فخر زمان: کیا پاکستان میں سویلین افراد کو اعزازی فوجی رینک دینے کی روایت موجود ہے؟

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی کرکٹر فخرزمان کو پاکستان نیوی کی جانب سے اعزازی لیفٹیننٹ کا رینک دیے جانے کو پاکستانی ذرائع ابلاغ اور عوامی حلقوں میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا فخرزمان پہلے سویلین ہیں جنھیں پاکستان میں اعزازی فوجی رینک دیا گیا ہے؟

لوگ اس وقت یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان میں سویلین افراد کو فوری رینک دینے کی روایت پہلے سے موجود ہے جبکہ ان انڈین کرکٹرز کی بات بھی ہو رہی ہے جنھیں اس نوعیت کے اعزازی رینک پہلے مل چکے ہیں۔

تاہم ان تمام سوالات کا جواب جاننے سے قبل پہلے ٹیسٹ کرکٹر فخرزمان کے پاکستان نیوی سے تعلق کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’فخر زمان، فخرِ پاکستان‘

فخر زمان، ثنا میر اور حسن علی کے لیے ایوارڈز

فخر کی ڈبل سنچری، پاکستان کی مسلسل چوتھی جیت

کیا فخرزمان فوجی رہ چکے ہیں؟

فخرزمان نے 2007 میں بحیثیت انڈر ٹرینی یعنی تربیت حاصل کرنے والے سیلر کے طور پر پاکستان نیوی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

وہ ایک سال تک باقاعدہ ٹریننگ میں بھی رہے اور اسی دوران وہ کرکٹ کھیلنے کا شوق بھی پورا کرتے رہے اور پاکستان نیوی کی طرف سے مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے رہے۔

فخرزمان کے ذہن میں پروفیشنل کرکٹر بننے کا خیال موجود تھا لیکن انھیں یہ معلوم تھا کہ پاکستان نیوی ڈومیسٹک کرکٹ میں صرف گریڈ ٹو مقابلوں میں حصہ لیتی ہے لہذا فخرزمان کے لیے کرکٹ میں آگے بڑھنے کے امکانات محدود تھے اس لیے انھوں نے سنہ 2013 میں پاکستان نیوی کو درخواست دی کہ انھیں پاکستان بحریہ سے فارغ کر دیا جائے۔

https://twitter.com/dgprPaknavy/status/1343522998859542528

فخرزمان کی پاکستان نیوی سے تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا کیونکہ سنہ 2017 میں چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کے خلاف یادگار سنچری کے بعد پاکستان نیوی نے انھیں ’ماسٹر چیف پیٹی آفیسر‘ کے طور پر شامل کر لیا تھا۔

اس طرح یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فخرزمان کو ایک سویلین کی حیثیت سے اعزازی لیفٹیننٹ کا رینک دیا گیا ہے کیونکہ وہ سنہ 2017 سے باقاعدہ پاکستان نیوی سے وابستہ ہیں۔

فخرزمان کو اعزازی لیفٹیننٹ کی حیثیت سے پاکستان نیوی میں متعدد مراعات حاصل ہوں گی جن میں پنشن بھی شامل ہے۔

پاکستان میں سویلین کو فوجی رینک دینے کی روایت

پاکستان میں سویلین حضرات کو فوجی رینک دینے کی باقاعدہ کوئی مثال موجود نہیں ہے البتہ ایسی مثالیں برٹش آرمی میں ضرور موجود رہی ہیں۔

تجزیہ کار بریگیڈیئر صولت رضا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 2015 میں تھیلیسیمیا میں مبتلا ایک 17 سالہ لڑکے شعیب اورنگزیب نے پاکستان آرمی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر اس لڑکے کو یونیفارم پہنا کر ایک دن کے لیے اعزازی طور پر پاکستان آرمی میں شامل کیا گیا تھا۔

اس لڑکے نے اس موقع پر پاک فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی تھی اور پھر ایک دن ملیر یونٹ میں گزارا تھا۔

صولت رضا کے مطابق پاکستان آرمی میں ایسا ضرور ہوا ہے کہ کسی ایتھلیٹ کو جس کا تعلق آرمی سے ہو اسے ایک رینک اوپر کر دیا گیا۔

اس کی ایک مثال مشہور ایتھلیٹ حوالدار محمد یونس کی ہے جنھوں نے سنہ 1974 کے ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

جہانگیر خان اور جان شیر خان کو بھی یہ اعزاز ملنا چاہیے

سکواش

Getty Images

بین الاقوامی ریسلنگ مقابلوں میں کھلاڑی اور آفیشل کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرنل (ریٹائرڈ) آصف ڈار بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فخرزمان کو اعزازی فوجی رینک دیا جانا بہت اچھی بات ہے۔

‘وہ ہمارے ایک ایسے کرکٹر ہیں جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے تاہم ہمارے دوسرے کھیلوں سے تعلق رکھنے والے قابل ذکر کھلاڑی بھی موجود ہیں اور انھیں بھی اس طرح کے اعزازات دیے جانے چاہییں’

آصف ڈار کا کہنا ہے کہ اس کی دو بڑی مثالیں جہانگیرخان اور جان شیر خان ہیں۔ یہ دونوں عالمی چیمپئن رہے ہیں اور جان شیرخان پاکستان ائیر فورس میں بھی رہ چکے ہیں۔

اعزازی فوجی رینک کے حامل انڈین کرکٹرز

انڈیا میں ایسے پانچ کرکٹرز ہیں جنھیں اعزازی فوجی رینکس دیے گئے ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی مثال سی کے نائیڈو کی ہے جو سنہ 1932 میں لارڈز کے میدان میں انڈیا کا اولین ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کے کپتان تھے۔ انھیں سنہ 1923 میں آرمی میں کرنل کا عہدہ دیا گیا تھا۔

سچن

Getty Images

ہیموی ادھیکاری نے دوسری جنگ عظیم میں خدمات انجام دی تھیں اور ان کا فوجی کریئر لیفٹحننٹ کرنل کے طور پر اختتام کو پہنچا تھا۔

آل راؤنڈر کپل دیو ستمبر 2008 میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کی حیثیت سے انڈین آرمی میں شامل ہوئے تھے۔

بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں بنانے والے سچن تندولکر کو انڈین ایئر فورس نے سنہ 2010 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی گروپ کیپٹن کے عہدے سے نوازا تھا۔

دھونی

Getty Images

سابق وکٹ کیپر کپتان مہندر سنگھ دھونی کو سنہ 2011 میں انڈین آرمی نے اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا عہدہ دیا۔

دھونی نے سنہ 2019 کے عالمی کپ کے بعد جموں اور کشمیر میں اپنی رجمنٹ کے ساتھ دو ہفتے گزارے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17380 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp