کے ٹو: موسم سرما میں آکسیجن کے بغیر قراقرم سلسلے کا ’سب سے خونخوار پہاڑ‘ سر کرنے کے خواہش مند کوہ پیما

سٹیفن میک گرتھ - رومانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میں انسانی تاریخ میں موسم سرما میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں شامل ایک چوٹی کو سر کرنے والی پہلی خاتون بن سکتی ہوں۔‘ یہ الفاظ ہیں تمارا لونگر کے ہیں، جو اس موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

اطالوی نژاد 34 برس کی تمارا لونگر آئندہ چند دنوں میں خون جما دینے والے سرد موسم میں ایک ہفتے کے طویل سفر پر روانہ ہوں گی جو انھیں اپنی مہم کی پہلی منزل کے ٹو کے دامن میں واقع بیس کیمپ تک لے جائے گا۔

لونگر جو سابقہ سکینگ کوہ پیمائی کی چیمپیئن ہیں دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند دو چوٹیوں کو سر کر چکی ہیں اور اس برس اب وہ پاکستان میں واقع کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنا چاہتی ہیں جو اب تک کوئی دوسرا انسان نہیں کر سکا۔

لونگر نے سنہ 2014 کے موسم گرما میں اس چوٹی کو آکسیجن کی مدد سے سر کر کے یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دوسری اطالوی خاتون بن گئی تھیں۔

لیکن موسم سرما کی ہولناک سردی میں جب درجہ حرارت منفی پچاس ڈگری سے بھی نیچے چلا جاتا ہے کے ٹو کو سر کرنا بہت بڑا چیلنج ہے اور کئی گناہ مشکل کام ہے۔

اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو وہ فروری کے وسط تک کے ٹو کی چوٹی پر پہنچ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی بار ایک امریکی خاتون کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب

6200 میٹر بلندی پر سے روسی کوہ پیما کو ریسکیو کیسے کیا

کوہ پیما کی تنہا کے ٹو سر کرنے کی ’خودکش‘ مہم ختم

دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کی کوہ پیمائی کرنا موت کے ساتھ مسلسل رقص کے مترادف ہے اور ایک موقعہ پر لونگر نے اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے ایک گلیشئیر کی سیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد سے وہ کسی حد تک مہم کے دوران پیش آنے والے ممکنہ خطرات کے خوف سے نکل آئی ہیں۔

اس مشن میں تمارا لونگر کے ساتھ رومانیہ سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ ایلکس گیون سمیت کم از کم 24 اور کوہ پیما بھی ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق یورپ سے ہے اور وہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی کو موسم سرما میں سر کرنے کی اب تک ناممکن مہم کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گے۔

صحیح وقت

تمارا لونگر اور ایلکس گیون پچیس دسمبر کو کرسمس والے دن بیس کیمپ کی طرف اپنا سفر شروع کریں گے اور نئے سال پر بیس کیمپ تک پہنچ جائیں گے۔ اس کے بعد ایک ماہ تک یہ دونوں کوہ پیما بیس کیمپ پر رہ کر انتہائی سرد موسمی حالات سے مانوس ہونے کی کوشش کریں گے اور اس دوران وہ چوٹی کو سر کرنے کی مناسب جگہیں تلاش کر کے وہاں رسے لگانے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کے عہد ساز کوہ پیما نذیر صابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کوہ پیماؤں کی برادری بہت بے صبری سے کے ٹو پر ہونے والے سنسنی خیز ڈرامے کی منتظر ہے کیوںکہ پوری دنیا میں یہ واحد پہاڑ رہ گیا ہے جس نے کسی انسان کو سردیوں کے موسم میں اپنی چوٹی پر چڑھنے دیا ہو۔‘

اب تک سات چوٹییوں کو سر کرنے والے ایلکس گیون نے بخارسٹ میں اپنے گھر سے، جہاں پر ہر طرف کوہ پیمائی کی کتابیں، نقشے، کتابچے اور ساز و سامان بکھرا ہوا تھا، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ غیر معمولی طور پر دشوار پہاڑ ہے۔‘

گیون نے کہا کہ وہ اس مہم کے بارے میں بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مہم سر کرنے کا صحیح وقت ہے اور ان کو صحیح ساتھی بھی میسر ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان حائل آسمان سے باتیں کرتی ہوئی چوٹیوں پر مشتمل قراقرم پہاڑی سلسلے کی اس چوٹی پر حالات اتنے غیر موافق ہیں کہ اسے ایک طویل عرصے سے ’خونخوار چوٹی‘ کہا جاتا ہے۔

یہ نام سنہ 1953 میں ایک امریکی کوہ پیما جارج بیل نے اس چوٹی کو سر کرنے کی اپنی ایک مہم کے بعد دیا تھا اور بعد میں یہ نام مشہور ہو گیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ایک خونخوار پہاڑ ہے جو آپ کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘

موسم سرما میں پہاڑ سر کرنا اتنا دشوار کیوں؟

کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کوہ ہمالیہ یا ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے یہ واحد چوٹی ہے جسے اب تک موسم سرما میں آکسیجن کی مدد یا آکسیجن کے بغیر سر نہیں کیا جا سکا۔

جولائی سنہ 2018 تک کے ٹو کو 367 مرتبہ سر کیا جا چکا تھا اور اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں 86 کوہ پیماوں کی موت واقع ہو چکی تھی۔ اس طرح ہر چار سال بعد اس چوٹی پر ایک کوہ پیما کی موت واقع ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں تمام موسموں میں آکسیجن اور آکسیجن کے بغیر تمام مہمات شامل ہیں۔

گیون نے کہا کہ یہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا کیونکہ وہ اس کو آکسیجن کے بغیر سر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ’آکسیجن کی مدد سے کوہ پیمائی کرنا بے ایمانی کرنا ہے۔ آٹھ ہزار میٹر آکسیجن کے ساتھ ایسا ہے جیسے 3500 میٹر آکسیجن کے بغیر۔‘

گلیشیئر پر نقطۂ انجماد سے نچلے درجہ حرارت میں ڈوبی ہوئی سرد ہواؤں کے مسلسل تھپیڑوں کی زد میں رہنے والی اس چوٹی کو جہاں ہر وقت برفانی تود گرتے رہتے ہیں اور چٹانوں کی شکست و ریخت بھی جاری رہتی ہے، سر کرنے کے لیے کمال مہارت، چٹان کی سی قوتِ ارادی، فولادی اعصاب، غیر متزلزل حوصلے اور کسی حد تک خوش قسمتی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں کوہ پیمائی کی الف سے ے

ایورسٹ کی چوٹی پر کوہ پیماؤں کی قطاریں

چار وجوہات جن کی بنا پر کوہ پیمائی کا سیزن متاثر ہوا

تمارا لونگر کا کہنا تھا کہ اس چوٹی پر سردیوں میں چلنے والی شدید ہوا کی رفتار بعض اوقات دو سو کلو میٹر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

کوہ پیمائی کی تاریخ رقم کرنے والے ایبر جرگلسکی کا کہنا ہے کہ ’ایک بات تو یقینی ہے کہ اس سال کے ٹو پر موسم سرما بہت سنسنی خیز اور دلچسپ ہونے والا ہے۔‘ ایبر جرگلسکی کو خدشہ ہے کہ کے ٹو سر کرنے کی اس سال جتنے کوہ پیما کوشش کر رہے ہیں اس کی وجہ سے وہاں ایک ہجوم جمع ہو جائے گا اور حادثات کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس چوٹی کو موسم سرما میں سر کرنے کی سات مرتبہ کوشش کی جا چکی ہے اور ساتوں مرتبہ کوہ پیماوں کی تعداد بہت کم تھی پھر بھی یہ بہت خطرناک تھا۔ ’اس مرتبہ مجھے ڈر ہے کہیں یہ بدترین ثابت نہ ہو۔‘

دشوار جگہوں کے خطرات

بلند چوٹیوں پر کمند ڈالنے والے کوہ پیماؤں کی برادری میں کے ٹو جہاں ’ایڈونچر‘ یعنی مہم جوئی کے جذبات جگاتی ہے وہیں یہ چوٹی ان کے اندر ایک خوف کا باعث بھی ہے۔

اگست سنہ 2018 میں گیارہ انتہائی تجربہ کار کوہ پیما کے ٹو پر ہلاک ہو گئے تھے جس کی وجہ جانو لیوا ’آئس فال‘ یا برفانی تودے تھے جو آٹھ ہزار دو سو میٹر بلند اس انتہائی دشوار حصہ میں گرے جس کو ’بوٹل نیک‘ یا تنگ راستہ کہا جاتا ہے۔

یہ بوٹل نیک آٹھ ہزار میٹر سے کہیں اونچائی پر آتا ہے اور اس کوہ پیماوں کی زبان میں ’ڈیتھ زون‘ یا موت کی گھاٹی بھی کہا جاتا ہے جہاں پر آکسیجن کی کمی انسانی جسم کو مفلوج کر دیتی ہے۔

لونگر نے بوٹل نیک کے بارے میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ کوئی اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکتا ہے۔

’اگر آپ ایک غلط قدم رکھتے ہیں تو سیدھے تین ہزار میٹر گہری کھائی اور گلیشیئر میں گر سکتے ہیں۔‘

گیون جو اپنے آبائی ملک رومانیہ میں ماحولیات کے سرگرم کارکن ہیں انھوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کوہ پیماؤں کی تلاش اور ان کو بچانے کی کئی مہمات میں حصہ لیا ہے۔

انھوں نے کوہ پیماوں کے منجمد اور آسیب زدہ قبرستان کے بارے میں بتایا، ان کے خصوصی کپڑوں اور کوہ پیمائی کے آلات اور ساز و سامان کی تفصیل بیان کی اور ان بہادر مہم جوؤں کی کہانیاں سنائیں جو ان مہمات کے دوران اپنی جانوں سے گئے جن کو سر انجام دینے کا انھیں جنون کی حد تک شوق تھا۔

سنہ 2018 میں ان کے اطالوی دوست سیمون لا تیرا کو نیپال میں دہولاگری پر تیز ہوا کا جھکڑ اڑا لے گیا تھا اور یوں وہ صرف 36 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلے گئے۔

گیون نے ان کو یاد کرتے ہوئے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘وہ میرے لیے بھائیوں کی طرح تھے۔ گیون نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کی لاش ڈھونڈے میں مدد کی تھی۔’ان کی موت سے شروع میں بہت صدمہ ہوا لیکن انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری‘۔

گیون کہتے ہیں کہ ان کی مہم بلند چوٹیوں کی کوہ پیمائی کا سنگ میل ثابت ہو گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ساری زندگی اس مہم کے لیے تھی اور یہ مہم سرانجام دینے کے لیے اس سے مناسب وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17261 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp