پاکستان کو کیوں لگتا ہے کہ انڈیا ’فالس فلیگ آپریشن‘ کرے گا اور یہ کیا کیوں جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم پاکستان عمران نے اتوار کو ایک بار پھر عالمی برادری کو انڈیا کے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جوں جوں انڈیا کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ معاشی بدحالی، کسانوں کا احتجاج ، کورونا کی بد انتظامی ، مودی سرکار ان سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔'

لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح کے حکام کی جانب سے یہ وارننگ جاری کی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان کے علاوہ زیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پاکستان قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار بھی گذشتہ ایک سال میں متعدد بار انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کبھی فالس فلیگ آپریشن تو کبھی سرجیکل سٹرائیک سے متعلق خبردار کرتے آئے ہیں۔

البتہ انڈیا ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے اس کی وجوہات پاکستانی حکام کی جانب سے ہر بار مختلف بیان کی گئیں۔

’فالس فلیگ آپریشن‘ کیا ہوتا ہے؟

فالس فلیگ آپریشن جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے مراد ایک ایسا دہشتگردانہ حملہ ہے جو کوئی ملک یا ایجنسی اپنے ہی عوام یا سرزمین کے خلاف کرتی ہے تاکہ دشمن ملک یا ایجنسی کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرا سکے اور اس حملے کو بنیاد بناتے ہوئے دشمن ملک کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنا سکے۔

ایک فالس فلیگ آپریشن جس کا بہت ذکر کیا جاتا ہے وہ ہے ‘آپریشن نارتھ وڈز‘ جو کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے کیوبا کے صدر کاسترو کو حکومت سے ہٹانے کے لیے بنایا کیا گیا تھا۔

اس پلان میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو امریکی سرزمین پر دہشتگردی کے حملے، امریکی جنگی جہاز کو کیوبا کے قریب نشانہ بنائے جانے اور امریکی طیارے کو ہائی جیک کرنے جیسے آپشنز پیش کیے گئے جس کے لیے امریکہ کیوبا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو سکتا تھا۔ تاہم امریکی صدر نے اس پلان کو رد کر دیا تھا۔

پاکستان میں انڈیا کی جانب سے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی وارننگز

پاکستان کے وزیراعظم کا اصرار ہے کہ انڈیا اس قسم کا فالس فلیگ آپریشن پاکستان کے خلاف کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ اس کی وارننگ اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد دی تھی۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے انڈیا کے ایسا کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف وزیوں سے توجہ بٹانا چاہتا ہے۔

اس کے بعد دسمبر 2019 میں انڈین شہریت سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف جب انڈیا میں ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کی وارننگ جاری کی گئی اور وجہ بتائی گئی کہ انڈیا مجوزہ قانون کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

مئی اور جون 2020 میں جب چین اور انڈیا کے درمیان گلوان کے مقام پر سخت کشیدگی جاری تھی تو وزیراعظم عمران خان نے یہ وارننگ ایک بار بھر جاری کی اور اس بار ان کا کہنا تھا کہ چین اور نیپال کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے باعث انڈیا پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔

اور حالیہ وارننگ میں وزیراعظم نے انڈیا کے ان مبینہ عزائم کی وجہ کسانوں کا احتجاج اور بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال سے بتائی ہے۔

پاکستان کی یہ وارننگ ’شیر آیا شیر آیا کی صدائیں‘

انڈیا کے تھنک ٹینک ‘کونسل فار ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک ریسرچ’ کے بانی ہیپیمون جیکب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی اس وارننگ کو انڈیا اور نہ ہی دنیا سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔

‘یہ بات درست ہے کہ انڈیا کو اس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کے چین کے ساتھ سرحدی تعلقات کشیدہ ہیں تو ایسے وقت میں انڈیا پاکستان کے ساتھ ایک نیا تنازعہ شروع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔’

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیپیمون جیکب کا کہنا ہے کہ 2016 اور 2019 میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل سٹرائیک کی وجہ اوڑی اور پلوامہ میں انڈین فوج پر ہونے والے دہشگرانہ حملے تھے نہ کہ انڈیا کے کوئی اندرونی مسائل۔

پروفیسر جیکب کا کہنا ہے کہ اس وقت کے سکیورٹی حالات میں پاکستان پر ممکنہ حملہ میڈیا، عوام، تجزیہ کار سب میں ہی موضوع بحث تھا اس لیے انڈیا کے اعلیٰ سطح کی قیادت کی جانب سے بھی اس آپشن پر غور کیا گیا بات چیت کی گئی اور پھر اس کا فیصلہ کیا گیا۔

‘جبکہ اس وقت اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت ایسے پلان، آپشنز اور پاکستان کی وارننگز پر انڈیا میں کوئی بھی بات نہیں کر رہا اور اعلیٰ فوجی اور حکومتی حکام تو دور کی بات ہے۔’

پروفیسر جیکب کا کہنا ہے پاکستان کی جانب سے اس قسم کی وارننگ آنا انڈیا اور دنیا کے لیے اس چرواہے کی ‘شیر آیا ، شیر آیا کی صدائیں ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں‘۔

پاکستان کا موقف

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل دنیا کو انڈیا کے متوقع فالس فلیگ آپریشن کے خلاف خبردار کرتا آ رہا ہے۔

‘پاکستان کو دوسرے ممالک سے بھی ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ انڈیا ایسا کرنے کا سوچ رہا ہے اور انڈیا نے ان ممالک سے اس سے متعلق تبادلہ خیال بھی کیا۔ ان اطلاعات کے بعد ہی پاکستان نے اس بار دنیا کو انڈیا کے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے متعلق خبردار کیا ہے۔’

معید یوسف کا کہنا کہ انڈیا کی جانب سے اس قسم کی کارروائی کی صورت میں پاکستان کے پاس دو ہی آپشنز ہیں: ایک یہ کہ وہ اس قسم کی جارحانہ کارروائی کے بعد دنیا کو اس بارے میں آگاہ کرے یا ایسی کوئی کارروائی ہونے سے قبل ایسا کرے تاکہ انڈیا کو ایسا کرنے سے روکا جا سکے اور یہی ہم اس وقت کر رہے ہیں۔’

معید یوسف کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کی ایسی وارننگز سے شاید کچھ لوگوں کو یہ لگے کہ ’ہم صرف شیر آیا شیر آیا کی صدائیں لگا رہے ہیں لیکن اگر ایسا کرنا انڈیا کے عزائم کو ناکام بناتا ہے تو ہم تو اپنی بات دنیا کے سامنے رکھیں گے‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17383 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp