صوبہ سندھ سے لاپتہ افراد کے لواحقین کے پیدل مارچ کو پنجاب میں داخلے سے روک دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ سندھ سے لاپتہ افراد کے لواحقین کے پیدل مارچ کو پنجاب اور سندھ کی سرحد پر روک دیا گیا ہے اور خواتین سمیت دو درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ مظاہرین پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو جا کر اپنا احتجاج رجسٹر کرانا چاہتے ہیں۔

سندھ سبھا نامی تنظیم نے اس مارچ کا آغاز 10 نومبر کو کراچی سے کیا تھا، جن میں سندھ سے لاپتہ افراد کے رشتے دار شامل ہیں۔

یہ مارچ کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا، ضلع گھوٹکی پہنچا جہاں سے اس کو پنجاب کی حدود میں داخل ہونا تھا۔

اس مارچ میں شریک ہانی بلوچ نے جن کے منگیتر نسیم کراچی سے لاپتہ ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ انھیں پولیس نے یہ کہہ کر پنجاب کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا کہ مارچ کے سربراہ انعام عباسی پر بھٹ شاہ تھانے پر مقدمہ درج ہے لہذا انھیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

مارچ کے شرکا نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا، جس کے بعد پولیس نے انھیں وہاں سے ہٹایا اور انھوں نے ٹینٹ لگا کر اپنا احتجاجی کیمپ بنا لیا۔

پانی بلوچ کا کہنا ہے کہ انھیں کہا گیا تھا کہ کورونا ٹیسٹ کروائیں پھر جانے دیں گے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ ٹیسٹ کلیئر ہونے کے باوجود جانے نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس پیدل مارچ کی قیادت کرنے والے انعام عباسی خود بھی لاپتہ رہے ہیں۔ رہائی کے بعد وہ کراچی پریس کلب کے باہر مسلسل کئی روز احتجاج کرتے رہے ہیں۔

اس مارچ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز احتجاج کرتے رہے لیکن ان کی بات سننے کوئی نہیں آیا تو انھوں نے جی ایچ کیو کی طرف جا کر احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

رینجرز کی لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ’مالی مدد کی پیشکش‘

’دروازے بند نہ کرو نجانے کب میرا بیٹا آ جائے‘

11 سال سے لاپتہ والد کی راہ تکتی سمی بلوچ کی کہانی

سندھی نیوز چینل ’کے ٹی این‘ کے صحافی گل محمد پنہور نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے لیڈیز پولیس کے ساتھ پہنچ کر خواتین اور مردوں کو حراست میں لے لیا اور سب کو تھانے میں بند کر دیا ہے جبکہ شہر کی سیاسی سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے تھانے پہنچ کر مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم خواتین کو رہا کیا جائے۔

گل محمد کے مطابق ان کی ڈی ایس پی محمد پناہ سے بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ انھیں حکم ہے کہ اس قافلے کو پنجاب میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

بی بی سی کی جانب سے ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل، ڈی ایس پی محمد پناہ اور ایس ایچ او اوباوڑو سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے موبائل نمبر بند ملے۔

اس حوالے سے حکومت سندھ کا مؤقف لینے کے لیے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ اور مشیر قانون اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی ہے اور فی الحال ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17284 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp