بنگلہ دیش کا خاندان جو انگلیوں کے نشان نہ ہونے سے کئی مشکلات کا شکار

میر صابر - بی بی سی بنگلہ، ڈھاکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپو سرکار
BBC
آپو سرکار
اپو سارکر ویڈیو کال میں مجھے اپنی انگلیاں دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پہلے تو مجھے کوئی فرق نظر نہیں آیا، لیکن جب انگلیوں کو نزدیک سے دیکھا تو پتا چلا کہ ان انگلیوں پر کسی عام شخص کی انگلیوں کی طرح نشانات یا ’فنگر پرنٹس‘ ہی نہیں تھے۔

اپو کی عمر 22 برس ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش کی شمالی ریاست راجشاہی کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ گذشتہ چند روز قبل تک وہ ایک طبی کارکن کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کے والد اور دادا دونوں کاشتکار تھے۔

ایک خاص جنیاتی تبدیلی کے باعث اپو کے خاندان کے مردوں کی انگلیوں پر کوئی نشان نہیں ہیں۔ یہ ایسی غیر معمولی میوٹیشن یا جینیاتی تبدیلی ہے جس سے دنیا بھر کے صرف چند خاندان ہی متاثر ہیں۔

ماضی میں یہ اپو کے دادا کے لیے بڑی بات نہیں تھی کہ ان کی انگلیوں پر کوئی نشانات نہیں۔ اپو نے کہا ’مجھے نہیں لگتا انھیں کبھی بھی اس میں کوئی مسئلہ محسوس ہوا ہو گا۔‘

لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے انگلیوں کے نشان کی اہمیت دنیا بھر میں بڑھ گئی ہے۔ کسی انسان کی بنیادی شناخت سے متعلق ڈیٹا کے طور پر سب سے زیادہ جمع کی جانے والی معلومات لوگوں کے فنگر پرنٹس یعنی ان کی انگلیوں کے نشانات ہی ہیں۔

انگلی کے نشان کا استعمال، سفر کے دوران ہوائی اڈوں سے لے کر ووٹنگ اور یہاں تک کہ اپنے سمارٹ فون کو کھولنے تک کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچے کی جنس کے خانے میں سوالیہ نشان لگا دیا گیا

انگلیوں کے نشانات سے منشیات کے استعمال کی نشاندہی

امداد کے لیے فنگر پرنٹ ضروری مگر انگلیوں کے نشان ہی مٹ چکے ہوں تو کہاں جائیں؟

Amal

BBC
امل سرکار کی انگلیاں بغیر لکیروں کے ہیں

سنہ 2008 میں جب اپو بچے تھے، بنگلہ دیش میں سبھی بالغ افراد کے لیے قومی شناختی کارڈ کا آغاز ہوا۔ اس شناختی کارڈ کے لیے انگوٹھے کے نشان کی ضرورت پڑی۔ اہلکار سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اپو کے والد عمل سارکر کا شناختی کارڈ کیسے بنایا جائے۔ آخرکار انھیں جب شناختی کارڈ موصول ہوا تو اس پر لکھا ہوا تھا ’انگلیوں کے نشان کے بغیر۔`

سنہ 2010 میں پاسپورٹ اور ڈرائیور لائسنس کے لیے انگلیوں کے نشان لازمی قرار دیے گئے۔ متعدد کوششوں کے بعد آخر کار امل کو میڈیکل بورڈ سے موصول ایک سرٹییفیکیٹ دکھانے کے بعد پاسپورٹ حاصل ہو گیا۔ حالانکہ وہ اس بات سے گھبراتے ہیں کہ ہوائی اڈے پر انھیں کس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کبھی اس پاسپورٹ کو سفر کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اسی طرح کاشتکاری کے کاموں میں انھیں موٹر بائیک کی شدید ضرورت پیش آتی ہے لیکن وہ کبھی ڈائیور لائسنس حاصل نہیں کر سکے۔ انھوں نے بتایا ’میں نے فیس ادا کی، لیکن انھوں نے کبھی ڈائیور لائسنس نہیں دیا کیوں کہ میں کبھی انھیں انگلیوں کے نشان نہیں فراہم کر سکا۔‘

امل لائسنس فیس کی رسید ہمیشہ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ لیکن لائسنس کے لیے جب کبھی روکے جاتے ہیں تو یہ رسید ہمیشہ کام نہیں آتی۔ دو مرتبہ انھیں جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ انھوں نے جرمانہ وصول کرنے والے اہلکاروں کو اس کی وجہ بھی بتائی، انھیں اپنی انگلیاں بھی دکھائیں، لیکن بات نہیں بنی۔

عمل کہتے ہیں ‘ایسا جب بھی ہوتا ہے مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔‘

سنہ 2016 میں موبائل فون کے سم کارڈ خریدنے والوں کے لیے حکومت نے قومی ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کا انگلی کے نشان سے مماثلت ہونا لازمی قرار دے دیا تھا۔

جب وہ سم کارڈ خریدنے گئے تو وہاں بھی یہی ہوا۔ ڈیٹا بیس میں انگلی کے نشان نہ ملنے کے سبب انھیں سم کارڈ نہیں مل سکا۔ ان کے خاندان کے سبھی مرد اپو کی والدہ کے نام پر خریدے جانے والے سم کارڈ استعمال کرتے ہیں۔

امل اور آپو سرکار

BBC
امل اور آپو سرکار

اس کی وجہ کیا ہے؟

سارکر خاندان کو متاثر کرنے والی یہ غیر معمولی علامت ایڈرماٹوگلائیفیا Adermatoglyphia کہلاتی ہے۔

اس علامت کے بارے میں پہلی بار 2007 میں پتا چلا تھا جب سوئٹزرلینڈ کے ایک ماہر جلد ڈاکٹر آئٹِن سے ایک خاتون نے رابطہ کیا۔ اس خاتون کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ ان کے پاسپورٹ پر موجود تصویر سے ان کی شکل تو ملتی تھی لیکن کسٹم اہلکاروں کو ان کی انگلیوں کے نشان نہیں مل رہے تھے، کیوں کہ ان کی انگلیوں پر نشان تھے ہی نہیں۔

تفتیش کے بعد پتا چلا کہ اس خاتون اور اس کے خاندان کے آٹھ دیگر افراد کو ایسی علامات درپیش تھیں۔ انگلیوں پر کوئی نشان نہیں تھے اور ہاتھ میں پسینہ خارج کرنے والے غدود بھی بہت کم تھے۔

ڈاکٹر آئٹن نے ایک دیگر ماہر جلد ڈاکٹر ایلی شپریشر اور ایک طالب علم کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندان کے 16 افراد کی انگلیوں کے نشانات جمع کیے۔ ان میں سے سات پر نشان تھے جبکہ نو کی انگلیوں پر کوئی نشانات نہیں ملے۔

پروفیسر آئٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے بہت کم کیسز ساری دنیا میں ہیں اور ان میں سے بھی چند کے بارے میں معلومات درج کی گئی ہیں۔

سنہ 2011 میں محققین کی ٹیم نے اس غیر معمولی علامت کے لیے SMARCAD1 نامی جین میں تبدیلی کو ذمہ دار قرار دیا۔ اس وقت اس جین کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ بظاہر اس جینیاتی تبدیلی کے سبب انگلیوں کے نشان نہ ہونے کے علاوہ متاثرہ شخص پر کوئی اور اثر واضح نہیں تھا۔

پروفیسر شپریشر نے بتایا کہ یہ جینیاتی تبدیلی جین کے ایک خصوصی حصے میں ہو رہی تھی اور اس وقت کسی کو بھی اس بارے میں زیادہ معلوم نہیں تھا۔

भारत समेत दुनिया के कुछ देशों में वोटिंग से पहले मतदाता की अंगुली के निशान लिए जाते हैं

Getty Images
دنیا کے کچھ ممالک میں ووٹر کے لیے فنگر پرنٹ لیے جاتے ہیں

یہ میرے ہاتھ میں نہیں

امل کہتے ہیں کہ ‘یہ میرے ہاتھ میں تھوڑا ہے، یہ تو مجھے وراثت میں ملا ہے۔’ اپو سارکر کے چچا گوپیش کو بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے دو برس انتظار کرنا پڑا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ان لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ مجھے واقعی خاندانی مرض ہے، مجھے دو برس میں چار پانچ بار ڈھاکا جانا پڑا۔‘

گوپیش کے دفتر میں ہر روز حاضری درج کرنے کے لیے جب انگلیوں کے نشان کا استعمال کیا جانے لگا تو وہاں بھی انھیں اہلکاروں کو اپنے مرض کے بارے میں یقین دلانے میں بہت محنت کرنی پڑی۔ اب وہ ہر روز ایک رجسٹر میں دستخط کر کے حاضری درج کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ایک ماہر جلد ان کی حالت کو پاموپلانٹر کیراٹوڈرما کا نام دیتے ہیں۔ ڈاکٹر آئٹن کے مطابق یہ ایڈرماٹوگلائیفیا کی ایک قسم ہے جس میں جلد میں خشکی اور ہتھیلی اور پاؤں میں پسینہ خارج کرنے والے غدود کی کمی بھی پائی جاتی ہے، جیسا سارکر خاندان میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہ یقنی بنانے کے لیے کہ سارکر خاندان ایڈرماٹوگلائیفیا سے ہی متاثر ہے، مزید ٹیسٹ کرنے پڑیں گے۔ پروفیسر شپریشر نے بتایا کہ وہ اس خاندان کی جینیاتی ٹیسٹنگ میں مدد کرنا چاہیں گے۔ نتائج سے سارکر خاندان کو اپنے مرض کے بارے میں کچھ معلومات تو ضرور حاصل ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی روزمرہ دشواریوں میں کمی آنے کا امکان کم ہی ہے۔

اپو سارکر کے چھوٹے بھائی انو میں بھی یہ علامات موجود ہیں۔

انو

BBC
اپو سارکر کے چھوٹے بھائی انو میں بھی یہ علامات موجود ہیں

ان غیر معمولی علامات سے متاثرہ خاندان کے لیے معاشرے کے ساتھ چلنے کا عمل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عمل سارکر کہتے ہیں کہ ان کے لیے زندگی اتنی زیادہ دشوار نہیں تھی، لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور انھیں اپنے بچوں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں سوچ کر افسوس ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘میرے لیے یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ میں اور میرے بیٹے انگلیوں پر نشان نہ ہونے کے سبب ہر قسم کے مشکل حالات میں پھنس جاتے ہیں۔‘

عمل اور اپو کو گذشتہ دنوں میڈیکل سرٹیفیکیٹ دکھانے کے بعد قومی شناختی کارڈ مل گئے ہیں۔ کارڈ کے لیے استعمال ہونے والی ذاتی معلومات میں ان کی آنکھ کی پتلیوں اور چہرے کے سکین کو شامل کیا گیا ہے۔

لیکن اب بھی وہ سِم کارڈ یا ڈرائیور لائسنس حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ اور پاسپورٹ حاصل کرنے کا راستہ بھی بہت طویل ہے۔

اپو نے کہا ‘میں ہر کسی کو بار بار اس بارے میں بتا کر تھک چکا ہوں۔ میں نے بہت لوگوں سے اس کا حل بھی پوچھا لیکن کوئی مجھے پختہ جواب نہیں دے سکا۔ کسی نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ مجھے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔ اگر ہر راستہ بند ہو گیا تو شاید مجھے یہی کرنا پڑے۔’

اپو کو امید ہے کہ انھیں پاسپورٹ مل جائے گا۔ وہ بنگلہ دیش کے باہر کی دنیا بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17391 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp