح دھندلی نظر نہیں آتی۔

روز مرہ زندگی میں کسی کی مدد لینے پر مجھے جھنجھلاہٹ ہوتی تھی چاہے وہ ٹکنالوجی ہو یا انسان۔

میرے اپنی اس معذوری کو چھپانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ خود کو ارد گرد کے لوگوں میں ’سمو‘ سکوں۔ میں نے بریل اور ٹچ ٹائپ کرنا سیکھا۔ میں نے ہر تبدیلی کا کھلے دل سے نہیں خیرمقدم نہیں کیا البتہ اسے اپنانے کی پوری کوشش کی۔

لڑکپن کی دہلیز کو چھونے پر فیشن میں دلچسپی پیدا ہوئی، جس سے میرے اضطراب میں کچھ کمی واقع ہوئی، مجھے اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ملا جس میں مجھے مزا آنے لگا۔

میں نے اپنے کپڑوں کے بارے میں لا ابالی پن ختم کر دیا اور گھر سے نکلتے وقت اپنے لباس پر خاص دھیان دینے لگی۔

میں کوئی ٹرینڈ سیٹر یا رجحان ساز نہیں تھی، اس کے قریب بھی نہیں، لیکن اپنے لباس میں جدید سٹائل یا طرز اپنا کر مجھے خوشی ہوتی تھی۔ میں نے لباس، کپڑے کی قسم اور اس کے جسم پر محسوس ہونے خواص سے ایک بامعنی رشتہ پیدا کر لیا۔

فیشن بالعموم دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، مگر میرے لیے اس معنی زیادہ گہرے ہیں۔ یہ بات مجھے اچھی لگتی ہے کہ میں کسی چیز کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتی بلکہ اس نظر نہ آنے والے خواص کو سمجھتی ہوں۔

ایلن

Williams family

بریل سیکھنا - وہ بھی فرانسیسی میں

میرے جی سی ایس ای (میٹرک) امتحان سے کچھ ہی پہلے میری نظر تیزی سے خراب ہونے لگی۔ یہ بھی ابھی ہونا تھا۔ اور میرے میں اضطراب بڑھ گیا۔

میری لیے خصوصی طور پر تیار کردہ بڑی لکھائی کو اب میں نہیں دیکھ سکتی تھی، جس کا مطلب تھا کہ میں پہلی مرتبہ بریل میں امتحان دوں۔

اس سے میری مشکل میں مزید اضافہ ہوگیا۔ میں انگریزی اور ویلش زبانوں میں بریل پہلے ہی سیکھ چکی تھی، لیکن میں فرانسیسی بھی پڑھ رہی تھی۔ زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی لکھائی بریل میں سیکھنا کبھی کبھی بہت مشکل لگتا تھا۔

مگر بالآخر میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئی اور خود پر فخر کرنے لگی۔

یہ ایک اہم موڑ تھا۔ کامیابی کا حصول ایکدم سے ممکن ہو گیا۔

اسی دوران میں خراب ہوتی بصارت بھی میرے لیے سوہان روح تھی، میں مضطرب اور غمگین رہتی۔ میں نے ان جذبات کو ضبطِ تحریر میں لانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے، اور یوں میرے بلاگ تخلیق ہوا۔

ایلن

Williams family

میں اور بھی بہت کچھ ہوں

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جو میں کہنا چاہتی ہوں اسے کوئی پڑھے گا بھی، مگر مجھے وہ وقت یاد آتا تھا جب میں ایسی ہی کسی تحریر کے لیے انٹرنیٹ کھنگالتی تھی۔میں اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی ڈھارس بندھانی چاہتی تھی۔

میں نے اپنی زندگی کے بہت سے پہلو آن لائن شیئر کیے ہیں، میری پسندیدہ پوسٹس وہ ہیں جن میں زیادہ دیانت داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جن کے اندر کسی خیال کی ایسی صورت گری کی گئی ہے جس میں قدرے زیادہ گہرائی اور مقصدیت ہے۔ پچھلے سال میں نے ایک مضمون میں اپنے اس خوف کے بارے میں لکھا جو اس ظاہری دنیا کے اندر بصارت سے مکمل طور پر محروم ہو جانے کی وجہ سے لاحق ہے اور اپنی محسوسات کو ایک ایسے پیرائے میں بیان کیا جو پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

فیشن اور لائف سٹائل کے بارے میں لکھنے میں بڑا مزا آتا ہے، اور چونکہ نظر کی کمزوری کے باوجود یہ مجھے اپنی لگن اور شوق کے اظہار کا موقع دیتے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک نابینا شخص کے علاوہ بھی کچھ ہوں۔

جب میں نے بلاگ لکھنا شروع کیا تو اندازہ نہیں تھا کہ اتنے لوگ اسے پڑھیں گے اور شیئر کریں گے، مگر جو ردعمل مجھے ملا ہے اس سے یقیناً میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

میرے بچپنے کے لیے

میں اگر اپنے بچپن کو کوئی پیغام دینا چاہوں گی تو وہ یہ کہ نظر کی معذوری ایسی کوئی شے نہیں ہے جو زندگی میں آگے بڑھنے سے روکتی ہے، اگر آپ کو درست موافقتیں اور مدد حاصل ہے تو آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

آپ کے عزائم ایک معذوری سے کمزور نہیں پڑنے چاہییں۔ میری بصارت خراب ہو رہی ہوگی مگر میرا جذبہ اور عزم کبھی کمزور نہیں پڑے گا۔

دنیا میں اپنے مقصد کے حصول کے لیے ضروری نہیں کہ میں اسے دیکھ بھی سکوں۔

میرے خیال میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ معذور افراد انسان پہلے ہیں۔ ہماری معذوریاں ہماری زندگی کا ایک پہلو ہے، ہمارے مشاغل ہیں، دلچسپیاں ہیں، مقاصد اور عزائم ہیں، بالکل دوسرے لوگوں کی طرح۔

میں اسی کیفیت سے دو چار افراد کی بہبود کا کام، آگاہی میں اضافہ اور دوسری کی مدد کرتی رہوں گی۔ یہ واضح کہ تصنیف میری زندگی میں اہم مقام رکھتی ہے اور چاہوں گی کہ اسے ایک مکمل پیشے کے طور پر ترقی دوں۔

اس راہ میں بہت سی دشواریاں درپیش ہوں گی مگر میرا تجربہ بتایا ہے کہ وہ سب عبور ہونے کے لیے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18912 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp