دیپ جلتے رہے قسط (28)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمیں معلوم تھا کہ احمد کا جنم جس گھرانے میں ہوا ہے۔ وہ شیعہ فرقے سے ہے۔ جانتے بوجھتے ہم نے شادی کی تھی، اس لیے ہمیں اپنی کرنی کی سزا قبول تھی۔ لیکن ان کا کیا، اگر انہیں ماں کے پیٹ میں ہی دیکھنے، پڑھنے، سوچنے، لب کھولنے، قدم اٹھانے اور سانس لینے کی شرائط بتا دی جا تیں تو زندہ رہ کر دم گھٹنے سے ماں کے پیٹ میں ہی دم دینا پسند کرتے۔ ہمارے کردہ اور ان کے ناکردہ جرم کی سزا اب بھگتنی ہی تھی۔

خود ہوئے ہیں اسیر لیل و نہار
خواہش مہر و ماہ خود کی ہے

حرکت میں برکت کا فارمولہ اچھا ہے پرغلط وقت میں غلط فیصلے کیے جائیں تو قدرت عذاب سے دوچار کرتی ہے، اور عذاب دینے کے لیے کچھ لوگوں کو ہی مامور کیا گیا ہے۔ جن کی پکڑ ہو جائے تو الزام شیطان پر اور پکڑ نہ ہو تو اللہ کی عطا کہہ کر چہرے پر ہاتھ پھیر لیا جا تا ہے۔

اسی روز مکان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے سوچا اب مکان لیتے وقت صا ف بتا دیں گے کہ ہم شیعہ ہیں۔ سو ہمیں بھی صاف جواب ملا کہ ہم شیعوں کو گھر نہیں دیتے۔ کسی نے ایک گھر بتا یا جو عنقریب خالی ہونے والا تھا۔ گھر کی اوپری منزل پر علم لگا ہوا تھا۔ ہم خوش ہو گئے۔

انہوں نے ہم سے ہمارے فرقے کے بارے میں پوچھا ہم نے خوش ہو کر بتا یا۔
کہنے لگے ہم شیعوں کو مکان نہیں دیتے۔
مگر آپ لوگ بھی تو شیعہ ہیں؟ ہم نے سوالیہ انداز سے کہا
سال میں چار مجلسیں ہم کرتے ہیں، آپ بھی کریں گے۔ نہیں بھئی ہم اتنی گہما گہمی برداشت نہیں کر سکتے۔

ایک مکان ہمیں پسند آیا۔ نہ انہوں نے کچھ پوچھا نہ ہم نے بتایا، سوچا پوچھیں گے تو کہہ دیں گے سنی ہیں۔ اور آنے جانے والے عقیدت مندوں کو بھی بے وقت کی راگنی سے منع کریں گے۔

ایسے وقت میں جب کہ کام پھیلا ہوا ہو، ان کا دور ہو کر سمٹ جانا ہمارے مفاد میں ہوا کرتا ہے۔ شفٹنگ والے روز، انہوں نے یوں ہماری بڑی مدد کی کہ اپنے ایک عزیز دوست صفدر ڈوگر صاحب، جو پنڈی میں رہتے تھے، کے ہاں چلے گئے۔ لیکن وہاں جا کر بھی اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہوئے اور فون پر سامان کے پیک ہونے، ٹرک پر چڑھانے اور دوسرے گھر میں منتقل ہونے کی بڑی مشقت سے رپورٹ لیتے رہے۔ پھر ہمارے خیال سے کہ ہم ڈسٹرب نہ ہوں، وہیں سے اپنے مداحوں کے ہاں چلے گئے۔ اور دوسرے روز نئے مکان میں قدم رنجہ فرمایا۔ ایک نظر بکھرے ہوئے سامان پر ڈالی، مگر بہت سے کام انہوں نے پوری ذمے داری سے بھی نمٹائے تھے۔

جنون و وحشت و آوارگی و ہجر و وصال
جو کام تھے مرے ذمے وہ کر کے آ رہا ہوں

پانچ چھ روز بعد گھر سمٹا تو صفدر ڈوگر صاحب ہم سے ملنے آ موجود ہوئے۔ (بلکہ یوں کہیے کہ اپنے رسالے کے لیے انٹرویو لینے)

سہیل وڑائچ ٹائپ سوالات پوچھے، کہ ایک کل وقتی شاعر اورمتنوع مزاج کے حامل شخص کے ساتھ گزر بسر میں مشکل تو ہوتی ہو گی۔

جس روز آپ مکان شفٹ کر رہی تھیں۔ یہ اطمینان سے ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں کس قسم کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ آپ کے لیے تن تنہا ایسے کام، مشکلات تو پیش آتی ہوں گی۔

ہم نے انہیں اطمینان دلایا۔ کہ کام کے وقت ان کی غیر موجودگی ہمارے بہت سے کاموں میں معاون ہے۔ پھر یہ کہ حساس اور نازک طبع شاعرجو ہمیں پہلے ہی باور کراچکا ہے

بار ہفت افلاک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے
زلف سے کہنا کہ آہستہ سر شانہ کھلے

اکتوبر کا مہینہ تھا۔ پنڈی میں موسم اتنا ہی سرد تھا جتنا دسمبر کے اختتام پر کراچی میں ہوا کرتا ہے۔ ہمارے حسا ب سے کڑاکے کی سردی تھی۔ اس لیے چھتوں پر پنکھے بھی نہ لگوائے۔ کرائے داری کے سارے معاملات بیس اکیس سال کی لڑکی نے طے کیے۔ اس کی ماں کا انتقال ہو چکا تھا۔ دو تین مکانات سیاحوں کے قیام کے لیے، مری میں تھے۔ جن کے معاملات اس کا باپ دیکھا کرتا۔ وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کی تربیت اور نگہداشت کر رہی تھی۔ اسے اپنی پڑھائی کے ساتھ سجنے سنورنے کا بے حد شوق تھا۔ دونوں بھائیوں کو اسکول بھیج دیتی۔ اور بن سنور کر اپنے کزن کا انتظار کرنے لگتی۔

جہاں محبت نے دل گداز کیے ہوں وہاں فرقہ ورانہ نفرت کے پنپنے کو ماحول سازگار نہیں ہوا کرتا۔ اطمینان ہوا کہ یہاں سے بے آبروہو کر نکالے نہ جائیں گے۔

کراچی میں ہم نے فون پر ڈاکٹر کے تجویز کردہ انجیکشن کے مضر اثرات بتائے تھے تب انہوں نے فلو کیٹ کامشورہ دیا تھا۔ اس وقت نزدیک میڈیکل اسٹور پرصرف ایک ہی فلوکیٹ دستیاب ہو سکا تھا۔

ان کے سونے جاگنے، اور گھر میں موجودگی کے اوقات میں یوں بھی تلاطم رہتا ہے۔ کب سوئیں گے، کب جاگیں گے، کب گھر سے نکلیں گے اور کب آ موجود ہوں گے اس کے بارے میں تیس سال گزارنے کے باوجود ہمارے سارے اندازے ہمیشہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اب بچے بڑے ہیں بے چوں و چرا ان کے ساتھ جا کر انجکشن لگوا لیتے ہیں۔ لیکن تب ایسا نہیں تھا۔ مقررہ تاریخ پر انجکشن لگوا دینا بھی ہمارے لیے مہم جیسا تھا۔ مقررہ تاریخ سے پہلے ہی ہم اس مہم میں سر گرم عمل ہو جایا کرتے۔

کراچی میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ہر قسم کی دوا مل جاتی ہے۔ خاص طور پر خواتین کو تو دے ہی دیا کرتے ہیں۔ البتہ بچوں اور جوان لڑکوں کو کچھ میڈیکل اسٹور مخصوص دوائیں دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ایاز سے اکثر فون پر ہی مشورہ لے لیا کرتے تھے اس لیے ان کا کوئی نسخہ ہمارے پاس موجود نہیں تھا۔ پہلے مرحلے میں کسی طرح بغیر نسخے کے فلوکیٹ ملا تو کوئی ڈاکٹر یا کمپوڈر اسے لگانے پر آمادہ نہ ہوا۔ اب اس ساری کشاکش میں ان کے مزاج میں تیزی آنے لگی۔

بے تکان بولنا، گنگنانا، بلاوجہ قہقہہ لگانا، پھر آزردگی بڑھنے کے ساتھ غصہ بڑھنے لگا چار پانچ دن میں ان کے رویے میں شدت آ گئی۔ ان کے سیدھے سادے معتقدین ان کی حالت سے بے نیاز ان کے ہر رد عمل کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ کیوں کہ اب یہ بہت زیادہ شیعہ ہو گئے تھے۔ معتقدین انہیں مزاروں پر لیے گھومتے۔

بات بے بات گریہ ناکی حد سے بڑھی تو سچے کربلائی کے مریدوں میں مزید اضافہ ہوا۔ لوگ ان سے دعائیں کروانے لگے ان کی ڈانٹ پھٹکار مریدوں کے واسطے ہدایت ٹھہری۔ غصہ بابا جی کا جلال سمجھا گیا۔ گھر میں اور خاص طور پر بیوی کے سامنے مرد یوں بھی اپنے ہر طرح کے برتاؤ میں خود کو مکمل آزاد سمجھتا ہے۔ سو وحشت اور خواہش کا اظہار، حق سے اور ببانگ دہل کرتا ہے۔ جتنے دیندار ہوئے جاتے تھے، ہماری پریشانیاں بڑھتی چلی جاتی تھیں۔ جب ان کے کسی معقد خاص سے ہم اپنے شبہات کا اظہار کرتے وہ ہمیں حیرت سے دیکھتے او ر کوئی ایک طنز بھی کر دیتا کہ بابا جی کو مولا کے در سے قلندری اور عبادت عطا ہوئی ہے۔ اور بھابھی جی شکر گزاری کے بجائے اسے دماغی خلل سمجھ رہی ہیں۔

خیر بہنوئی نے اپنے تعلقات استعمال کیے اور ایک روز انہیں انجکشن لگ ہی گیا۔ لیکن مزاج میں غصہ جیسے بیٹھ گیا تھا۔ بڑا بیٹا بے حد حساس ہے۔ باپ کا حد سے بڑا ہوا غصہ دیکھ کر دبک جاتا تھا۔ اور جب وہ اپنی ماں کے ساتھ ان کی بد سلوکی دیکھتا توبھرائی ہوئی آواز میں صرف اتنا کہتا۔ امی آپ بابا کو چھوڑ دیں۔

تب ماں کہتی بیٹا بابا مشکل میں ہیں، وہ آپ کے بابا ضرور ہیں پر میرے دوست بھی ہیں۔ دوستوں کو مشکل میں نہیں چھوڑا جاتا۔ منجھلا بیٹا کسی مصلحت کا قائل نہیں۔ ایک رات جب غصے میں اس کے باپ نے اس کی ماں کو گلے سے پکڑ کر دیوار سے لگایا اور اس پر ہاتھ اٹھانے ہی والا تھا۔ کہ اس نے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور پوری قوت سے چلایا ”بابا“

رات کی خاموشی میں پندرہ سال کے بچے کی کرخت آواز کی گونج کمرے سے نکل کر جانے کتنی دور گئی ہوگی، اس روز ماں کو پہلی بار محسوس ہوا کہ جیسے اس کے گرد قدرت نے ایک مضبوط حصار کھینچ دیا ہے۔ ایک مرد ہی مرد کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اگر اپنا ہی خون للکارے تو جنون آپ زنجیر ہو جا تا ہے۔

(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •