چین کے صوبہ سنکیانگ میں کپاس کے کھیتوں میں اویغوروں سے جبری مشقت کا انکشاف

جون سڈورتھ - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنکیانگ میں کپاس کے کھیت
BBC
بی بی سی کے سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق چین اپنے مغربی علاقے سنکیانگ میں کپاس کے وسیع کھیتوں میں لاکھوں اویغوروں اور دیگر اقلیتوں کو سخت دستی مزدوری پر مجبور کر رہا ہے۔

حال ہی میں آن لائن دریافت ہونے والے دستاویزات، ایک ایسی فصل کو چننے میں جبری مشقت کے ممکنہ پیمانے کی پہلی واضح تصویر مہیا کرتی ہیں، جو دنیا میں روئی کی فراہمی کا پانچواں حصہ ہے اور پوری دنیا میں فیشن کی صنعت میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔

نظربند کیمپوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے ساتھ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے یہاں دس لاکھ سے زائد افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے، اقلیتی گروہوں کو ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کرنے کے الزامات کے دستاویزات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔

چینی حکومت ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ یہ کیمپ ’پیشہ ورانہ تربیتی سکول‘ ہیں جبکہ فیکٹریاں بڑے پیمانے پر اور رضاکارانہ طور پر ’غربت کے خاتمے‘ کی سکیم کا حصہ ہیں۔

لیکن نئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ایک برس میں پچاس لاکھ اقلیتی کارکن، ان حالات میں کپاس کی چنائی کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اویغور مسلمانوں کے لیے ’سوچ کی تبدیلی‘ کے مراکز

چین: کیمپوں میں اویغوروں کو ’برین واش‘ کیسے کیا جاتا ہے؟

اویغور ماڈل کی ویڈیو جس نے چین کے حراستی مراکز کا پول کھول دیا

واشنگٹن میں وکٹمز آف کمیونزم میموریل فاؤنڈیشن کے سینئر فیلو اور ان دستاویزات کو سامنے لانے والے ڈاکٹر ایڈریئن زینز نے بی بی سی کو بتایا: ’میری نظر میں اس کے مضمرات واقعی ایک تاریخی پیمانے پر ہیں۔‘

’پہلی بار ہمارے پاس نہ صرف اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اویغوروں سے کپڑوں کی تیاری میں جبری مشقت کرائی جا رہی ہے بلکہ یہ براہ راست کپاس کی چنائی کے بارے میں بھی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ گیم چینجر ہے۔‘

’کوئی بھی شخص جو اخلاقیات کی پرواہ کرتا ہے اسے سنکیانگ کو دیکھنا ہو گا جو چین میں کپاس کا 85 فیصد اور دنیا بھر میں کپاس کا 20 فیصد مہیا کرتا ہے، اور کہنا چاہیے کہ اب ہم ایسا نہیں کر سکتے۔‘

کپاس کی چنائی

BBC

منظر 1 - دستاویزات کی سلائیڈز

یہ دستاویزات، جو کہ آن لائن سرکاری پالیسی اور سرکاری خبروں کا مجموعہ ہیں، سے پتہ چلتا ہے کہ اکسو اور ہوٹن کے صوبوں نے سنہ 2018 میں سنکیانگ کنسٹرکشن اینڈ پروڈکشن کورپس کے نام سے ایک چینی نیم فوجی تنظیم میں کپاس کی چنائی کے لیے 210،000 کارکنوں کو ’لیبر ٹرانسفر‘ کے ذریعہ بھیجا۔

اس سال اکسو نے اپنے کھیتوں کے لیے 142،700 کارکنوں کی ضرورت کی نشاندہی کی جو بڑے پیمانے پر ’سب کو منتقل کیا جانا چاہیے‘ کے منتقلی کے اصول کے ذریعے پورا کیا گیا۔

چنائی کرنے والوں کو ’غیر قانونی مذہبی سرگرمیوں کی شعوری طور پر مزاحمت‘ کی ’رہنمائی‘ کرنے کے حوالے سے اشارہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ پالیسیاں بنیادی طور پر سنکیانگ کے ایغوروں اور دیگر روایتی مسلم گروہوں کے لیے تیار کی گئیں ہیں۔

سرکاری اہلکار سب سے پہلے کپاس کے کھیتوں کے ساتھ ’ارادے کے معاہدوں‘ پر دستخط کرتے ہیں، جس میں ’مزدوروں کی تعداد، مقام، رہائش اور اجرت‘ کا تعین کیا جاتا ہے، جس کے بعد چنائی کرنے والوں کو ’جوش و جذبے سے سائن اپ‘ کرنے کے لیے متحرک کیا جاتا ہے۔

اس بارے میں کئی اشارے ملتے ہیں کہ یہ جوش و جذبہ پورے دل سے نہیں ہوتا۔ ایک رپورٹ میں ایک گاؤں کے بارے میں بتایا گیا ہے جہاں لوگ ’زراعت میں کام کرنے کو تیار نہیں‘ تھے۔

عہدیداروں کو ’تعلیمی کام‘ کے لیے دوبارہ جانا پڑا اور آخرکار 20 افراد کو روانہ کردیا گیا جبکہ مزید 60 کو ’برآمد‘ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

کیمپ اور فیکٹریاں

چین ایک طویل عرصے سے اپنے غریب دیہی علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی کرتا رہا ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا بتایا جاتا ہے۔

صدر شی جن پنگ کی اس سب سے اہم اندرونی سیاسی ترجیح کا مقصد یہ ہے کہ اگلے سال کمیونسٹ پارٹی کی صد سالہ تقریب کے موقع تک غربت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

لیکن سنکیانگ میں اس سے کہیں زیادہ سیاسی مقصد اور بہت زیادہ کنٹرول کے شواہد موجود ہیں اور اسی طرح بڑے پیمانے پر اہداف اور کوٹہ بھی ہے جن پر پورا اترنے کے لیے حکام پر دباؤ ہے۔

اس خطے کے بارے میں چین کے نظریے میں ایک واضح تبدیلی کا علم سنہ 2013 میں بیجنگ میں راہگیروں اور مسافروں اور سنہ 2014 میں کنمنگ شہر پر ہونے والے دو وحشیانہ حملوں سے لگایا جاسکتا ہے، جس کا الزام چین نے اویغور اسلام پسندوں اور علیحدگی پسندوں پر لگایا تھا۔

اس کے جواب میں، سنہ 2016 کے بعد سے ’دوبارہ تعلیم‘ کے کیمپوں کی تعمیر کو دیکھا گیا جن میں ایسے افراد کو رکھا جاتا ہے جن کے کسی رویئے کو عدم اعتماد کی ممکنہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جیسے کہ فون پر خفیہ میسجنگ ایپ کو انسٹال کرنا، مذہبی مواد کو دیکھنا یا بیرون ملک کسی رشتہ دار کا ہونا۔

اگرچہ چین انھیں ’انتہا پسندی کے خاتمے کے سکول‘ قرار دیتا ہے لیکن اس کے اپنے ریکارڈ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ ایک قید خانہ ہے جس کا مقصد پرانے عقائد اور ثقافت رکھنے والے افراد کو کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ وفاداری میں تبدیل کرنا ہے۔

سنہ 2018 سے صنعتی توسیع کا بڑا منصوبہ جاری ہے جس میں سینکڑوں فیکٹریوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

بڑے پیمانے پر ملازمت اور بڑے پیمانے پر حراست میں رکھنے کا متوازی مقصد کیمپوں کے اندر یا ان کے قریب موجود بہت سی فیکٹریوں کی ظاہری حالت سے واضح ہوتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ اسے کام کی بدولت سنکیانگ کی اقلیتوں کے ’فرسودہ نظریات‘ کو تبدیل کرنے اور جدید، سیکولر، اجرت سے کمانے والے چینی شہریوں میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

کوقا شہر

BBC

منظر 2۔ کیمپ اور فیکٹری کے گرافکس

بی بی سی نے کوقا شہر میں ایک ایسی سہولت گاہ کا دورہ کرنے کی کوشش کی، جسے آزاد محققین نے دوبارہ تعلیم کے کیمپ کے طور پر شناخت کیا تھا۔

2017 میں تعمیر کردہ اس کیمپ کی سیٹیلائٹ تصاویر میں اندرونی سیکورٹی کی دیواریں دکھائی دیتی ہیں اور ایک گارڈ ٹاور دکھائی دیتا ہے۔

سنہ 2018 میں اس کے ساتھ ایک بالکل نئی فیکٹری نمودار ہوتی ہے۔ تعمیر مکمل ہونے کے فوراً بعد سیٹلائٹ نے کچھ اہم عکس بند کیا۔

آزاد تجزیہ کار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بڑح تعداد میں لوگوں کو، بظاہر تمام ایک ہی رنگ کا یونیفارم پہنے ہوئے، دونوں مقامات کے درمیان چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جب متعدد گاڑیاں ہمارا پیچھا کر رہی تھیں تو ہم نے اس کمپلیکس کی ویڈیو بنائی۔

ایسا لگتا ہے کہ فیکٹری اور کیمپ کو اب ایک بڑے فیکٹری کمپلیکس میں یکجا کر دیا گیا ہے، جس میں غربت کے خلاف مہم کے فوائد کو بڑھاوا دینے کے پروپیگنڈے نعرے درج ہیں۔

کافی دن پہلے ہی ہمیں فلم بندی سے روک دیا گیا اور یہاں سے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

مقامی سرکاری میڈیا کے مطابق ٹیکسٹائل فیکٹری میں 3000 افراد ’حکومتی تنظیم‘ کے تحت ملازمت کرتے ہیں۔

لیکن اس بات کی تصدیق کرنا ناممکن ہے کہ سیٹلائٹ تصویر میں موجود لوگ کون ہیں یا ان کے حالات کیا ہیں۔

اس فیکٹری کو بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔

سنکیانگ میں ہم نے جتنا وقت بھی گزارا، اس دوران پولیس، مقامی پروپیگنڈہ عہدیداروں اور دیگر افراد کے ذریعہ ہمیں بار بار فلم بندی سے روکا جاتا رہا اور اس کے بعد سینکڑوں کلومیٹر تک نامعلوم افراد کے بڑے گروہوں نے بغیر نشان والی گاڑیوں میں ہمارا پیچھا کیا۔

‘گہری جڑوں والی سست سوچ’

بی بی سی کی ٹیم کا پیچھا کرتی گاڑیاں

BBC
بی بی سی کی ٹیم کا پیچھا کرتی گاڑیاں

کیمپوں اور کارخانوں کے درمیان رابطے کے باوجود، زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنھیں حراست میں نہیں لیا گیا اور وہ سنکیانگ کی غربت مٹانے کی مہم کا اصل ہدف ہیں، اس گروپ کو سکیورٹی کے لیے کم خطرہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

کھیتی باڑی یا گلہ بانی کرنے والے غریب خاندانوں سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو کام کے لیے متحرک کیا گیا ہے جن میں سے اکثر کی پہلے ’فوجی طرز‘ کی ملازمت کی تربیت دی جاتی ہے۔

اب تک کہ دستیاب شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کیمپ کے قیدیوں کی طرح، یہ افراد بھی فیکٹریوں اور خاص طور پر سنکیانگ کی عروج پر پہنچنے والی ٹیکسٹائل ملوں میں مزدوری کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

رواں سال جولائی میں امریکہ میں قائم سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ’ممکن‘ ہے کہ ان اقلیتیوں کو کپاس کی چنائی کے لیے بھی بھیجا گیا ہو لیکن اس بارے میں ’مزید معلومات کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹر زینز کو ملنے والی نئی دستاویزات میں نہ صرف یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں بلکہ اس سے اقلیتوں کو بڑے پیمانے پر کھیتوں میں منتقل کرنے کے پیچھے ایک واضح سیاسی مقصد بھی ظاہر ہوتی ہے۔

منظر 3۔ کپاس کے کھیت ’موقع‘ دستاویزات

سنکیانگ کی علاقائی حکومت کی طرف سے کپاس کی چنائی کرنے والوں سے متعلق اگست 2016 کو نوٹس جاری کیا گیا، جس میں عہدیداروں کو ’ان کی نظریاتی تعلیم اور نسلی اتحاد کی تعلیم کو تقویت دینے‘ کی ہدایت کی گئی۔

ڈاکٹر زینز کو ملنے والی ایک پروپیگنڈا رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کپاس کے کھیت غریب اور دیہی علاقوں کی ’گہری جڑوں والی سست سوچ‘ کو تبدیل کرنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ ’مزدور شاندار ہے۔‘

ایسے جملے چینی ریاست کے اویغور طرز زندگی اور رواج کے بارے میں جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر کام کرنے کے نظریہ کی بازگشت کرتے ہیں۔

ایک اور پروپیگنڈا رپورٹ میں کپاس کی چنائی کے فوائد بیان کرتے ہوئے گھر میں رہنے اور ’بچوں کی پرورش‘ کرنے کی خواہش کو ’غربت کی ایک اہم وجہ‘ بتایا گیا ہے۔

ریاست بچوں، بوڑھوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے ’مرکزی‘ نظام مہیا کررہی ہے تاکہ ہر کوئی ’کام پر جانے کی پریشانیوں سے آزاد ہو۔‘

اور ایسے بہت سے حوالہ جات موجود ہیں کہ کس طرح متحرک کپاس چننے والوں کو کنٹرول اور نگرانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس سال اکتوبر میں اکسو کی ایک پالیسی دستاویز میں یہ حکم دیا گیا کہ کپاس چننے والوں کو ایک سے دوسری جگہ گروپوں میں منتقل کیا جانا چاہیے اور ان کے ہمراہ ایسے عہدیدار ہونے چاہیے جو ان کے ساتھ ’کھاتے، رہتے، مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

محمت(فرضی نام) اب یورپ میں رہائش پذیر ایک نوجوان اویغور ہیں جو سنکیانگ واپس نہیں آ سکتے کیونکہ بیرون ملک سفر کی تاریخ ان کیمپوں میں قید کی ایک بنیادی وجہ ہے۔

جون سڈورتھ

BBC

پیچھے موجود اپنے خاندان سے رابطہ کرنا بھی اب ان کے لیے کافی خطرناک ہے۔

لیکن جب سنہ 2018 میں ان کی اپنے گھر والوں سے بات ہوئی تو انھیں پتا چلا کہ ان کی والدہ اور بہن کو کام کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا: ’وہ میری بہن کو اکسو شہر کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں لے گئے۔ وہ وہاں تین مہینے رہیں اور انھیں کوئی پیسے نہیں ملے۔‘

’سردیوں میں میری والدہ حکومتی عہدیداروں کے لیے کپاس چن رہی تھیں۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ہر گاؤں سے 5-10 فیصد چاہیے، وہ ہر خاندان کے پاس آتے ہیں۔‘

’لوگ چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ جیل یا کہیں اور جانے کے بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں۔‘

گذشتہ پانچ برسوں میں گھر گھر جانا سنکیانگ میں قابو پانے کا ایک کلیدی طریقہ کار بن چکا ہیے اور ہر اقلیتی گھرانے کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کرنے کے لیے ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

’مکمل طور پر من گھڑت‘

سنکیانگ میں کپاس کی صنعت چین کے دوسرے صوبوں سے آنے والے موسمی تارکین وطن کارکنوں پر انحصار کرتی تھی لیکن کپاس کی چنائی انتہائی مشکل کام ہے اور کہیں اور اچھی اجرت اور بہتر ملازمت ملنے کا مطلب ہے کہ یہاں مہاجرین آنا بند ہو گئے۔

اب پروپیگنڈا رپورٹس کے مطابق مقامی مزدوروں کی فراہمی نے مزدوری کے اس بحران اور کاشتکاروں کے لیے زیادہ منافع کے دونوں مسائل کو حل کر دیا ہے۔

لیکن کہیں بھی ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں کہ سینکڑوں افراد، جن کو بظاہر کپاس کی چنائی میں کبھی کوئی ​​دلچسپی نہیں تھی، اچانک ان کھیتوں کا رخ کیوں کر رہے ہیں۔

اگرچہ دستاویزات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماہانہ تنخواہ کی سطح 5000 آر ایم بی (764 امریکی ڈالر) تک جا سکتی ہے لیکن ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے 132 افراد کے لیے اوسطاً ماہانہ تنخواہ صرف 1670 آر ایم بی (255 امریکی ڈالر) تھی۔

لیکن تنخواہ جتنی بھی ہو، بین الاقوامی کنونشن کے تحت اجرت والی مزدوری کو ابھی بھی جبری مشقت سمجھا جا سکتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کو جمع کرائے گئے سوالات کے جواب میں بی بی سی کو ایک فیکس جواب موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے: ’تمام نسلی گروہوں کے لوگ اپنی مرضی کے مطابق سنکیانگ میں اپنی ملازمت کا انتخاب کرتے ہیں اور قانون کے مطابق رضاکارانہ ملازمت کے معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سنکیانگ میں غربت کی شرح سنہ 2014 میں تقریباً 20 فیصد سے کم ہو کر آج ایک فیصد سے کم ہو گئی ہے۔

بیان میں جبری مشقت کے دعووں کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیا گیا ہے اور چین کے ناقدین پر الزام لگایا ہے کہ وہ سنکیانگ میں ’جبری بے روزگاری اور جبری غربت‘ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سنکیانگ کے تمام نسلی گروہوں کے مسکراتے چہرے امریکہ کے جھوٹ اور افواہوں کا سب سے طاقتور ردعمل ہیں۔‘

لیکن بیٹر کاٹن انیشی ایٹو، جو ایک آزاد ادارہ ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ چین کی غربت کے خاتمے کی سکیم کے بارے میں خدشات ان اہم وجوہات میں سے ایک ہیں جن کی وجہ سے انھوں نے سنکیانگ میں کھیتوں کے آڈٹ اور تصدیق کو روکنے کا فیصلہ کیا۔

ڈائریکٹر آف سٹینڈرڈز اینڈ ایشورنس ڈیمین سینفلفو نے کہا ہے کہ ’ہم نے اس خطرے کی نشاندہی کی ہے کہ غریب دیہی برادری کو غربت مٹانے کے پروگرام سے منسلک ملازمت پر مجبور کیا جائے گا۔‘

’یہاں تک کہ اگر ان مزدوروں کو معقول اجرت مل بھی جاتی ہے، جو کہ ممکن ہے، تو اس کے باوجود ہو سکتا ہے کہ انھوں نے آزادانہ طور پر اس روزگار کا انتخاب نہ کیا ہو۔‘

مسٹر سینفلفو، جنھوں نے سنکیانگ تک اپنے بین الاقوامی نگرانوں کی بڑھتی ہوئی محدود رسائی کو ایک اور عنصر قرار دیا، نے کہا کہ تنظیم کے فیصلے سے صرف عالمی فیشن کی صنعت کے لیے خطرہ بڑھتا ہے۔

’میرے علم کے مطابق، ایسی کوئی تنظیم نہیں جو مقامی طور پر سرگرم ہو اور اس کپاس کی تصدیق کر سکے۔‘

حراستی مرکز

BBC

بی بی سی نے 30 بڑے بین الاقوامی برانڈز سے پوچھا کہ کیا وہ ہماری تحقیق کے بعد چین سے مصنوعات منگوانے کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہمیں جواب دینے والوں میں سے صرف چار کپمنیوں مارکس اینڈ سپینسر، نیکسٹ، بربری اور ٹیسکو نے کہا کہ ان کی یہ سخت پالیسی ہے کہ چین سے کہیں بھی حاصل کی جانے والی اشیا میں سنکیانگ کی را کاٹن استعمال نہ کریں۔

جب ہم سنکیانگ چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے، تو کورلا شہر سے بالکل باہر، ہم ایک ایسی جگہ سے گزرے، جو 2015 میں ایک کھلے صحرا کی مانند تھی۔

منظر چار: جیل کمپلیکس کا سیٹلائٹ

اب یہ ایک بہت بڑا، جیل کیمپ کمپلیکس ہے، آزاد تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس کے اندر متعدد فیکٹریوں کی عمارتیں نظر آتی ہیں۔

ہمارا ماننا ہے کہ یہ اس سائٹ کی پہلی آزادنہ فوٹیج ہے۔

یہ ایسے بہت سے کمپلیکس میں سے ایک ہے، جو کہ سنکیانگ میں بڑے پیمانے پر قید اور بڑے پیمانے پر مشقت کے مابین دھندلی ہوئی حدود کی ایک یاد دہانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17349 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp