ہاشم پورہ کے مسلمانوں پر کیا بیتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبھوتی نرائن رائے کی کتاب “ہاشم پورہ 22 مئی” پر بھارتی جریدے فرنٹ لائن میں شائع ہونے والا ضیاالسلام کا یہ تبصرہ پروفیسر سی ایم نعیم صاحب نے “ہم سب”کے قارئین کے لئے تجویز کیا ہے۔ 22 مئی 1987 کی بھیانک رات ہاشم پورہ (میرٹھ) کے مسلمانوں پر جو مصیبت گزری، وہ کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ سیاسی بندوبست کا سوال ہے۔ دنیا کی ہر ریاست میں عقیدے، زبان، نسل اور ثقافت وغیرہ کے حوالے سے عددی اکثریت اور اقلیت موجود ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے ریاست کس طرح اکثریتی گروہ کو عددی برتری سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکے۔ ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے شہری خود کو یکساں محفوظ اور طاقتور سمجھیں۔ بھارت میں مسلمان ہونا یا پاکستان میں ہندو ہونا جرم نہیں۔ بھارت کو مسلمانوں اور پاکستان کو ہندوؤں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہی تہذیب کا تقاضا ہے۔ (مدیر)

***    ***

وبھوتی نارائن رائے کی کتاب ’ہاشم پورہ بائیس مئی‘ کا مطالعہ ایک اعصاب شکن تجربہ ہے۔ لیکن یہ کتاب ہر اس شخص کو پڑھنی چاہئے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ بھارت نے اپنے شہریوں پر انصاف کے دروازے کس طرح بند کیے۔

بھارت کی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر میر رنجن نیگی کو 2007 میں بہت شہرت ملی۔ سب نے بھلا دیا تھا کہ 1982 کے دلی ایشین گیمز میں رانجن نیگی نے پاکستان کے خلاف کیسی ناقص کارکردگی دکھائی تھی۔

رنجن نیگی کے اچانک یوں سب کی آنکھ کا تارہ بننے کی وجہ شاہ رخ خان کی فلم ’چک دے انڈیا‘ تھی جس کے بارے میں کہا رہا تھا کہ فلم کی کہانی میر رانجن کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس فلم نے ایسی دھوم مچائی کہ گلیوں میں لڑکے بالے “چک دے انڈیا” کا مطلب سمجھے بغیر ہی یہ گیت گاتے پھرتے تھے۔ حیران کن طور پر ان نوجوانوں میں ذوالفقار ناصر نام کا ایک لڑکا بھی شامل تھا۔ بظاہر ذوالفقار ناصر کے لئے انڈیا سے محبت کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی۔ لیکن جب نامور پولیس افسر وبوتھی نارائن رائے نے ذوالفقار ناصر کو فون کیا تو اسے “چک دے انڈیا” کی رنگ ٹون جواب میں سنائی دی۔ ہاشم پورہ کے بدنام زمانہ قتل عام کے بعد شہرت پانے والا وبھوتی رائے ایک تجربہ کار پولیس افسر تھا۔ فون پر دوسری طرف ذوالفقار ناصر بھی کوئی عام بھارتی شہری نہیں تھا۔ بائیس مئی 1987 کے قتل عام میں بچ جانے والے چند خوش نصیبوں میں ذوالفقار ناصر بھی شامل تھا۔ اس بھیانک واقعے سے پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری (PAC) اس قدر بدنام ہوئی کہ یہ ادارہ آج تک اپنے دامن سے یہ دھبے نہیں دھو سکا۔

وبوتھی نارائن کی کتاب ’ہاشم پورہ بائیس مئی‘ پڑھتے ہوئے دل دہل جاتا ہے۔ بابو دین اور کریم الدین کے علاوہ ذوالفقار ناصر بھی اس واقعے کا عینی گواہ تھا جس میں اتر پردیش پولیس ہاشم پورہ گاؤں کے بے گناہ نوجوانوں کو پکڑ کر لے گئی۔ چند گھنٹے بعد انہیں گولی مار کر اپر گنگا نہر میں پھینک دیا گیا۔ بوڑھوں اور بچوں کو نوجوانوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ بوڑھوں کو دھمکیاں اور گالیاں دے کر واپس بھیج دیا گیا۔ لیکن نوجوان ایسے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔انہیں ایک ٹرک میں ڈالا گیا۔ ٹرک کے فرش پر اکڑوں بیٹھے نوجوانوں کے چاروں طرف بندوق بردار پولیس والے تھے۔ یہ ٹرک گاؤں سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع اپر گنگا نہر پر پہنچا۔ قیدی نوجوانوں کو دھکے مار کر نیچے اتارا گیا اور گولیاں مار کر نہر میں پھینک دیا گیا۔ مئی کا مہینہ تھا اور نہر میں طغیانی آئی ہوئی تھی۔ بیشتر نوجوان موقع پر ہی مر گئے۔ ذوالفقار ناصر اور چند دوسرے لڑکے یہ کہانی سنانے کو زندہ رہے۔ وبوتھی نارائن رائے نے اپنی کتاب میں ذوالفقار، بابو دین اور دوسرے \"\"نوجوانوں کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں پولیس والوں نے کس طرح تعصب سے مغلوب ہوکر مسلمان نوجوانوں کو قتل کیا۔ ان دنوں اس علاقے میں فرقہ وارانہ نفرت اپنے عروج پر تھی۔ وبوتھی نارائن نے اس کتاب میں کوئی وعظ نہیں دیا۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ نوجوانوں پر بیتنے والی افتاد کی کہانی سیدھے سیدھے بیان کر دی ہے۔ بیچ بیچ میں ان عام لوگوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے جو مظلوم لڑکوں کی مدد کرنا چاہتے تھے مگر ڈرتے تھے۔ اور پھر سیاست دانوں کا بھی ذکر موجود ہے جو اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

آیئے ذوالفقار ناصر کی کہانی سنتے ہیں۔ “بائیس مئی 1987 کی شام چھ بجے کا وقت تھا۔ میں گھر کے برآمدے میں نماز پڑھ رہا تھا جب کچھ پولیس والے اندر گھس آئے۔ وہ میرے علاوہ میرے والد اور دو چچاؤں کو گلی سے باہر سڑک پر لے آئے جہاں چار پانچ سو افراد زمین پر بیٹھے تھے۔ ہمیں بھی ان کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ پولیس والوں نے ان دیہاتیوں کو دو ٹولیوں میں بانٹنا شروع کر دیا۔ بوڑھے لوگوں اور بچوں کو ایک طرف کر دیا گیا۔ جب کہ میرے ابا اور دو چچا سمیت بہت سے افراد کو ٹرکوں میں بٹھا کر کہیں لے جایا گیا۔ مجھ سمیت پینتالیس نوجوان باقی رہ گئے۔ ہمیں آخری ٹرک میں چڑھنے کا حکم دیا گیا۔ پولیس والوں نے ٹرک میں ہمیں اس طرح چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا کہ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ٹرک ڈیڑھ گھنٹہ تک چلتا رہا اور پھر مراد نگر میں گنگا نہر کی پٹڑی پر مڑ گیا۔ کوئی ڈیڑھ کلومیٹر بعد ٹرک رک گیا۔ نوجوانوں کو ٹرک سے نیچے اترنے کا حکم دیا گیا۔ یٰسین سب سے پہلے اترا۔ اس پر گولی چلائی گئی۔ ذوالفقار نے دیکھا کہ یٰسین زمین پر گرا تو دو پولیس والوں نے اسے بازوؤں اور ٹانگوں سے اٹھا کر نہر میں اچھال دیا۔ باقی سب کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔ ذوالفقار بھی نشانہ بننے والوں میں سے ایک تھا۔

اس کے بچ جانے کے بارے میں وبوتھی رائے نے لکھا ہے کہ “گولی ذوالفقار کی پسلیاں چیرتی ہوئی دوسری طرف سے نکل گئی۔ اس نے سوچا کہ زندہ رہنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ خود کو مردہ ظاہر کیا جائے۔ وہ چپ چاپ زمین پر گرا رہا۔ اسے دو آدمیوں نے لکڑی کی طرح اٹھا کر نہر میں پھینک دیا۔ قسمت اچھی تھی۔ وہ نہر کے کنارے کے قریب گھنی جھاڑیوں میں جا کر گرا۔ یہاں پانی کا بہاؤ کچھ سست تھا۔ ذوالفقار نے ہاتھ پاؤں مارے اور جھاڑیوں کو پکڑ کر پانی میں دبکا رہا۔ کچھ دیر بعد پولیس والے چلے گئے۔ ذوالفقار کو لگا کوئی اسے چھو رہا ہے۔ اس نے دہشت سے مڑ کر دیکھا ذوالفقار کا ہمسایہ عارف بھی معجزانہ طور پر موت سے بچ نکلا تھا۔ کچھ دیر بعد ذوالفقار اور عارف نے کرم الدین کو بھی ڈھونڈ نکالا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس موقع پر کتاب میں ان واقعات کا بیان کہ کیسے عارف غائب ہوگیا اور کرم الدین نے ذوالفقار کو آمادہ کیا کہ وہ اسے چھوڑ کر رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جان بچانے کی کوشش کرے۔ موت کے منہ میں جاتا ہوا ایک انسان کیسے دوسرے انسان کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے، یہ کہانی بہت دلدوز ہے”۔

ذوالفقار ناصر درمیان میں

اسی گاؤں کے نوجوان لڑکے بابو دین نے رائے اور دوسرے پولیس افسروں کو اس واردات کی تفصیلات سمجھنے میں بہت مدد دی۔ بابو کے الفاظ پڑھیے، “بابو دین نے ہمیں بتایا کہ معمول کی تلاشی کے دوران پولیس والے چالیس پچاس لڑکوں کو ٹرک میں ڈال کر لے گئے۔ان نوجوانوں کا خیال تھا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب حوالات میں ڈال دیا جائے گا۔ البتہ انہیں حیرانی ہورہی تھی کہ گلیوں میں کرفیو لگا ہے تو تھانے تک پہنچنے میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے۔ انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ جب پولیس والوں نے نہر پر ٹرک روکا اور قیدیوں کو ایک ایک کر کے گولیاں مارنا شروع کیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ راستہ بھر پولیس والے اس قدر خاموش کیوں تھے اور ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کیوں کر رہے تھے۔ یہ واقعہ بھارت کی ریاست اور اقلیتوں کے درمیان تعلقات کی بھیانک تصویر پیش کر تا ہے۔ پولیس نے کس طرح تمام اخلاقی قدروں سے منہ موڑا اور عدالت نے کس طرح مایوس کن سستی کا مظاہرہ کیا۔ وبھوتی نارائن لکھتے ہیں کہ میں نے بائیس مئی 1987 کی رات مراد نگر اور لنک روڈ کے تھانوں میں مقدمہ درج کروایا تھا۔ مجھے دو عشروں تک سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور یہ مقدمہ اٹھائیس برس بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکا۔

اٹھائیس سال پر پھیلی اس تکلیف دہ داستان سے یہ سبق ملتا ہے کہ پولیس کی طرف سے غفلت کے باعث کس طرح شہریوں کی زندگیاں تباہ ہوسکتی ہیں۔ کس طرح بظاہر سیکولر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی سیاست دان بھی اپنے مفاد میں غفلت سے کام لیتے ہیں۔ کتاب میں میرٹھ سے کانگریس کی رہنما محسنہ قدوائی کا ذکر ملتا ہے جو پارلیمنٹ کی ممبر ہونے کے علاوہ راجیو گاندھی کی کابینہ میں بھی شامل رہیں۔ ذوالفقار ناصر نے دلی میں محسنہ کی جن پتھ رہائش گاہ پر محسنہ قدوائی سے مدد مانگی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ان دنوں میں سید شہاب الدین ہندوستان کے شہری مسلمانوں کی آواز سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے البتہ ذوالفقار ناصر کی مدد کی۔ محسنہ قدوائی کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے اس واقعے کے بعد میرٹھ کا دورہ کیا تو ان کے خلاف فرقہ وارانہ احتجاج کیا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے کسی واقعے میں مسلمان سیاستداں کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔ میرٹھ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نسیم زیدی کا رویہ بھی قابل فہم ہے۔

اٹھائیس برس کی جانگسل جدوجہد کے بعد جب یہ مقدمہ اپنے انجام کو پہنچا تو وبھوتی رائے کو ایک اور صدمہ پہنچا۔ ان کی کے الفاظ میں پڑھئے، “اکیس مارچ 2015 کا دن تھا۔ میرے خیالات میں ایسا طوفان پربا تھا کہ نیند اڑ گئی تھی۔ بالآخر ہاشم پورہ کے قتل عام پر فیصلہ ہونے والا تھا۔ میں تیس ہزاری عدالت سے آٹھ سو کلومیٹر دور اعظم گڑھ میں اپنے گاؤں پر تھا مگر میرا دل عدالت میں اٹکا تھا۔ میں نے ذوالفقار ناصر کو فون کیا۔ اس نے کہا کہ وہ فیصلہ سنتے ہی مجھے مطلع کرے گا۔ کوئی تین بجے کے قریب اس نے مجھے حیران کن خبر سنائی کہ تمام سولہ ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ الفاظ گویا میرے منہ میں جم کر رہ گئے۔ کیا اٹھائیس برس کی سرتوڑ کوشش کا یہی انجام ہونا تھا۔”

عدالت کا فیصلہ صدمہ پہنچانے والا ضرور تھا لیکن غیر متوقع نہیں تھا۔ وبھوتی رائے نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ وزیراعلیٰ ویر بہادر سنگھ نے سی آئی ڈی کو مرادنگر اور لنک روڈ کے قتل عام کی تفتیش کی ذمہ داری سونپی تھی لیکن یہ محکمہ گویا مجرموں کو بچانے کے مشن پر تھا۔ ’’میں نے اس کتاب پر کام ان دستاویزات کو دیکھنے کے بعد ہی شروع کیا تھا جو سی آئی ڈی نے عدالت میں پیش کی تھیں۔ میں جیسے جیسے یہ کاغذات پڑھتا گیا، مجھے یقین ہو گیا کہ سی آئی ڈی کا مقصد ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنا نہیں بلکہ تفتیش کو الجھا کر ایسے معاملات اٹھانا ہے جن کے پیش نظر کوئی عدالت انہیں سزا نہ دے سکے۔‘‘ سی آئی ڈی اس مقصد میں کامیاب رہی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے لکھا ہے کہ تفتیش میں ایسے نقائص پائے گئے جو استغاثے کی بنیاد تک جاتے ہیں اور اگر ان زاویوں کو نظر انداز کیا گیا تو یہ ملزموں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ یہ امر نہایت تکلیف دہ ہے کہ ریاستی ادارے نے بے گناہ شہریوں کی جان لی لیکن تفتیش کرنے والا ادارہ مجرموں کی شناخت کے لئے قابل اعتماد مواد پیش نہیں کر سکا”۔

واضح رہے کہ سید شہاب الدین نے ذوالفقار ناصر کا معاملہ اٹھایا تو کانگریس سرکار نے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ذوالفقار ناصر جھوٹ بول رہا ہے اور ہاشم پورہ سے گرفتار کیے گئے افراد جیل میں تھے۔ اتر پردیش پولیس کے انہی افسروں نے بعد ازاں سی آئی ڈی کو بتایا کہ انہیں ہاشم پورہ کے قتل عام کا کوئی علم نہیں تھا۔ چنانچہ مظلوموں کے لئے انصاف کے سب دروازے بند کر دیے گئے۔ \"\"ہاشم پورہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سیکولر بھارت کی تاریخ میں شرمناک حواشی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وبھوتی نارائن رائے ایسے پولیس افسر ہیں جنہں نمایاں خدمات پر صدر جمہوریہ نے پولیس میڈل عطا کر رکھا ہے۔ انہوں نے اس کتاب کے ذریعے بتایا ہے کہ بھارت کی ریاست میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ضرور ہورہی ہے لیکن امید کا دیا پوری طرح بجھ نہیں سکا۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ریاست کس طرح شہریوں کو انصاف فراہم کرنے سے انکار کرتی ہے لیکن اسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ذوالفقار ناصر کو فون کرو تو رنگ ٹون سنائی دیتی ہے، “چک دے انڈیا”۔

15 دسمبر 2016

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضیا السلام کی دیگر تحریریں
ضیا السلام کی دیگر تحریریں