سنیل گواسکر کی یادیں: سر ڈان بریڈمین کا 29 سنچریوں کا 35 سالہ ریکارڈ توڑنے کا طویل انتظار

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سنیل گاوسکر

Getty Images

کہنے کو یہ صرف ایک جملہ ہے کہ سر ڈان بریڈمین کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 29 سنچریوں کا عالمی ریکارڈ ٹوٹ گیا لیکن اس کے پیچھے 35 سال کا طویل اور صبر آزما انتظار ہے۔

ان 35 برسوں کے دوران کئی بیٹسمین آئے اور چلے گئے لیکن قدرت نے اس ریکارڈ سے آگے نکلنے کے لیے انڈیا کے شہرۂ آفاق بیٹسمین سنیل گواسکر کا انتخاب کر رکھا تھا۔

تاہم جن حالات میں گواسکر سرڈان بریڈمین سے آگے نکلے وہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

ویوین رچرڈز کا طنزیہ فقرہ

یہ دسمبر 1983 کی بات ہے جب انڈین ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف چھ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری ٹیسٹ میں مدمقابل تھی۔ مدراس میں ہونے والے اس ٹیسٹ سے قبل کلائیو لائیڈ کی قیادت میں ویسٹ انڈین ٹیم تین صفر سے پہلے ہی اپنے میزبانوں کو ذہنی طور پر بکھیر چکی تھی۔

اس سیریز سے قبل انڈیا نے پاکستان کے خلاف ہوم سیریز کھیلی تھی جس کے بنگلور ٹیسٹ میں سنیل گواسکر نے اپنی 28 ویں ٹیسٹ سنچری بنائی تھی اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں ہر کوئی انھیں سرڈان بریڈمین کی 29 سنچریوں سے آگے نکلتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’والدہ سٹیڈیم آئیں لیکن تینوں بھائی صفر پر آؤٹ‘

’والدہ نے کہا میں نے دو ٹرافیاں جیت لی ہیں اب آپ کی باری ہےʹ

میانداد کی شرارتیں اور کرکٹ کی دنیا میں سلیجنگ کے دلچسپ واقعات

گواسکر نے سیریز کے دلی ٹیسٹ میں سرڈان بریڈمین کا ریکارڈ برابر کر دیا تھا لیکن اگلی پانچ اننگز میں معمولی سکور پر آؤٹ ہونے کی وجہ سے ان پر خاصا دباؤ آ چکا تھا۔

مدراس ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے 313 رنز کے جواب میں انڈیا نے اپنی پہلی اننگز انشومن گائیکواڈ اور نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ شروع کی۔ یہ گواسکر کے ٹیسٹ کریئر میں پہلا موقع تھا کہ انھوں نے اننگز کا آغاز نہیں کیا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ انھیں اننگز کے پہلے ہی اوور میں کریز پر نہ صرف آنا پڑا بلکہ ویوین رچرڈز کا طنزیہ فقرہ بھی سننا پڑا۔

گواسکر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ʹمیں ڈریسنگ روم میں جوتے پہن رہا تھا کہ انشومن گائیکواڈ کی وکٹ گرگئی۔ میدان میں جانے والے ون ڈاؤن بیٹسمین دلیپ وینگسارکر تھے۔ میں نے ابھی تھائی پیڈ باندھا ہی تھا کہ تماشائیوں کا شور سنائی دیا۔ پتہ چلا کہ وینگسارکر بھی آؤٹ ہوکر واپس آرہے ہیںʹ۔

سنیل گاوسکر

Getty Images

گواسکر نے لکھا ہے ʹمجھے یہ احساس بھی نہ ہوا کہ میں نے جس پہلی گیند کا سامنا کیا وہ میلکم مارشل کی ہیٹ ٹرک بال تھی جسے میں نے اطمینان سے کھیلا لیکن جیسے ہی اوور ختم ہوا تو ویوین رچرڈز نے میرے قریب سے گزرتے ہوئے ہنستے ہوئے فقرہ کسا، ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم بیٹنگ کے لیے نیچے آؤ، سکور بدستور صفر ہی ہے۔‘

سنیل گواسکر نے اس اننگز میں اس دور کے سب سے خطرناک فاسٹ بولنگ اٹیک کا مقابلہ کرتے ہوئے 236 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے تھے۔ یہ اس وقت کسی بھی انڈین بیٹسمین کا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی سکور بھی تھا۔

28 دسمبر کا دن سنیل گواسکر کے لیے خاصی اہمیت اختیار کر گیا جب انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 30 ویں سنچری مکمل کی اور سر ڈان بریڈمین کی 29 سنچریوں کے 35 سالہ پرانے عالمی ریکارڈ کو اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

مگر گواسکر یہ ٹیسٹ کھیلنے کے لیے تیار نہ تھے۔

کوہلی اب سچن سے بھی آگے

سٹیو سمتھ گارفیلڈ سوبرز کے برابر

سنیل گواسکر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’کولکتہ ٹیسٹ کے بعد کپتان کپل دیو کا ایک انٹرویو ذرائع ابلاغ کی زینت بنا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ چند انڈین سینیئر کھلاڑی کھیل سے زیادہ پیسے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

’یہ کپتان کی طرف سے ایک سخت قسم کا بیان تھا۔

’میں چند روز انتظار کرتا رہا کہ کپل دیو کی طرف سے اس بیان کی کوئی وضاحت سامنے آئے گی لیکن جب ایسا نہ ہوا تو میں نے انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ سالوے کو فون کیا اور کہا کہ اگر کپل دیو سمجھتے ہیں کہ ان کے کھلاڑی سو فیصد اپنی کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں اور کپتان کا ان پر اعتماد نہیں ہے تو پھر میں مدراس کا آخری ٹیسٹ نہیں کھیلوں گا۔ʹ

سنیل گواسکر نے مزید لکھا ہے کہ ʹکرکٹ بورڈ نے جب کپل دیو سے پوچھا تو انھوں نے ایسے کسی بیان کی تردید کی لیکن میں اس سے مطمئن نہ تھا اور فیصلہ کرلیا کہ مجھے یہ ٹیسٹ نہیں کھیلنا چاہیے۔ میرے ماموں مدھو منتری نے مجھے مشورہ دیا کہ اگر تم کھیلنا نہیں چاہتے تو یہ بہانہ کر دو کہ تم زخمی یا بیمار ہو لیکن میں نے کہا کہ میں نے اپنے پورے کریئر میں کبھی ایسا نہیں کیا ہے اور نہ اب کروں گا۔

’مجھے یہ بات بھی یاد دلائی گئی کہ ایک فاتح کبھی مقابلہ نہیں چھوڑتا اور مقابلہ چھوڑنے والا کبھی فاتح نہیں ہوتا، چنانچہ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے مدراس ٹیسٹ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ ʹ

سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بھی اسی سیریز میں

ویسٹ انڈیز کے خلاف اس سیریز کے احمد آباد ٹیسٹ میں سنیل گواسکر اپنی 90 رنز کی اننگز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی بن گئے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ انگلینڈ کے جیف بائیکاٹ نے 8114 رنز بنا کر قائم کیا تھا تاہم ان کا یہ ریکارڈ صرف دو سال قائم رہ سکا۔

بریڈ مین

Getty Images

بریڈمین گاوسکر کے مداح تھے

جب سنیل گواسکر نے سر ڈان بریڈمین کی 29 سنچریوں کا ریکارڈ توڑا تو انھوں نے انھیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گواسکر کی تکنیک، رویے اور انہماک کو ہمیشہ پسند کرتے آئے ہیں۔ وہ دنیا کے بہترین اوپننگ بیٹسمین اور اس کھیل کی خوبصورتی ہیں۔

ممبئی کے بیٹسمین شیشر ہتن گادی کہتے ہیں کہ انھیں 1985 میں سرڈان بریڈمین سے ملنے کا موقع اس وقت ملا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایڈیلیڈ میں بریڈمین کے گھر کے باہر جا کر کھڑے ہو گئے۔

بریڈمین پودوں کو پانی دینے کے لیے باہر آئے تو وہ اور ان کے دوستوں نے انھیں گڈ مارننگ کہا جس پر بریڈمین نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور پوچھا کہ آپ لوگ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم نے بتایا کہ انڈیا سے ہیں جس پر بریڈمین فوراً بولے، ’آپ میں سے کس نے سنیل گواسکر کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے؟‘

شیشر گادی نے بتایا کہ انھوں نے گواسکر کے ساتھ اوپننگ کی ہے۔ وہ تمام دوستوں کو گھر کے اندر لے گئے جو ان کے لیے حیران کن تھا کیونکہ بریڈمین لوگوں سے کم ہی ملتے تھے۔ بریڈمین کا کہنا تھا کہ بیٹ گواسکر کے ہاتھوں میں تابعدار ہوا کرتا تھا۔

موازنے کے حق میں نہیں ہوں

سنیل گواسکر سے متعدد بار سر ڈان بریڈمین سے ان کے موازنے کے بارے میں پوچھا جاتا رہا ہے لیکن گواسکر ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ وہ موازنے کے حق میں نہیں ہیں، خاص طور پر دو مختلف ادوار کے کھلاڑیوں کا موازنہ آپ کیسے کرسکتے ہیں۔

سچن تیندولکر

Getty Images

اور پھر سچن تندولکر آگئے

سنیل گواسکر نے جب اپنے ٹیسٹ کریئر کا اختتام کیا تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے واحد بیٹسمین تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ نو سال بعد آسٹریلیا کے ایلن بورڈر نے توڑا۔ پھر بین الاقوامی کرکٹ میں سچن تندولکر کی شکل میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک بیٹسمین کی آمد ہوئی اور ریکارڈز ان کے نام ہوتے چلے گئے۔

سچن تندولکر کو سنیل گواسکر کی 34 سنچریوں کے عالمی ریکارڈ سے آگے نکلنے کے لیے 22 سال انتظار کرنا پڑا۔

دسمبر 2005 میں انڈیا اور سری لنکا کے درمیان دلی ٹیسٹ میں سچن تندولکر نے اپنی 35 ویں ٹیسٹ سنچری اسکور کی لیکن جب ان کے ٹیسٹ کریئر کا اختتام ہوا تو ان کی سنچریوں کے سامنے 51 کا ہندسہ جگمگا رہا تھا۔

بظاہر یہ ریکارڈ اتنی آسانی سے ٹوٹتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ موجودہ کھلاڑیوں میں صرف تین نام ویراٹ کوہلی، سٹیو اسمتھ اور کین ولیئمسن ایسے ہیں جو اگر اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھیں تو اس ریکارڈ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انھیں طویل مسافت طے کرنی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ 51 سنچریوں کا یہ ریکارڈ کون توڑے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17264 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp