خواجہ آصف سمیت جسے چاہیں آمدن سے زائد اثاثوں پر گرفتار کر سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کبھی کبھی سوچتا ہوں جہالت بھی کچھ لوگوں کے لئے نعمت ہے، ایک شخص جو صرف حقائق سے دور ہر شے کو جذبات سے پرکھتا ہے وہ یقیناً ہر اس کام میں جو بیشک غیرقانونی اور غیر آئینی ہی کیوں نا ہوں پر پرجوش ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جذبات کے نزدیک ترین ہے، جبکہ حقائق پر نظر رکھنا والے شخص کے لئے کوئی غیرقانونی کام گھٹن اور جلن کا باعث بنتا ہے۔ وہ غیرقانونی کاموں کو ہضم نہیں کر سکتا اور ان کو روک بھی نہیں سکتا، مستقبل میں آنے والی تباہ کاریاں اسے نوچتی ہیں، لیکن اس کی حالت سلیپنگ پرالیسس جیسی ہو جاتی ہے جہاں وہ ہاتھ پاؤں ہلانے کی لاکھ کوشش کرتا ہے لیکن بدن کو جنبش محسوس نہیں ہوتی۔

قانون کے موضوع پر بنی فلم کا ایک ڈائیلاگ مجھے ہمیشہ سے پسند ہے ”ہر معاشرہ سمجھتا ہے کہ اس معاشرے کو ان کے اقدار چلا رہے ہیں لیکن ایسا ہوتا نہیں اصل میں معاشرے کو جو چیز چلا رہی ہوتی ہے، اسے قانون کہتے ہیں“ ۔

ہمارے ہاں کیونکہ قانون کے رکھوالوں نے ہی نظریہ ضرورت کی بنیاد رکھی اور خود ساختہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے قانون کو اقدار اور جذبات کا لبادہ اوڑھ کر فیصلے کیے۔ اب اس معاشرہ میں جذبات ابھار کر ان سے مذموم مقاصد کی تکمیل آسان ہو گئی ہے۔ ہم آئین اور قانون کو کاغذ پر لکھے الفاظ کو بس کتابی باتیں سمجھ کر انہیں بالائے طاق رکھتے ہوئے بس جذبات کے بہتر لگنے والے فیصلوں پر خوش ہوتے ہیں۔ ہمارے قانونی فیصلوں میں قانونی شقیں بتانے کی بجائے کسی فلم کی کہانی پر فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور کیونکہ معاشرہ جذبات کی رو میں فیصلے سننے کا عادی ہے اس لیے وہ ان فیصلوں کو قبول کر لیتا ہے۔

خیر بات معاشرے کی ہی چل رہی تو میرے ذہن میں کچھ خیالات آتے ہیں میرے تجربے اور تجزیہ کے مطابق ملک میں ہر وہ شخص جو کسی بھی شہر میں ایک مکان کا مالک ہے وہ کروڑ پتی ہے۔ شہروں میں ایک گھر اب کروڑ روپے سے کم کا تو نہیں۔ انہی کروڑ پتیوں کے پاس 90 کی دہائی میں شاید ہزاروں میں بھی جائیداد یا بینک بیلنس نا تھا لیکن ایک لوئر مڈل کلاس جو 90 کی دہائی میں صفر تھے آج کروڑ پتی بن چکے، اگر اسی تناظر میں دیکھ لیں تو کیا جس شخص کے پاس 90 کی دہائی میں ایک گھر اور دو پلاٹ ہوں وہ ترقی کرے آج ارب کے قریب نہیں پہنچ سکتا؟

آمدن سے زائد اثاثہ جات کی جانچ شروع ہو جائے تو کیا 90 کی دہائی میں ہزاروں کے مالک آج خود کو کروڑوں کا مالک بننے کے سفر کی منی ٹریل دے پائیں گے؟ اگر عوام سے دینا مشکل ہے تو وہ خاندانی نواب اور رئیس جن کے پاس سینکڑوں ایکڑ اراضی 90 کی دہائی میں تھی کیا وہ آج اربوں کے مالک نہیں بن سکتے؟ اگر نہیں بنا سکے تو یہ ان کی نالائقی تصور ہو گی۔ ہمارے ہاں معیشت کو ڈاکومنٹیڈ کرنے کی کوشش بس کوئی 10 سال سے شروع ہوئی اس سے قبل اثاثوں کو مکمل ڈاکومنٹیشن کا کوئی رواج نا تھا، لیکن اب کیونکہ ہم نے جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اپنے من پسند فیصلے کرنے ہیں اور قانون اور حقائق کو بالائے طاق میں رکھنا ہے تو جس شخص کو مرضی ہو، آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نام پر گرفتار کر سکتے ہیں۔

آج رات خواجہ محمد آصف صاحب کو اسی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، کہا جاتا ہے کہ 90 کی دہائی میں ان کے اثاثہ جات 50 لاکھ ملکیت کے تھے جو اب اربوں میں پہنچ گئے۔ میرے خیال میں خواجہ صاحب بھی نالائق ہی ہیں 90 کی دہائی میں لوگ صفر تھے آج کھربوں پتی ہیں ملک ریاض سے چلنا شروع کریں آپ کو دنیا ملے گی جو صفر سے اربوں کھربوں ڈالر بنا چکی لیکن پاکستان میں امیر ہو جانا ایک گناہ ہے ترقی کرنا ایک گناہ ہے ہر امیر یافتہ شخص کرپٹ ہے جب تک وہ شاہ کا وفادار نا ہو۔

دنیا اپنے امیر ہونے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہے تاکہ لوگ ان سے سیکھیں اور ترقی کریں۔ ہم امیر اور ترقی کر جانے والے کو حرام خور ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے۔ ہاں شاہ کی وفاداری کرو تو آپ بنا کسی آمدن کے دنیا بھر میں جزائر خرید لو کوئی نہیں پوچھے گا۔

جذبات میں بہتی قوم قانون کی کتابوں سے دور صرف پراپیگنڈہ پر ہونے والی گرفتاریوں اور سزاؤں پر تالیاں بجائے گی دل خوش کرے گی اور حقائق و قانون سے دیکھنے والے دور جلتے رہیں اور سلیپنگ پرالیسس کی حالت میں رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وقاص احمد، راولپنڈی کی دیگر تحریریں