سندھی ثقافت کا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

6 دسمبر: آج سندھ سمیت دنیا بھر میں سندھ کی 5 ہزار سالہ پرانی تہذیب ثقافت کا دن سندھی ٹوپی اجرک کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ سندھ کے باسی یہ دن قومی عید تہوار خوشی کے طور پر منا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زندہ و جاوید قومیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو کبھی بھی بھول نہیں پاتی۔ جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں۔ پاکستان میں چار صوبے ہیں، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے ساتھ پانچواں گلگت بلتستان، ان چاروں پانچوں کو ملائیں تو پاکستان کی تہذیب اور ثقافت کے رنگ خوبصورت گلدستہ بن جاتے ہیں۔

جس طرح پختون قوم کی تہذیب ثقافت اور الگ تاریخ ہے، اسی طرح بلوچ بھائیوں، سرائیکی بھائیوں اور پنجابیوں، ہزارہ کی الگ ثقافت، تہذیب و تاریخ ہے۔ ہر قوم اپنی تاریخ پر ناز کرتی ہے۔ کلچر پر فخر کرتی ہے اور اسے اپنانے کے لئے بے تاب ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج ہم پر پاکستانی تہذیب ثقافت کے بجائے مغربی تہذیب کلچر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کا ہم سندھی، پشتون، پنجابی اور بلوچ تہذیب کے ساتھ دور دور تک کا تعلق نہیں ہے۔

آج 6 دسمبر کو سندھ کی تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے دن منایا جا رہا ہے۔ سندھ کے ثقافت ڈے کے موقع پر سندھی اجرک و ٹوپی پہن کر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ دن 6 دسمبر کو سندھ سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔ سندھ صدیوں سے شاہکار ثقافت، تہذیب اور تاریخ رکھتی ہے۔ وادی مہران کی مہمان نوازی ملک سمیت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے، جو بھی سندھ میں آیا وہ اسی دھرتی کا دیوانہ بن کر رہ گیا۔ اس وقت بھی سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ملک کے کونے کونے، شہر شہر، سے آنے والے بلکہ بھارت، افغانستان، ایران، بنگلادیش، سمیت دیگر ممالک کے لوگ آپس میں پیار محبت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ اور ہر مشکل گھڑی میں مدد تک کرتے ہیں۔

ہزاروں برس سے سندھ دھرتی امن، محبت، پیار پریم کی دھرتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے سندھ کو صوفیا کرام، بزرگوں، ولیوں اور اللہ والوں کی دھرتی کہا جا تا ہے۔ جبکہ باب الاسلام کے درجہ کا بھی برصغیر میں سندھ کو اعزاز حاصل ہے۔ سندھ کے اصل باسیوں کا مزاج صوفیانہ، نرم و نازک، اور ملنے کے وقت احتراماً جھک کر ملنا۔ ہاتھ ملانے سے پہلے گلے ملنا۔ حال احوال اور طبیعت کے ساتھ گھر بال بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے ساتھ کھانا کھلانا شامل ہے۔

سادگی پسند اور کچہری کے مور بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی، لال قلندر شھباز، سچل سرمست سمیت دیگر بزرگان دین اور ان کے بڑے عرب سے ہجرت کر کے تبلیغ کی نیت سے سندھ میں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ سکھر کے قریب سکھر شکارپور روڈ پر اس وقت بھی ایک صحابی کی قبر مبارک موجود ہے۔ جہاں ملک بھر سے لوگ زیارت اور فاتحہ کرنے کے لئے آتے ہیں۔ 6 دسمبر کو ہر سال کی طرح اس سال بھی سندھ کی عظیم شاہکار ثقافت اجرک ٹوپی کا دن منایا جا رہا ہے۔

سندھ کے چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ نومبر کے مہینے کی ابتدا سے سرگرمیاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کلچرل پروگرام، سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ مگر اس سال تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہونے کی وجہ اس مرتبہ کوئی پروگرام تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔ کلچرل پروگرام میں صرف سندھی شامل نہیں ہوتے ہیں، بلکہ پختون، بلوچی، پنجابی، ہزارہ، کشمیری، سرائیکی مطلب پاکستان میں بسنے اور سندھ میں رہنے والا ہر فرد شرکت کرتا ہے۔

سندھی اجرک سندھ کی پانچ ہزار سال پرانی تاریخ، تہذیب ثقافت ہے، جس کے نشانات موہن جو دوڑو سے برآمد ہوئے تھے۔ اجرک سندھی چادر میں مختلف قسم کے رنگ ہوتے ہیں۔ یہ رنگ لال، ہرا، نیلا، کالا، سفید اور دیگر رنگ محبت، امن، پیار، پریم اور رواداری، بھائی چارے کے رنگ ہیں۔ اسی وجہ سے سندھی چادر اجرک کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مولانا محمد قاسمی صاحب سابق سندھ یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم صہ کو سندھ سے آئے ہوئے تاجروں نے ایک چادر تحفے کے طور پر نذر کی جو اجرک کی طرح تھی، آپؐ نے اس اجرک کو پسند فرمایا۔ یہی باتیں مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی بھی بیان کرتے ہیں، مولانا قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ آپ صہ نے سندھ کی طرف چہرہ اطہر فرما کر ارشاد فرمایا کہ مجھے سندھ کی طرف سے ٹھنڈی ہوا لگ رہی ہے۔

مورخین لکھتے ہیں کہ کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یزید کی فوج کو کہا تھا کہ مجھے چھوڑو میں سندھ چلا جاتا ہوں، یہ روایات تاریخ کی مختلف کتابوں میں درج ہیں۔ مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صہ کے دور میں دو یا دو سے زیادہ صحابہ کرام اسلام کی تبلیغ کرنے سندھ پہنچے تھے۔ اجرک کے ساتھ سندھی ٹوپی بھی منفرد مقام اور حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی سندھ کے بہت بڑے بزرگ عالم ہو کر گزرے ہیں، انہوں نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ٹوپی اسلامی ٹوپی ہے۔ یہ واحد ٹوپی ہے جس میں مسجد کا محراب بنا ہوا ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو آپ کو سجدہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ آپ کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ ٹوپی بھی تب ہی بنائی گئی تھی تاکہ پہننے کے ساتھ نماز میں بھی کام آ جائے۔ سندھ کے یہ دونوں تحائف سندھی اجرک اور ٹوپی نہ صرف سندھ میں مشہور ہیں۔ بلکہ ملک کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بھارت۔ بنگلہ دیش، افغانستان، چائنہ، ایران، سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک میں بہت مشہور ہے اور لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔

جس وقت کلچر ڈے سکھر، لاڑکانہ، نوابشاھھ، کراچی سے کشمور، دادو سے عمر کوٹ تک منایا جا رہا ہے۔ وہاں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ میں رہائش پذیر سندھی بھی اسے جوش و جذبہ کے ساتھ منا رہے ہیں۔ بلکہ ملک کے علاوہ دنیا بھر میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، ایران، امریکا، چائنہ، برطانیہ، کینیڈا، ملائشیا، دبئی سمیت دیگر ممالک میں سندھیوں نے یہ دن بھرپور نمونے سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور آج وہاں تقریبات کی جا رہی ہیں۔

سیاسی، سماجی، مذہبی، قومپرست، تاجروں شہریوں، سول سوسائٹی اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس دن کو سندھ کے قومی کاج عید کے دن خوشیوں کے تہوار کے طور پر منانے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ہزاروں لاکھوں لوگ اس دن کو سندھ کے دن تہذیب و ثقافت کا دن منا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ سندھ کی اس شاہکارثقافت اجرک ٹوپی کو اسکولوں میں یونیفارم میں تبدیل کر دیا جائے۔

دعا ہے کہ سندھ کی یہ عظیم شاہکار ثقافت تا قیامت قائم و دائم رہے آمین۔ ہمیں اپنی سندھی ثقافت تہذیب کے ساتھ پاکستان میں رہنے والے دیگر قوموں، سرائیکی، پنجابی، پشتون، براہوی، کشمیری، گلگتی، ہزارہ، بلوچی ثقافت اور تہذیب سے پیار کرنا چاہیے اور احترام کرنا چاہیے جب یہ ساری تہذیبیں، ثقافتیں ملتی ہیں تب پاکستانی تہذیب اور ثقافت بنتی ہے۔ ہمیں مغربی یورپی تہذیب کو نکال کر پختون، پنجابی، بلوچی اور سندھی ثقافت کو اپنانا پڑے گا اور یہی ہماری تہذیب ثقافت پاکستان کا حصہ ہے۔ سندھ سلامت پاکستان پائندہ باد۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).