بچوں کے ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال: انگلینڈ میں بارہ سالہ گمنام لڑکی کا ٹک ٹاک پر مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

TikTok logo with an anonymous girl
Getty Images
لیکن ابتدائی سماعت کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا 12 سالہ لڑکی گمنام رہتے ہوئے یہ دعویٰ کر سکتی ہے یا نہیں
ایک 12 سالہ بچی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی بچوں کے ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی ہے۔

عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ مقدمہ آگے بڑھنے کی صورت میں لڑکی کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے۔

انگلینڈ میں چلڈرن کمشنر این لانگ فیلڈ اس کارروائی کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک نے برطانیہ اور یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کو توڑا ہے۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے ان کی کمپنی نے ’مضبوط پالیسیاں‘ بنا رکھی ہیں اور 13 سال سے کم عمر بچوں کو ایپ کا صارف بننے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

لانگ فیلڈ کو امید ہے کہ یہ مقدمہ 16 سال سے کم عمر ان افراد کے لیے حفاظتی اقدامات کا باعث بنے گا جو انگلینڈ اور دیگر ممالک میں اس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاک نے سنہ 2020 میں دنیا کو کیسے بدل دیا؟

چین پر تنقید: امریکی لڑکی کا اکاؤنٹ بحال، ٹک ٹاک کی معافی

’پابندی حل نہیں، اس طرح تو کل کو سارا انٹرنیٹ بند کرنا پڑے گا‘

لانگ فیلڈ کا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک بچوں کے ڈیٹا کو جمع کرکے ویڈیو الگورتھم کے لیے استعمال کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز کے ذریعے اشتہارت کی مد میں آمدن کمائی جا سکے۔

کمشنر نے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے لندن میں ہائیکورٹ کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ عدالت اس مقدمے کے ذریعے ایک مثال قائم کرتے ہوئے، فرم کو بچوں کے ڈیٹا کو حذف کرنے پر مجبور کرنے کا حکم جاری کرے گی۔

لیکن ابتدائی سماعت کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا 12 سالہ لڑکی گمنام رہتے ہوئے یہ دعویٰ کر سکتی ہے یا نہیں۔

جسٹس واربی ​​نے فیصلہ دیا کہ لڑکی کی شناخت کا انکشاف ہونے پر دوسرے بچوں اور ٹک ٹوک صارفین کے ذریعے سائبر بلنگ (انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کیے جانا) کا خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس 12 سالہ بچی کو ’ایسے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے مخالف ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنھیں یہ محسوس ہو کہ اس مقدمے سے ان کی حیثیت یا آمدنی کو خطرہ لاحق ہے۔‘

ٹک ٹاک کا مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل، لانگ فیلڈ گوگل کے خلاف ڈیٹا پروٹیکشن کیس ختم ہونے کا انتظار کررہی ہیں۔

سنہ 2019 میں، امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے بچوں کے ڈیٹا کے حوالے سے ٹِک ٹِک پر 5.7 ملین (4.2 ملین پاؤنڈ ) جرمانہ عائد کیا تھا۔

جنوبی کوریا نے بھی اسی بنیادوں پر سنہ 2020 میں ٹک ٹاک پر جرمانہ کیا تھا۔

ایک بیان میں ٹِک ٹِک نے کہا ہے: ’رازداری اور حفاظت ٹِک ٹِک کی اولین ترجیحات ہیں اور ہمارے پاس تمام صارفین اور خاص طور پر نوعمر صارفین کی حفاظت کے لیے مضبوط پالیسیاں، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی موجود ہیں۔ چونکہ یہ درخواست بغیر نوٹس کے دی گئی تھی اور ہمیں اس کے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آگاہی ہوئی، لہذا فی الحال ہن اس کے مضمرات پر غور کر رہے ہیں۔‘

ایپ کے شرائط و ضوابط کے مطابق 13 سال سے کم عمر افراد اسے استعمال نہیں کر سکتے اور سائن اپ کرتے وقت تمام صارفین سے ان کی عمر پوچھی جاتی ہے۔

ٹاک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے ایسے اکاؤنٹس کا جائزہ لے کر انھیں ہٹاتے ہیں جن کے متعلق انھیں گمان ہو کہ یہ 13 سال سے کم عمر کے افراد زیرِ استعمال ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17284 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp