کریمہ بلوچ: ’نڈر اور سب کی حوصلہ افزائی‘ کرنے والی سماجی کارکن کو ان کے دوست کیسے یاد کرتے ہیں؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’کریمہ بلوچ قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ہم جب یہ نعرہ لگاتے تھے تو سیاسی مخالفین طنزیہ طور پر کہتے تھے کہ ایک لڑکی قیادت کرے گی لیکن انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ایک نڈر اور ذھین رہنما تھیں۔‘

ایسا کہنا ہے پردھان بلوچ کا جو کریمہ بلوچ کے ساتھ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے رکن رہے چکے ہیں۔

بی ایس او کی سابق چیئرپرسن 37 برس کی بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی 20 دسمبر کو گمشدگی کی خبر آئی اور اگلے روز ان کی لاش ملی۔ ٹورنٹو پولیس کا کہنا ہے کہ کریمہ کی لاش شہر کے ایک جزیرے کے قریب پانی سے برآمد کی گئی۔

اہلکار چِلاّ چِلاّ کر کہہ رہے تھے کہ کریمہ کو ڈھونڈو

پردھان بلوچ بتاتے ہیں کہ 3 دسمبر 2009 کو سیاسی کارکن میر جان جو سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے تھے، کی یاد میں بی ایس او کا احتجاجی جلسہ تھا جو کریمہ بلوچ کے گھر کے سامنے ایک سکول کے میدان میں منعقد کیا گیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’صبح دس بجے اہلکاروں نے میدان کا محاصرہ کر لیا، کریمہ کو سٹیج پر نہیں بٹھایا گیا تھا اور وہ عام خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹورونٹو سے لاپتہ سیاسی کارکن کریمہ بلوچ کی لاش پانی میں سے ملی

والدہ کے پڑھے اشعار جو کریمہ بلوچ کو ملک چھوڑنے سے روک سکتے تھے

کریمہ بلوچ کی موت پر ’افواہیں، الزام تراشی، دھمکیاں اور خوشی‘

’ہم نے خطرہ بھانپ لیا تھا کیونکہ کریمہ کے گھر پر آئے روز چھاپے مارے جاتے تھے۔ جلسے سے عندلیب گچکی خطاب کر رہی تھیں کہ اہلکاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ہم نے سمجھا کہ ربڑ کی گولیاں ہیں لیکن میرے ساتھ ایک 20 سال کا نوجوان مختار موجود تھا اس کو گولی لگی اور وہ خون میں لال ہو گیا۔‘

’اہلکار چِلاّ چِلاّ کر کہہ رہے تھے کہ کریمہ کو ڈھونڈو، بی ایس او کے لڑکے خواتین کی طرف گئے اور کریمہ کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ اس پوری صورتحال میں بھی وہ گھبرائیں نہیں اگرچہ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔‘

پکاسو، ڈیانا اور گلزار

لطیف جوہر بی ایس او میں کریمہ بلوچ کے قریبی ساتھی اور دوست تھے اور دونوں ہی کینیڈا میں جلا وطن کی زندگی گزار رہے تھے۔

بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف لطیف جوہر نے سنہ 2014 میں کراچی میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کی تھی جو 46 روز جاری رہی۔

لطیف جوہر نے بتایا کہ تنظیم نے فیصلہ کیا کہ زاہد کی بازیابی تک تادم مرگ بھوک ہڑتال کی جائے اور کارکنوں کو رضاکارانہ نام دینے کے لیے کہا گیا۔

’کریمہ نے کہا کہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھوں گی جس کی تنظیم نے مخالفت کی کہ آپ تو لیڈر ہیں آپ کو کچھ ہو جائے تو باقی کا کیا ہو گا اس لیے ان کا نام مسترد کر دیا گیا لیکن وہ ہر وقت کیمپ پر موجود ہوتی تھیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کریمہ بلوچ کی قیادت میں شامل ہونے کے بعد بی ایس او آزاد میں گرلز یونٹ ختم کر دیے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ صنفی تفریق نہیں رکھی جائے گی اور مرد ہو یا عورت دونوں ایک ہی طریقہ کار سے رکن ہوں گے۔

’وہ بلوچی میں شاعری کرتی تھیں۔ انھیں گلزار بہت پسند تھا، بلوچی میں منیر مومن کو پسند کرتی تھیں، ان دنوں وہ سکیچ بھی بناتی تھی کچھ ادھورے سکیچ موجود ہیں، وہ پکاسو کی فین تھی، لیڈی ڈیانا کی شخصیت سے بھی متاثر تھیں ان کی اکثر باتیں کرتی تھی۔‘

لطیف جوہر بلوچستان میں کریمہ کے ساتھ سفر میں بھی شریک رہے ہیں۔ ’ہم موٹر بائیک پر سفر کرتے تھے، وہ چاہتی تھیں کہ وہ بھی موٹر بائیک چلانا سیکھیں لیکن نہیں سیکھ پائی۔‘

لطیف جوہر کریمہ کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی سمیر مہراب کے بھی دوست ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مرنے سے کچھ روز قبل کریمہ نے کہا کہ سمیر سے پوچھیں کہ کیا اس نے براک اوباما کی یا ڈیکلن والش کی کتاب پڑھی ہے کیونکہ وہ انھیں کرسمس پر تحفہ دینا چاہتی تھیں۔

کراچی میں لطیف جوہر کے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے دوران کریمہ بلوچ کو کئی سیاسی دوست بھی ملے اور وہ ترقی پسند جماعتوں کے نوجوانوں کے حلقے میں شامل ہو گئیں۔

کریمہ کی آنکھیں اس کی چغلی کرتی تھیں

نور مریم ان دنوں نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن میں تھیں، ان کا کہنا ہے کہ کریمہ کیمپ میں رات دیر تک بیٹھتی تھیں جس کے بعد ان کے ساتھی انھیں چھوڑنے جاتے تھے۔

وہ کہتی ہیں ’ہم خوفزدہ ہوتے تھے لیکن وہ ہنسی مذاق کر کے اس کو عام سفر بنا دیتی تھیں۔ اس احتجاج کے دوران کریمہ کے گھر پر شیلنگ ہوئی، وہ تصاویر دکھاتی تھیں لیکن ان کہ ماتھے پر بل یا چہرے پر پریشانی نہییں دیکھی۔‘

’ایک بار انھوں نے بتایا کہ ان پر دہشت گردی کے دو مقدمات ہیں، میں گھبرا گئی اور ان کو کہا کہ تم اس طرح گھوم رہی ہو تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کامریڈ۔۔۔ انھیں تو یاد بھی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اتنے جھوٹے مقدمات بنائے ہیں جو یاد رکھنا بھی مشکل ہے۔‘

نغمہ شیخ ان دنوں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن سے منسلک تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب رات ہو جاتی وہ سب لطیف جوہر کے کیمپ پر ہوتے تھے۔ وہ کریمہ سے کہتی تھیں کہ ’اب تو کوئی نہیں، اب تو نقاب ہٹا لیں تو وہ کہتیں کہ ’آس پاس دیکھو کتنے کیمرے لگے ہوئے۔‘

نغمہ کے بقول وہ مذاق میں کہتی تھیں کہ ایک طرح کی چادر کوئی بھی پہن کر بیٹھ جائے کیا پتہ کون ہے؟ تو وہ کہتی ایسا نہیں ہو سکتا یہ بڑی ذمہ داری ہے۔

’کریمہ کی آنکھیں ان کی چغلی کرتی تھیں۔ اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کے گھر پر چھاپا مارا گیا تمام خواتین کو ایک لائن میں کھڑا کیا گیا سب نے نقاب پہن رکھا تھا، اہلکاروں نے کہا کہ آنکھیں اوپر کرو ’میں نے نہیں کیں کیونکہ اگر میں آنکھیں اوپر کرتی تو پہچانی جاتی۔‘

وہ سب کو سرپرائز دینا چاہتی تھی

کریمہ کی چھوٹی بہن ماہ گنج بتاتی ہیں کہ جس روز وہ لاپتہ ہوئیں اس دن پاکستان کے وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ان کی کریمہ سے بات ہوئی تھی۔

’وہ باہر جا رہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ سونا نہیں میں جلدی واپس آ کر تمہیں ویڈیو کال کرتی ہوں اور جو کرسمس گفٹ لیے ہیں، ان سے سب کو سرپرائز دینا ہے۔‘

ماہ گنج کے مطابق کریمہ نے کہا ’جلد تمہاری یونیورسٹی کھل جائے جو بیگ اور شوز میں نے بھیجے ہیں وہ پہن کر تصویر بھیجنا۔‘

’اُس نے مجھے یہ بھی کہا کہ یہاں سے کوئی آ رہا ہے تو کچھ کتابیں جس میں آگ کا دریا اور کچھ اور کتابیں شامل ہیں، وہ مجھے بھجوا دینا۔

ماہ گنج کے مطابق کریمہ کے کئی خواب تھے اور وہ مثبت سوچ کی انسان اور ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔

’وہ ماموں کے بہت قریب تھیں اور جب ماموں کی مسخ شدہ لاش ملی تو اسی وقت اس کی ایک سہیلی نے افسوس کا میسج کیا تو کریمہ نے کہا کہ افسوس کس بات کا یہ جدوجہد کا حصہ ہے اور تحریک میں اس طرح کے حالات آتے ہیں۔

ماہ گنج کہتی ہیں کہ جب میں بھی ماموں یا کسی اور ساتھی کے بچھڑنے کا دکھ بیان کرتی تو وہ کہتی کہ تحریکوں میں اس سے بھی برے حالات آتے ہیں ہمیں ہر چیز کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

ماہ گنج بتاتی ہیں کہ کریمہ کے لیے بہت رشتے آتے تھے مگر وہ انکار کردیتی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ شادی کی وجہ سے ان کی سیاسی جدوجہد پہ کوئی فرق پڑے۔

’اس نے کہا تھا کہ میں کسی ایسے انسان سے شادی کروں گی جو میری جدوجہد کو سپورٹ کرے نہ کے مجھے روکے۔ پیار اور محبت کے لئے اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ وہ ہر وقت اپنی جدوجہد میں مصروف تھی اُس کا عشق بلوچستان سے تھا۔‘

وہ کسی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن میں نہیں تھی

ٹوروٹنو یونیورسٹی میں استاد اور صحافی کرن نازش کی بھی کریمہ سے 2014 میں ہی کراچی میں ملاقات ہوئی تھی اور پھر دونوں میں دوستی ہوگئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ہم مستقل رابطے میں رہتے تھے ایک ہفتے سے امتحانات چل رہے تھے، وہ کسی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن میں نہیں تھی، وہ ایک نڈر عورت تھی اور ذہنی طور پر واضح تھی۔ اس پر ایسا کوئی دباؤ نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ خود کو نقصان پہنچائے۔‘

کریمہ کے سر پر پشتین کیپ

سوشل میڈیا پر کریمہ بلوچ کی ایک تصویر ان دنوں بہت مقبول ہے جس میں انھوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کی علامت پشتین کیپ پہن رکھی ہے۔

کرن نازش کے مطابق کریمہ کو یہ کیپ منظور پشتین نے تحفے میں دی تھی۔

’وہ یہ کیپ پہن کر اپنی خوش کا اظہار کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ منظور پشتین اور ان کی تحریک سے متاثر تھیں کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ ان کی تحریک بھی آزادی، اظہار رائے اور برابری کی تحریک ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp