خلاباز سکاٹ کیلی سے گفتگو: خلا میں ایک برس تک کیسے زندہ رہا جا سکتا ہے؟

پال رنکن - سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Scott Kelly
NASA
خلاباز سکاٹ کیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر ایک سال تک کیوں اور کس طرح زندگی گزارنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ناسا سے ریٹائرمنٹ کے چار سال بعد آج بھی اگر کوئی ان سے پوچھے تو وہ خلا میں واپس جانے کو تیار ہیں تو ان کا جواب ہاں میں ہو گا۔

یہ 16 جولائی 2015 کی تاریخ ہے اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر موجود تین خلا باز روسی ساختہ خلائی کیپسول میں سکڑ کر بیٹھ رہے ہیں جو کسی ہنگامی صورتحال میں لائف بوٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

عملے کے ممبران کو مشن کنٹرول کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ایک بہت بڑا اور ناکارہ سیٹلائٹ 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ان کی جانب بڑھ رہا ہے اور نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کنٹرولرز جانتے ہیں کہ یہ قریب آئے گا، لیکن وہ اس چیز کا بالکل درست طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ صرف قریب سے گزر جائے گا یا کوئی بڑی تباہی لائے گا۔

امریکی خلاباز سکاٹ کیلی اور روسی خلا باز جنناڈی پڈالکا اور میخائل میشا تنگ کیپسول میں گھس کر دھات کے اس تیز گولے کے قریب آنے کا انتظار کر رہے ہیں، اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے انھیں تیار کیا گیا تھا اور پہلے سے متعین کردہ طریقہ کار کے تحت انھیں مختصر نوٹس پر سٹیشن سے علیحدہ ہو کر اب زمین پر لوٹ جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مجھے خلا میں کھٹکھٹانے کی آواز آئی‘

پیگی وِٹسن خلا میں جانے والی معمر ترین خاتون

’میں خلا باز نہیں بن سکتا کیونکہ میری ہڈیاں نازک ہیں‘

ایسا نہیں ہے کہ سابق فوجی پائلٹ کیپٹن کیلی زندگی میں پہلی بار ایسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہوئے ہوں۔ لیکن اس تجربے نے انھیں خلابازوں کی اجتماعی بے بسی کے بارے میں غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ اگر سیٹلائٹ ٹکرا جاتا تو انھیں وہاں سے بحفاظت دور جانے کا وقت نہ ملتا۔

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’میشا، جنڈی اور میں سرد کیپسول میں ایک دوسرے سے چپکے ہوئے تھے، اگر یہ گولا واقعی ٹکرا جاتا تو ہم ایک ملی سیکنڈ میں ایک سو ملین ایٹموں کی صورت میں دھماکے کے ساتھ فضا میں بکھر جاتے۔‘

آئی ایس ایس پر عملے کی تبدیلی، زمین پر روزمرہ زندگی کی بہت ساری خصوصیات میں سے ایک ہے: ویڈیو کالز، صفائی ستھرائی اور کام پر مشکل دن وغیرہ، سب اس میں شامل ہیں۔ لیکن ہر موقع پر خلا میں اپنے آرام دہ ویسل کے اندر بیٹھے خلابازوں کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ کس سخت مشکل ماحول میں موجود ہیں۔

ISS

NASA

سنہ 2007 کے بعد سے کیلی نے زمین کے مدار میں گھومنے والی پوسٹ کے تین الگ الگ دورے کیے ہیں۔ لیکن سنہ 2015 اور سنہ 2016 کے درمیان ان کی آخری پرواز کے وقت انھیں دنیا بھر میں پزیرائی ملی۔

میشا کورینینکو کے ساتھ انھیں ایک پورا سال سپیس سٹیشن پر گزارنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جو باقاعدہ قیام کی مدت سے دگنی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے کسی امریکی کی جانب سے سپیس فلائٹ کے طویل دورانیے کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ ان سے قبل امریکی خلاباز مائیکل لوپیز الیگریہ نے 100 دن خلا میں رہنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

لیکن کیلی کی وجہ شہرت ان کے ایک جڑواں بھائی مارک بھی ہیں جو ناسا میں خلاباز تھے۔ مارک کیلی سے چھ منٹ بڑے ہیں۔ سنہ 2020 کے امریکی انتخاب میں انھیں ریاست ایریزونا سے سینیٹر منتخب کیا گیا تھا۔

کولوراڈو میں اپنے گھر سے ویڈیو کال کے ذریعے مجھ سے بات کرتے ہوئے سکاٹ کیلی کہتے ہیں کہ ایسا کوئی لمحہ نہیں تھا جب انھیں جلدی گھر جانے کا خیال آیا ہو۔ ’میرا مقصد پرواز کے اختتام پر اسی توانائی اور جوش و خروش کے ساتھ پہنچنا تھا جس کے ساتھ میں نے یہ سفر شروع کیا تھا اور مجھے لگتا ہے کہ میں نے ایسا کر دکھایا۔‘

’اگر کوئی ضروری وجہ ہوتی تو میں وہاں زیادہ دن ٹھہر سکتا تھا۔ اور ایسا کرنے کے لیے میں نے اپنی صلاحیت پر کبھی شک نہیں کیا۔‘

اس حقیقت کے باوجود کہ خلاباز اور خلا نورد کی نفسیاتی صلاحیتوں کی جانچ کی جاتی ہے، وہ کہتے ہیں ’میں جانتا ہوں کہ دوسروں کو بھی مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ مشکل کام ہے، لیکن یہ اتنا مشکل نہیں ہے کہ آپ یہ نہیں کر سکتے۔‘

وہ وضاحت کرتے ہیں: ’میں نہیں جانتا کہ یہ لازمی طور پر ایک انٹروورٹ (اپنی ذات کی طرف توجہ مرکوز رکھنے والا شخص) یا ایکسٹرورٹ (ایسا شخص جو باہِر کی چیزوں اور افراد میں زیادہ دِلچَسپی لیتا ہے) چیز ہے، لیکن آپ کو یقینی طور پر خود اپنے لیے تفریح کا سامان کرنا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اور ہر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔‘

Scott (L) and Mark Kelly

NASA

ان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین چیز صرف یہ نہیں ہے کہ آپ باہر جا کر فطرت سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، خلائی سٹیشن کے کاموں کا ایک سخت یومیہ شیڈول ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اور چیلنج، ایک چھوٹی سے جگہ پر، انھی لوگوں کے ساتھ طویل عرصے تک رہنا تھا۔۔۔۔ ’اگرچہ وہ سب بہت اچھے لوگ ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ یہ ایک چیلنج تھا جسے کامیابی کے ساتھ پورا کیا گیا، کیونکہ اتنی چھوٹی جگہ پر ایک ساتھ رہنے سے بہترین دوستی قائم کرنے میں مدد ملی: ’میں (ناسا کی) کیجل لنڈگرن کے ساتھ ای میلوں کا تبادلہ کرتا رہا۔ میری بیوی اور میں نے اطالوی یورپی خلا باز سامانتھا کرسٹوفوریٹی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ میں میشا کورینیکو اور گناڈی پڈالکا سے بات کرتا رہتا تھا۔‘

امریکہ آئی ایس ایس کے لیے مزید چار سال کی مالی اعانت کا پابند ہے، لیکن اس کے بعد آربٹ لیب کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ یہ خلائی سٹیشن 1990 کے دہائی میں، امریکہ اور روس کے مابین سیاسی کشمکش کے دوران بنا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’خلائی سٹیشن پروگرام پرامن طریقے سے بین الاقوامی تعاون کی ایک عمدہ مثال رہا ہے، سٹیشن پر موجود خلا نوردوں کے ساتھ میرا تجربہ ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت، احترام، اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والا رہا ہے۔‘

’مجھے امید یہ ہے کہ جب بھی ہم بحر الکاہل میں خلائی سٹیشن لگانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی جگہ لینے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور موجود ہو گا۔ گذشتہ 20 سالوں سے تمام انسان ایک ہی وقت میں زمین پر موجود نہیں رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ کام جاری رہے۔‘

کیلی نے اپنے پورے سال کے دوران مدار پر صرف کام ہی نہیں کیا۔ وہ انتہائی ضروری تفریحی اور کھیلوں کے لیے بھی وقت نکالنے میں کامیاب رہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں، انھوں نے گوریلا سوٹ میں ملبوس خلائی سٹیشن کے کسی حصے میں برطانوی خلاباز ٹم پیچ کا پیچھا کیا۔ پیچ نے خود کو ڈرا ہوا دکھانے کا بہترین مظاہرہ کیا۔

’ویکیوم سے بھرا ہوا یہ سوٹ سپلائی فلائٹ کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ یہ مارک کی جانب سے سالگرہ کا تحفہ تھا اور میں نے سکاٹ سے پوچھا کہ کیا یہ بھائیوں کے درمیان کسی طرح کا مذاق تھا۔‘

کیلی نے مسکراتے ہوئے بتایا ’میرے بھائی نے کہا میں آپ کو گوریلا سوٹ بھیج رہا ہوں۔ میں نے کہا آپ مجھے گوریلا سوٹ کیوں بھیج رہے ہیں؟‘ انھوں نے کہا ’کیوں نہیں؟‘ بس اس سے زیادہ اس سوٹ کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔‘

نیو جرسی کے نواحی علاقے میں ان بہن بھائیوں کی پرورش والدین نے کی تھی جو دونوں پولیس اہلکار تھے۔ ان کی والدہ ویسٹ اورنج کے علاقے میں پہلی خاتون افسر تھیں۔ وہیں ان کی پرورش ہوئی اور سکاٹ کے مطابق ان کے خلا باز بننے کے عزم میں والدہ کی کوششوں اور متاثر کن جذبے کا بڑا ہاتھ ہے۔

مارک اور سکاٹ کئی بار ایک ساتھ خطرے سے دوچار ہو کر اکثر زخمی حالت میں ہسپتال پہنچے۔ لیکن سکول میں مارک پڑھائی میں ان سے آگے نکل گئے جبکہ سکاٹ کا دھیان بڑی آسانی سے ادھر ادھر لگ جاتا تھا۔

کالج میں سکاٹ کی توجہ کے لیے باقاعدہ پارٹیوں کا اہتمام ہوتا۔ وہ مارک کے ساتھ فون پر ہونے والی ایک گفتگو کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انھوں نے سکاٹ سے کہا کہ لوگوں سے ملنا ملانا تھوڑا کم کر کے تعلیم پر توجہ دیں اور اس گفتگو نے ان کے تعلیمی کیرئیر کا رخ موڑ دیا۔

Scott Kelly

NASA

انھوں نے بحریہ کے پائلٹ کی حیثیت سے تربیت حاصل کی۔ سکاٹ نے 90 کی دہائی میں ٹاپ گن فلم میں دکھائے گئے F-14 ٹام کیٹ جہاز کو اڑایا اور پہلی خلیجی جنگ کے دوران جنگی مشن سر انجام دیے تھے۔

تاہم کیلی خلائی شٹل اڑا چکنے والوں کے گروپ کا حصہ بننے کے لیے بے چین تھے۔ سنہ 1996 کی کلاس میں مارک کے ساتھ ناسا خلاباز کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سکاٹ نے ایک شٹل مشن میں پائلٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر سنہ 2007 کے شٹل مشن کو کمانڈ کیا۔

شٹل میں کمانڈر ہی خلائی گاڑی کو چلاتا ہے اور مشکل لینڈنگ کا تجربہ رکھنے والے پائلٹ کے لیے ایسے وقت ماضی کی مہارت ہی کام آتی ہے۔

کیلی کا کہنا ہے کہ ’میں نے صرف ایک بار اس پر اڑان بھری ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ آپ نے یہ پائلٹ ٹاسک انجام دینے میں کتنا وقت اور کوشش صرف کرنی پڑی اور پھر آپ کو ایک یا دو بار اور یہ کام کرنا پڑے گا۔‘

’آپ کو اسے لینڈ کرانے کا ایک موقع ملا ہے۔ اگر آپ پہلی بار میں ایسا نہیں کرتے تو ایسا نہیں ہے کہ آپ ایک چکر لگا کر واپس آئیں گے اور دوبارہ ایسا کر سکیں گے۔ آپ کو پتا ہوتا ہے کہ ناصرف آپ کے ساتھی بلکہ باقی دنیا کا ایک بڑا بھی آپ کو دیکھ رہا ہے۔‘

شٹل شاندار تھا، اگر کوئی خرابی تھی تو وہ گاڑی تھی۔ اور یہ دنیا کو خلائی سفر کے بڑے خطرات کی یاد دلاتی تھی جب سنہ 2003 میں خلائی شٹل کولمبیا زمین پر لوٹتے ہوئے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ اور اس وقت سات خلاباز ہلاک ہو گئے تھے۔

Scott Kelly and Mikhail Kornienko both spent a year aboard the ISS

NASA

چیلنجر اور کولمبیا دونوں آفات کے تناظر میں ہونے والی تحقیقات میں ناسا کے حفاظتی نقطہِ نظر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کولمبیا کے حادثے میں کیلی نے اپنے دوستوں کو کھو دیا۔ جب میں نے ان کا انٹرویو لیا تو اس وقت وہ چارلس ’سُلی‘ سلینبرگر اور ماحولیاتی مہم چلانے والے ایرن بروکووچ کے ساتھ ورچوئل سیفٹی کلچر سمٹ سے خطاب کرنے کی تیاری کر رہے ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا ’جو کام ہم کرتے ہیں وہ انتہائی غیر معمولی اور خطرناک ہے۔ حفاظت کی ذمہ داری سب پر عائد ہونی چاہیے۔۔۔ سب کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ اس کے بارے میں بول سکتے ہیں۔‘

جب اصل میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ ایک جیسے جڑواں بھائیوں کو آئی ایس ایس پر ایک سال طویل قیام کے لیے مدار میں بھیج دیا جائے گا، تو سائنس دانوں کو انسانی جسم پر خلا کے اثرات کا مطالعہ کرنے کا انوکھا موقع حاصل ہوا۔

مارک کو زمین پر جینیاتی ’کنٹرول‘ کے طور پر استعمال کرنے سے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ وہ سکاٹ میں جو بھی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں وہ خلائی ماحول کی وجہ سے ہیں۔ دونوں جڑواں بھائیوں کو ان کی فزیولوجی، علمی قابلیت اور ڈی این اے میں ممکنہ تبدیلیوں والے کئی ٹیسٹوں سے گزرنا پڑا۔

دوسری چیزوں کے علاوہ نتائج میں جینیاتی تبدیلیوں کا انکشاف ہوا جس نے تجویز کیا تھا کہ سکاٹ کا ڈی این اے کوسمک تابکاری سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے خود ہی ٹھیک ہو رہا ہے۔

سائنس دانوں نے سکاٹ کے کروموسوم کے سروں پر ’کیپس‘ میں غیر متوقع تبدیلیاں بھی دیکھیں، جسے ٹیلیومیر کہتے ہیں، نیز ان کے خون کی کیمسٹری، جسمانی اجزا اور گٹ فلورا میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن زمین پر واپس آنے کے بعد ان میں سے زیادہ تر تبدیلیاں واپس اپنی حالت میں آ گئیں۔

A view through the space station's cupola window

Scott Kelly / Nasa

چار سال گزرنے کے بعد وہ کہتے ہیں: اب مجھ میں ویسی کوئی علامت موجود نہیں ہے جس کی وجہ خلا میں گزرا وقت ہو، لیکن میری آنکھوں میں کچھ ساختی اور جسمانی تبدیلیاں ہوئی ہیں لیکن یہ میری بصارت پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں۔‘

سائنس دان جانتے ہیں کہ کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں خلائئ تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان اختلافات کو ختم کرنے والے جینیات پر بھی کام جاری ہے۔ میں نے کیلی سے پوچھا کہ جیسے ہی ہم اس بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں کہ خلائی ماحول میں مختلف افراد کیسے ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں کیا یہ چیزیں خلابازوں کے انتخاب میں ایک بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں؟

وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ناسا ہی نہیں بلکہ عام طور پر ہمارے معاشرے کا مسئلہ ہے۔۔۔ یہ انشورنس اور پہلے سے موجود حالات کے متلعق ہے۔ جینیاتی حساسیت کو پہلے سے موجود حالت تصور کیا جا سکتا ہے یا نہیں لیکن یقیناً اخلاقی طور پر اس بارے میں بات ہو سکتی ہے۔‘

جڑواں بھائیوں سے متعلق تحقیقات خلائی ایجنسیوں کو یقین دلا رہی ہیں کہ انسانوں کو مریخ پر بھیجا جا سکتا ہے جو زمین سے 34 ملین میل دور ہے اور وہاں جانے میں نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ لیکن خلابازوں کو زمین کے مدار کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تابکاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیلی کا کہنا ہے کہ ’آپ کو یا تو ڈھال کے لیے راستہ تلاش کرنا پڑے گا یا مریخ پر جلدی سے جانا پڑے گا۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ خطرے کا سامنا کریں۔‘

یہ ایک مخمصہ ہے جس پر کیلی نے بھی احتیاط سے غور کیا ہو گا۔ وہ سنہ 2016 میں ناسا سے ریٹائر ہوئے، اور تب سے وہ اپنے تجربات کے بارے میں لکھتے اور بول رہے ہیں۔ اپنی اہلیہ کے ساتھ وہ ناسا کے ہیومن سپیس لائٹ پروگرام کے مرکز ڈینور سے ہیوسٹن چلے گئے ہیں۔

ان کے جانے کے بعد سے چار سالوں میں خلائی سفر کے لیے نئے مواقع کھلے ہیں اور ان جیسے ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔ امریکی خلائی مسافر، مائیکل لوپیز الیگریہ، جن کی طویل دورانیے کی سپیس فلائٹ کا ریکارڈ کیلی نے توڑا تھا، اب ریٹائرمنٹ سے واپس لوٹ آئے ہیں اور ایس ایس پر پہنچنے کے لیے نجی طور پر مالی اعانت سے چلنے والی ایلون مسک کی کریو ڈریگن گاڑی کی کمانڈ کرنے والے ہیں۔

اتنا کچھ حاصل کرنے کے باوجود یہ واضح ہے کہ کیلی ابھی سپیس فلائٹ کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ کیلی کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی نے مجھ سے پوچھا: ’ارے کیا تم خلا میں واپس جانا چاہتے ہو؟‘ میں کہوں گا: ’ضرور، بالکل۔‘ لیکن اس کا انحصار اس پر ہے کہ کیا نیا لانچ ہونے جا رہا ہے۔ میں توپ میں گھس کر اس کے گولے کی طرح لانچ نہیں ہونا چاہوں گا۔‘

’یہ کچھ ایسا ہونا چاہیے جس میں محفوظ ہونے کا احساس ہو۔ ہاں میں اسے بالکل مسترد نہیں کروں گا۔‘

’اگر کسی شخص کے پاس راکٹ جہاز ہے تو انھیں پائلٹ کی ضرورت ہے جو اسے چلا سکے۔۔۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17280 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp