سما عبدالہادی: مذہبی مقام پر میوزک ویڈیو کی شوٹنگ پر فلسطینی ڈی جے گرفتار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلسطین،
AFP
سما عبدالہادی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام درکار اجازت نامے موجود تھے
انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے فلسطینی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سما عبدالہادی نامی ڈی جے کو رہا کر دیں۔

سما کو ‘فلسطینی ٹیکنو کوئین’ بھی کہا جاتا ہے۔

انھیں اتوار کو غربِ اردن کے علاقے نبی موسیٰ میں ایک ایونٹ منعقد کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہاں پر ایک اسلامی مزار، ایک مسجد اور ایک ہاسٹل بھی قائم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وزارتِ سیاحت کی جانب سے فلم کی شوٹنگ کے لیے اجازت نامے موجود ہیں۔ شوٹنگ میں ٹیکنو پارٹی کے مناظر بھی ہونے تھے۔

مگر مذہبی رجحان رکھنے والے چند فلسطینی مسلمانوں نے اس ایونٹ کو ‘ہتک آمیز’ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جج نے کہا کہ نئے البم سے جسم فروشی کی حوصلہ افزائی ہوگی‘

سعودی عرب: عالمی مذمت کے باوجود سماجی کارکن کو پانچ سال قید کی سزا

فرانس میں ’شرم و حیا کی لہر‘ پر بحث، معاملہ وزیر داخلہ تک جا پہنچا

ان افراد کے نزدیک نبی موسیٰ وہی جگہ ہے جہاں پیغمبر حضرت موسیٰ مدفون ہیں۔

اس واقعے نے سماجی تناؤ کو جنم دیا ہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا۔

چند لوگوں نے انٹرنیٹ پر لکھا کہ ان کے نزدیک یہ ‘اشتعال انگیز’ ہے کہ کسی مذہبی مقام پر ٹیکنو میوزک بجایا جائے، بھلے ہی سما کے پاس درکار اجازت نامے موجود تھے۔

مگر چند لوگوں نے مزید آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فلسطینی معاشرے میں زیادہ تنوع پیدا ہو جائے۔

فلسطین، نبی موسیٰ

AFP
نبی موسیٰ کی سائٹ بحیرہ مردار سے 10 کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے

سما عبدالہادی کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے کارکنوں نے ایک آن لائن پیٹیشن بھی شروع کی ہے جس پر اب تک کئی ہزار لوگ دستخط کر چکے ہیں۔

مگر نوجوان ڈی جے کے مخالفین نے نبی موسیٰ مسجد کے نزدیک عبادت کیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ہاسٹل کا فرنیچر توڑ رہے ہیں اور اسے نذرِ آتش کر رہے ہیں۔

فلسطین کے آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر عمار دویک نے کہا کہ سما عبدالہادی نے انھیں بتایا تھا کہ نبی موسیٰ کو فلمنگ کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ انھیں وزارتِ سیاحت نے دیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سما نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی ‘کسی مذہبی گروہ کے احساسات کو ٹھیس پہنچانا مقصد نہیں تھا۔’

عمار دویک نے بتایا کہ وہ سما عبدالہادی کی حراست کو ایک ‘غلطی’ تصور کرتے ہیں جس کا ازالہ ہونا چاہیے۔

انسانی حقوق کے فلسطینی گروپ الحق کے جنرل ڈائریکٹر شاوان جبارین نے بھی تنظیم کے فیس بک پیج پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں اس حراست کی مذمت کی۔

انھوں نے کہا کہ حکام کو ‘سیاحتی مقامات کی درجہ بندی اور ان کی تعریف کرنی چاہیے۔’

فلسطین کے وزیرِ اعظم محمد اشتیتہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔

انھوں نے گزشتہ سال یورپی یونین کی فنڈنگ سے نبی موسیٰ کی تعمیرِ نو مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔

منگل کو فلسطینی اتھارٹی نے سما عبدالہادی کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی حراست میں مزید 15 دن کا اضافہ کر دیا ہے۔

ان کے خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی بدھ یا جمعرات کو اپنی تحقیق کے نتائج سامنے لائے گی۔

مارچ سے لے کر اب تک فلسطینی اتھارٹی غربِ اردن میں 30 روزہ ہنگامی حالت کی تجدید کرتی رہی ہے جسے کورونا وائرس کا پھیلاؤ قابو میں لانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

مخالفین نے اس ہنگامی قانون کے تحت آزادی اظہار پر لگائی گئی پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17380 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp