بچوں کا خون قرض ہے‘ بدلہ لینے‘ دہشت گردی کا خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: آرمی چیف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

لاہور + پشاور+ کراچی (ایجنسیاں+ خبر نگار خصوصی+ سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت نیوز) سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہدا کی دوسری برسی ملک بھر میں منائی گئی۔ اس موقع پر شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پشاور میں ہونے والی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ تقریب میں گورنر خیبر پی کے انجینئر اقبال ظفر جھگڑا، لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی، آئی جی پولیس کے پی کے ناصر خان درانی اور شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آرمی چیف نے کہا جب تک پاکستان کو امن کا گہوارہ نہیں بنائیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے‘ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اے پی ایس کے شہداء کی قربانی نے قوم کو نیا جذبہ دیا۔ یہ حملہ ہماری جدوجہد کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔ شہید ہونے والے بچوں کے والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں۔ آج کی تقریب کا مقصد ان شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس واقعہ ایک کاری ضرب تھی جو ہمارے دل اور جگر پر لگی اور اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا لیکن دشمن ہمارے جذبہ ایمانی کو اور ہماری دہشت گردی کے خلاف جدوجہد سے ہمیں ہٹانے میں بالکل کامیاب نہیں ہوئے۔ بطور آرمی چیف اور بطور لوگوں کے ایک نمائندہ کے میرا عزم ہے اور پاکستانی فوج کا بھی عزم ہے کہ جب تک ہم ہر بچے کے خون کا حساب نہیں لے لیتے جب تک پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع نہیں کر دیتے پاکستان کو دوبارہ سے امن کا گہوارہ نہیں بنا دیتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہم پر ہر بچے کا خون قرض ہے۔ تمام 22 ہزار لوگ جو شہید ہوئے ان کا خون قرض ہے۔ ان کا کہنا تھا جیسے رسول پاک ؐ نے امت اسلامیہ کا خواب دیکھا اور جیسے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے خواب دیکھا تھا اسی کی روح کے مطابق ہم نے پاکستان کو ایک پر امن اور اسلامی مملکت بنانا ہے۔ میرے دفتر میں بھی ان بچوں کی تصاویر موجود ہیں اور جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی اپنے دفتر میں ان بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی تھیں میں بھی ان کو گاہے بگاہے دیکھتا رہتا ہوں تاکہ میرا جذبہ اور میری قوت نہ ڈگمگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بھی ایک والد، بھائی اور شوہر ہوں اور میرے بھی بچے ہیں میں ان والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں اور وہ درد یقینی طور پر قابل برداشت نہیں۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ ان کے درد کا کچھ مداوا کر سکیں جو زخم ہے وہ بہت گہرا ہے۔ عوام کے تحفظ کیلئے عوام کا تعاون درکار ہے۔ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ اس جنگ کا جلد سے جلد خاتمہ کیا جائے تاکہ پاکستان پھر سے پر امن اور خوبصورت ملک بن سکے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 16 دسمبر کا دن اس تکلیف دہ سانحہ کی یاد دلاتا ہے۔ درندہ صفت سنگدل دشمنوں نے سکول کے بچوں کو بربریت کا نشانہ بنایا۔ ہم آج کے دن کے دکھ کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ پوری قوم دکھ کے اس لمحے میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستانی قوم اور قیادت نے اے پی ایس واقعہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ننھے فرشتوں کو شہید کرنے والوں سے رحم نہیں کیا جائے گا۔ دنیا نے دیکھا کہ ہم نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا۔ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ قوم یقین رکھے کہ ہم اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر چھوڑیں گے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہداء کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ چیئرمین پیلپز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم ایک سانحے کی برسی مناتے ہیں تو دوسرا سانحہ ہو جاتا ہے، آج وہی دن ہے جب ہم نے دہشتگرد حملے میں اپنے بچے کھوئے۔ ٹوئٹر پر پیغام میں بلاول نے کہا اے پی ایس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا حوصلہ کہاں سے لاؤں؟ سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری نے بھی سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا سانحہ اے پی ایس میں ننھے فرشتوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ کیتھڈرل چرچ لاہور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کی یاد میں خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ اور قوم سانحہ پشاورکے شہداء کی قربانی کوکبھی فراموش نہیں کریگی، وطن عزیز سے دہشتگردی کی لعنت کو جڑسے ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے شہداء اے پی ایس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا پاک فضائیہ اور قوم سانحہ پشاور کے شہدا کی قربانی کوکبھی فراموش نہیں کریگی۔ ادھر خیبر پی کے اسمبلی میں آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لئے قرآن خوانی کی گئی اور شمعیں روشن کی گئیں۔ سپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی صوبے کے تمام لوگوں کی نمائندہ ہے اس لئے یہاں یہ مختصر تقریب رکھی گئی ہے۔ پشاور پریس کلب کے سامنے سول سوسائٹی، طلبا اور سیاسی کارکنوں نے دھرنا دیا جس میں آرمی پبلک سکول کے بچوں کو یاد کیا گیا۔ چارسدہ، مردان، لکی مروت اور دیگر اضلاع میں بھی آرمی پبلک سکول کے بچوں کے لئے قرآن خوانی کی گئی اور انہیں یاد کیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •