بٹ کوائن: غیرقانونی ہونے کے باوجود انڈیا کرپٹو کرنسی کی ایشیا میں دوسری بڑی مارکیٹ کیسے بنا؟

ندھی رائے - بی بی سی نیوز، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بٹ کوائن
Getty Images
مارکیٹ میں ایک بٹ کوائن کی قیمت فی الوقت 16 لاکھ انڈین روپے کے لگ بھگ ہے
انڈیا میں بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی دوبارہ سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل ہو گئی ہے اور یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا اس مرتبہ کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں انٹری شاندار نظر آ رہی ہے۔

شاندار اس وجہ سے کہ مارکیٹ میں ایک بٹ کوائن کی قیمت فی الوقت 16 لاکھ انڈین روپے کے لگ بھگ ہے جو کہ تقریباً 22 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

یہ بٹ کوائن کی گذشتہ تین برسوں کے دوران انڈیا میں بلند ترین قیمت ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں اس کی قیمت محض چھ ہزار ڈالر تھی۔ انڈین مارکیٹ میں اس طرح کی چہ میگوئیاں بھی جاری ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے باقاعدہ طور پر ریگولیٹ کرنے کا کوئی ادارہ نہیں ہے۔ یہ روپے یا ڈالر کی طرح کاغذی کرنسی نہیں ہے لیکن اس کا استعمال خرید و فروخت میں ہو سکتا ہے۔

دہلی کی 34 سالہ رہائشی ریتیکا ایک پبلک ریلیشن آفیسر ہیں جو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بٹ کوائن کی قدر میں 170 فیصد اضافہ

کرپٹو کوئین: وہ خاتون جس نے اربوں لوٹے اور غائب ہو گئی

امریکی حکام نے ایک ارب ڈالر کے بِٹ کوائنز ضبط کر لیے

چار ماہ قبل انھوں نے سرمایہ کاری کی اور بٹ کوائنز خریدے۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے کرپٹو کرنسی کے متعلق ایک مضمون پڑھا، مجھے یہ بہت دلچسپ لگا۔ مجھے یہ خیال پسند آیا اور میں نے سوچا کہ میں کچھ نیا کیوں نا کروں۔ چار مہینوں میں میری سرمایہ کاری پر منافع دس گنا ہو چکا ہے۔‘

ریتیکا ایک نئی سرمایہ کار ہیں اور وہ اپنی رقم کو پانچ سال سے زیادہ رکھنا چاہتی ہیں۔

’میں یہ کام تیزی سے کمانے کے لیے نہیں کر رہی ہوں۔ یہ سرمایہ کاری میرے مستقبل کے لیے ہے۔ میں سنگل ہوں اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہوں۔‘

کرپٹوکرنسی پر مضمون پڑھنے کے بعد ریتیکا نے کچھ تحقیق کی اور پھر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

’ٹویٹر، فیس بک اور بلاگز پر آپ کو بہت سارے لوگ ملیں گے جو آپ کی طرح سوچتے ہیں، آپ ان سے بات کر سکتے ہیں، ان سے اور ان کی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں۔‘

بہت ساری کاروباری کمپنیاں بھی بین الاقوامی لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کر رہی ہیں۔ ممبئی میں مقیم روچی پال کا تعمیرات کا کاروبار ہے اور وہ سنہ 2015 سے کرپٹو کرنسی استعمال کر رہی ہیں۔

انھوں نے اس کا استعمال اس لیے شروع کیا کیونکہ ان کے بین الاقوامی گاہک کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کرنا چاہتے تھے۔

وہ کہتی ہیں ’بٹ کوائن دنیا بھر میں چلتا ہے۔ سنگاپور اور ملائشیا میں میرے کلائنٹ مجھے کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کرنا چاہتے تھے کیونکہ ویسٹرن یونین جیسے دوسرے میڈیم مہنگے اور تکلیف دہ ہیں۔ میں نے بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ وے جیسے پے پال اور پرفیکٹ منی کا استعمال کیا۔ لیکن پھر میں نے بٹ کوائن کا استعمال شروع کر دیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے استعمال کے لیے کسی تیسرے فریق کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، وہ آسان اور کفایتی ہے۔

کیا طویل عرصے تک کریٹو کرنسی چلے گی؟

وزیر ایکس انڈیا کا مرکزی کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم ہے۔ پچھلے چھ مہینوں میں 300 فیصد زیادہ صارفین نے اس پلیٹ فارم پر سائن اپ کیا ہے۔

کمپنی کے سی ای او نشچل شیٹی کے مطابق ’مارچ میں عدالت عظمیٰ نے آر بی آئی کے ایک حکم کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مالیاتی خدمات کی فرموں کے ذریعہ ورچوئل یا کرپٹو کرینسی استعمال نہیں کی جا سکتی ہے۔‘

’اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ ہو گيا اور لوگوں نے گھر سے کام کرنا شروع کر دیا۔ اس سے لوگوں کو کرپٹو کرنسیز کے بارے میں پڑھنے اور تحقیق کرنے کے لیے کافی وقت ملا۔ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئیں اور انھوں نے پیسہ کمانے کے لیے نئے طریقوں کی تلاش شروع کر دی۔‘

’اس وبا نے لاکھوں لوگوں کو کرپٹو کی طرف راغب کیا۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں جیسے مائکرو سٹریٹجی، پے سکیل اور پے پال نے کرپٹو کرنسی میں بہت زیادہ رقم لگائی ہے۔ اس سے اس صنعت میں بہت زیادہ سرمایہ آیا ہے۔‘

لیکن سنہ 2017 کے بعد سے کیا بدلا ہے؟ اس کے جواب میں شیٹی کہتے ہیں ’سرمایہ کار پہلے کی نسبت زیادہ تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2017 تک کی سائیکل دیکھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اتار چڑھاؤ، پھر اتار چڑھاؤ ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

وزیر ایکس کے علاوہ مارکیٹ میں جیب پے، کوائن ڈی سی ایس اور کوائن سوئچ جیسی کمپنیاں ہیں۔ وزیر ایکس کے مطابق ان کے صارفین کی اوسط عمر 24 سے 40 سال کے درمیان ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

کرپٹو کرنسی کے مارکیٹ واچ ڈاگ کے مطابق 16 دسمبر 2020 کو انڈیا کی چار بڑی کرپٹو کرنسیوں کے مابین 22.4 ملین ڈالر کی تجارت ہوئی۔ یکم مارچ تک یہ تعداد ساڑھے چار ملین ڈالر تھی۔

اس کے علاوہ مارچ کے بعد سے مرکزی ایکسچینج میں 500 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے پیکس فل کی رپورٹ کے مطابق چین کے بعد ایشیا میں بٹ کوائن کی سب سے بڑی منڈی انڈیا بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا بھی دنیا کی چھٹی بڑی منڈی ہے اور اس سے آگے امریکہ، نائیجیریا، چین، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک ہیں۔

کوائن ڈی سی ایکس کے سی ای او سومت گپتا کے مطابق ’وہ لوگ جو کرپٹو کرنسی کے پیچھے کی ٹیکنالوجی جانتے ہیں وہ اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔‘

کیا انڈیا میں کرپٹو کرنسی قانوناً جائز ہے؟

سنی بٹ کوائن کے بانی سندیپ گوینکا کا کہنا ہے کہ ’بٹ کوائن مستقبل میں پیسوں کا انٹرنیٹ بن جائے گا۔‘

’حکومت ہند کے پاس موقع ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرے اور باہر آئے اور کہے کہ یہ غیر قانونی نہیں ہے اور اس کے متعلق ٹیکس کی پالیسی کو سامنے لائے۔‘

’دوسرے ممالک میں بھی آہستہ آہستہ نئے ضابطے بنائے جا رہے ہیں اور انڈیا ان سے سبق سیکھ سکتا ہے اور ان کے مطابق تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ وہ صنعت کے لوگوں سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ایک فریم ورک تیار کر سکتے ہیں۔ ہم فن ٹیک اور ٹیکنالوجی کے رہنما ہیں۔ اور اس کے استعمال سے ہم اس نئے انقلاب کی بھی قیادت کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’مکمل طور پر آن لائن ہونے کی وجہ سے اس کے غلط استعمال اور دھوکہ دہی کے بھی امکانات ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ انڈیا کے مرکزی بینک نے اس کی مخالفت کی اور سنہ 2018 میں اس پر پابندی عائد کر دی لیکن سپریم کورٹ نے دوبارہ اس کے استعمال کی اجازت دی ہے۔‘

گوینکا کا خیال ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نے معاشرے میں کوئی تعاون نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں ’کسی بھی دوسری صنعت کی طرح یہاں بھی اچھے اور برے لوگ موجود ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے اسے بڑھنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ سرمایہ کاری کرتے وقت کسی کو جذبات میں نہیں بہنا چاہیے۔ ایک شخص دس روپے سے شروع کر سکتا ہے اور آہستہ آہستہ سیکھ سکتا ہے۔

چھ اپریل سنہ 2018 کو آر بی آئی نے ایک سرکولر جاری کیا جس میں تجارت کے لیے کرپٹو کرنسیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی اور حکم دیا کہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو کسی بھی قسم کی ورچوئل کرنسی میں لین دین نہیں کرنا چاہیے۔

اداروں کو اس سے باہر آنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ اس سے قبل آر بی آئی نے اپنے صارفین اور تاجروں کو بھی اس کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

اس فیصلے کو انٹرنیٹ اور موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے چیلنج کیا تھا جو سپریم کورٹ میں مختلف کرپٹو کرنسیوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے بینک کا فیصلہ مسترد کر دیا۔

آر بی آئی نے یہ فیصلہ دھوکہ دہی کے خوف سے کیا تھا اور وہ حکومت کے منتظر تھے کہ وہ اس بارے میں کوئی رہنما اصول جاری کرے۔

انٹرنیٹ اور موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کا ماننا ہے کہ آر بی آئی کا یہ فیصلہ غیر آئینی تھا اور کسی بھی کاروبار کو ملک کے بینکاری نظام کو استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

لیکن اس پر ٹیکس کیا ہو گا؟

ابھی اس بات پر تذبذب ہے کہ کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کس طرح دیکھا جائے گا۔ حکومت نے اس سے متعلق کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا ہے۔

منی ایڈوسکول کے بانی اروند پانڈیا نے بی بی سی کو بتایا ’اسے دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی طرح دیکھنا ہو گا۔ اس کا اس بات پر انحصار ہو گا کہ آپ اسے تھوڑے وقت کے لیے رکھے ہوئے ہیں یا طویل عرصے کے لیے۔ اس کے مطابق آپ کو کیپیٹل گین ٹیکس دینا پڑے گا۔‘

’یہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ پر منحصر ہو گا کہ وہ اس آمدنی کو کس طرح دکھاتا ہے۔ آپ یہ فرض نہیں کر سکتے کہ محکمہ انکم ٹیکس کو آپ کی آمدنی کے بارے میں معلوم نہیں ہو گا۔ ان کے پاس تمام پلیٹ فارمز کے ریکارڈ ہیں اور سب یعنی اپنے گاہک کو جانیں جیسے قانون پر عمل کرنا ہوتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17357 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp