دیپ جلتے رہے (قسط 27)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ٹرسٹ نے احمد نوید کو بلا کر تین لاکھ روپے کا چیک دیا اور ہم اتنے پیسوں میں فوراً ایک دور افتادہ جگہ پر ایک فلیٹ خرید کر شفٹ ہو گئے۔ یوں کرائے کے گھر سے نجات ملی۔ شہر سے دور اس گھر کے اپنے پن نے اشیائے ضرورت کی چیزوں کو دور اور مشکلات کو قریب کر دیا تھا۔ رکشہ، ٹیکسی، بس پکڑنے کے لیے بھی کافی پیدل چلنا پڑتا تھا۔
گھر کے قریب بچوں کو جس اسکول میں ایڈمیشن کرایا، وہاں پڑھنے والے بچے بھی عجیب لڑاکو قسم کے تھے۔ ہمیں کبھی اپنے گھر کی خواہش نہ رہی تھی۔ اپنے گھر سے زیادہ ارد گرد کا ماحول اور تحفظ کا احساس اہم ہے۔
انجکشن لگنے کی تاریخ بھی نزدیک آ رہی تھی، مگر تمام میڈیکل اسٹورز پر موڈیکیٹ ناپید ہو چکا تھا۔ ان کے سائکاٹرسٹ ڈاکٹر ایاز کو بتایا گیا تو انہوں نے متبادل انجکشن لکھ کر دیا۔ اس انجکشن کا نام کوشش کرنے پر بھی یاد نہیں آ رہا لیکن آخر میں ہزار کا ہند سہ یاد رہ گیا۔ انجکشن کی شیشی میں لپٹے پرچے کو حسب عادت کھول کر پڑھا تو اس انجکشن کے زیر استعمال مریض کی حالت میں تغیر کے بہت سے امکانات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہزار میں سے کسی ایک مریض کے اندر اس انجکشن کا رد عمل زبان میں تشنج کی سی کیفیت، ٹانگوں میں لڑکھڑاہٹ اور تیز بخار کی صورت بھی پایا گیا ہے۔ انجکشن کی مقررہ تاریخ گزرنے لگے تو احمد کے مزاج میں جھنجھلاہٹ آ جاتی ہے۔ اسی زمانے میں انہیں چکوال سے منقبت کی محفل میں پڑھنے کی دعوت آ گئی۔ ہم نے سوچا چکوالی مصیبت میں آ جائیں گے، پھر ڈاکٹر کی تجربہ کاری پر بھی بھروسا تھا۔ سو انہیں انجکشن لگوا دیا گیا۔ اور اگلے روز یہ روانہ ہو گئے۔
اس وقت موبائل خاص و عام کی دسترس میں آچکے تھے۔ ان کے پاس بھی موبائل تھا۔ مگر جانے کیا بات تھی۔ رابطہ نہ ہو پایا، تین چار دن گزرنے کے بعد واپس آئے تو بدن پر جیسے گوشت غائب ہو چکا تھا۔ ضعف اور لاغری کا سبب پوچھنے پر روداد سنائی کہ، اسٹیشن پر اترے تو میزبان گاڑی لیے استقبال کو موجود تھے۔ گاڑی منزل کی طرف روانہ ہوئی تو انجکشن کے متوقع، مضر امکانی اثرات نے اپنا رنگ دکھا نا شروع کر دیا بدن پر کپکپاہٹ طاری اور زبان ٹیڑھی ہو گئی، کچھ بول نہیں پا رہے تھے۔
ہم یہ سوچ کر آج بھی وحشت زدہ ہو جاتے ہیں کہ اگر یہ سب ٹرین میں ہوا ہوتا تو کوئی پرسان حال بھی نہ ہوتا۔ میزبان نے انہیں مختلف مشروبات پلا کر طبیعت بحال کرنے کی کوشش کی۔ گھر لے جا کر انہوں نے انہیں اپنے فیملی ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا۔ اگلے ہی دن، رات کو ان کے ہاں منقبت کی محفل تھی۔ میزبانوں کو ان کی طبیعت کے ساتھ اپنی محفل کی بھی فکر تھی۔ روایتی طور پر پمفلٹ، دعوت نامے بٹ چکے تھے۔ اہم جگہوں پر بینرز آویزاں تھے۔
جن میں جلی حروف میں شاعر اہل بیت میر احمد نوید کی خصوصی شرکت اور کلام پڑھنے کی نوید درج تھی۔ مومن بے تیغ سہی مگر بالسان تو ہو، یہاں لڑکھڑاتی زبان محفل کے انہدام کا باعث بن سکتی تھی۔ مجذوب کی بڑبڑاہٹ دور کرنے کے لیے دیسی، حکیمی ٹوٹکے اور طبی نسخے آزمائے جس کا نتیجہ بہر طور یہ نکلا کہ اگلے روز شام تک زبان اور حالت ذرا قابو میں آئی تو انہیں اسٹیج پر بٹھا دیا گیا۔
اسٹیج سے حاضرین کی ایک بڑی تعداد پر نظر پڑی جو اپنے محبوب شاعر کو سننے کے شائق تھے۔ اپنی ساری حسیات اور بچی کھچی توانائی کو مجتمع کر کے دل ہی دل میں مشکل کشا سے مدد طلب کی۔ جب نام لے کر پکارا گیا اور مائک سنبھالنے کی دعوت دی گئی تو طالب مشکل کشائی کی مراد بر آئی۔ مولا کی شان میں بنا اٹکے تمام فرمائشی مناقب پڑھ ڈالیں۔
محفل کے اختتام پر حالت پھر ردی ہو گئی۔ بہرحال مدعا بر آیا تھا، میزبان کی محفل اور مہمان کی جیب اس کشاکش میں گرم ہو چلی تھی۔ چکوال کے بعد اسلام آباد میں پڑھنا تھا۔ بیوی کے ہاتھ پر پیسے رکھنے کا تصور، زبان اور بدن کو تقویت دینے کے لیے کافی تھا۔ سو مشکل کشا نے یہاں بھی مدد کی۔
ان کی مختصر داستان سن کر عجیب کیفیت ہو گئی۔ یہ تو طے تھا کہ اب یہ انجکشن کسی صورت نہیں لگے گا، مگر موڈیکیٹ بھی دستیاب نہیں تھا۔ ڈاکٹر ایاز نے ایک اور انجکشن تجویز کیا، لیکن مضر اثرات کے خوف کے سبب ہم بھی ڈر رہے تھے۔ کچھ دن بعد اصرار بڑھنے لگا کہ کراچی چھوڑ دیتے ہیں اور پنجاب شفٹ ہو جاتے ہیں۔ وہاں شاعر اہل بیت کی زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ قدر کا ایک مطلب وقعت بھی ہے۔ اور معاشیات کی رو سے قوت تبادلہ، لیکن ہم قدر، عزت، توقیر کو ہمیشہ پیسوں کے معنوں میں لیتے ہیں۔ بہت سی ضرب المثال اور کہاوتیں دماغ میں آئیں سفر وسیلۂ ظفر، حرکت میں برکت ہے وغیرہ ظفر اور برکت دونوں الفاظ کا لحن خوش کن ہے۔
دل کی تسلی کے لیے ان سے بھی وضاحت چاہی تو انہوں نے پورے وثوق اور جھلاہٹ سے ’ہاں بھئی ہاں” کہہ کر سگریٹ سلگا لی۔ پنجاب میں قرعہ فال پنڈی کے نام نکلا۔ وجہ وہی کہ کراچی کے دوستوں کی دل برداشتگی اب سہی نہیں جاتی۔ پنجاب کی سر زمین اس صنعتی، مشینی شہر سے اچھی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہنسی اور دل کی لگی میں میکانیت نہیں، زندگی مشینی نہیں۔ گھر اور دل کے دروازے، دفتری اوقات کی طرح پابند نہیں۔ رکھ رکھاؤ اور سلیقہ بچوں کے موڈ کی مانند ہے۔ اور یہ کہ پنجاب کے لوگ ہی ایک شاعر کو عزت دے سکتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں بھی کئی ایسے شعرا کے نام کوندے جن کی شہرت کو پنجاب کی فضا اڑان بخشی۔ مگر اس خیال سے زیادہ ہمارے دل میں گھر کی خوش حالی نے گھر کیا۔
ادھر انہوں نے پنڈی اسلام آباد کے دوستوں سے کہہ دیا کہ اسباب سمٹنے کو ہے۔ اسباب میں لاتعداد کتابیں تھیں۔ بے شمار کتابیں بانٹ دی گئیں، اہم کتابیں کے دس پندرہ بڑے پیکٹوں میں رکھ کر باندھی گئیں۔ باقی ہلکے سامان کو بھی پیک کیا گیا۔ بھاری سامان ادھر ادھر دے دیا گیا، کہ نئے شہر میں خرید لیں گے۔

تینوں بچے جانے کیوں خوش تھے۔ لیکن جس روز ان کی اپنے دوستوں سے الوداعی ملاقات تھی، اس روز دونوں بڑے بچے، آنکھیں لال کیے چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تب دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔ لیکن احمد بہت خوش تھے۔ ان کی خوشی دیکھتے ہوئے گمان غالب تھا کہ شاید حرکت وسیلۂ برکت ہو نا ہو، سیمابی کیفیت اور بے وجہ اداسی کو ہی قرار نصیب ہو سکے۔

اس زمانے میں میری بہن شفو بھی پنڈی میں رہتی تھی، اس سے کہہ دیا گیا کہ اپنے آس پاس کوئی کرائے کا مکان تلاش کرے۔ کرائے کے مکان یہ تبدیلی کوئی چھبیسویں مرتبہ ہو رہی تھی۔ پنڈی میں پہلا پڑاؤ شفو کے گھر ہی پڑا، اس نے ہمارے لیے ایک گھر دیکھ رکھا تھا، دوسرے دن شام کو گھر سے مطمئن ہو نے کے بعد مالک مکان سے بات کی، زبانی کلامی کارروائی کے بعد ہم مکان میں شفٹ ہو گئے۔ سب سے پہلا کام بچوں کا اسکول میں داخلہ تھا۔ گھر سے نزدیک ہی ایک اسکول کی تعریف سنی تو وہاں بچوں کا ایڈمیشن کروا دیا گیا۔

احمد کے شفٹ ہونے کی اطلاع پنڈی اور قرب و جوار کے علاقوں میں احمد کے دوستوں اور مداحوں کو ہو چکی تھی۔ چنانچہ انہیں تو دھر لیا گیا اور یہ بھی غائب ہو گئے۔ تمام امور تنہا انجام دینے کا تجربہ تھا۔ سب سے پہلے کچن سیٹ کیا گیا۔ پنڈی میں ایک جگہ شفو نے دکھائی جہاں سیکنڈ ہینڈ سامان ملتا تھا۔ وہاں سے دو گدے خرید کر ڈال دیے گئے۔ چہرہ اور سراپا دیکھنے کو قد آدم آئینہ آویزاں کر دیا گیا۔ سو بخیر و خوبی کمرہ اور ڈرائنگ روم سیٹ کر دیا گیا۔ اب باری تھی کتابوں کو ڈبوں سے نکال کر سیٹ کرنے کی، یہ سب سے تھکا دینے ولا کام لگتا ہے۔ تین دن میں یہ کام بھی نبٹ گیا۔

احمد کے ایک دوست اچھے عہدے پر تھے اور اثر و رسوخ رکھتے تھے انہیں کسی نجی اسکول یا کالج کے لیے اپنی سی وی تھمائی تو فرمایا، یہ متاثر کن نہیں ہے اپنی سارے تجربے اور صلاحیتیں تفصیل سے لکھیں۔ ہم نے بہتیرا کہا کہ تعلیمی اداروں میں انٹرویو اور ڈیمو سے ہی فیصلہ کر لیا جا تا ہے۔ سرکردہ لوگوں کو اس سے کیا مطلب کہ استاد متعلقہ مضمون پر دسترس، تدریسی امور سے واقفیت اور انداز تدریس کی ہی جانچ کرتے ہیں۔ پانچ چھ صفحات کی سی وی تیار کر کے ان کے حوالے کی گئی۔ عام طور پر گرما کی تعطیلات میں نئے سیشن سے پہلے اساتذہ کی تقرریاں عمل میں آجاتی ہیں۔ اس لیے کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔
پنڈی میں بھی ان کا معمول نہ بدلا۔ گھر سے جانے اور آنے کے اوقات مقرر نہیں تھے۔ کبھی رات ایک بجے تو کبھی صبح پانچ بجے کسی عقیدت مند کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ وہ اپنی دھن میں بلند آواز سییڑھیوں پر کبھی نوحہ، کبھی منقبت پڑھتا ہوا آتا تھا۔ مالک مکان کی فیملی نیچے رہتی تھی۔ ایک روز مالکہ مکان ہمارے پاس آئیں اور کہنے لگیں۔
ہم نے تو آپ کو سنی سمجھ کر مکان کرائے پر دیا تھا لیکن آپ لوگ تو شیعہ ہیں۔ ہم شیعوں کو مکان نہیں دیتے، آپ مکان خالی کردیں۔
جس بد تمیزی سے کہا گیا تھا اس کی وجہ سے ہم نے انہیں کوئی وضاحت یا در خواست کرنی مناسب نہیں سمجھی۔ صرف اتنا کہا کہ کہ ہم اگلے مہنیے خالی کر دیں گے۔ کہنے لگیں اگلے مہینے نہیں اسی پہلی کو، اورپ ہلی میں پانچ دن تھے۔ ہم نے غصے سے انہیں دیکھا اور اوکے کہہ کر بیرونی دروازے کی طرف بڑھے اور انہیں گزارنے کے لیے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیے۔ انہوں نے غصے سے ہماری طرف دیکھا اور نیچے اتر گئیں۔

جاری ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •