کورونا وائرس: پاکستان میں آکسیجن سلنڈر مہنگے اور نایاب، ’اہلیہ کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے 40 ہزار روپے قرض لے چکا ہوں‘

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیلنڈر
Getty Images
’میری والدہ 25 دن تک کورونا وارڈ میں زیر علاج رہی تھیں۔ جس کے ہمیں کہا گیا کہ ان کی حالت بہتر ہے۔ اب ان کو گھر میں رکھ کر آکسیجن فراہم کریں۔ والدہ کے لیے دوسلنڈر حاصل کرنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار روپے سکیورٹی جمع کروانی پڑی مگر پھر بھی ضرورت پوری نہیں ہورہی تھی۔ پہلے ہی مقروض ہو چکا تھا۔ مزید کی گنجائش نہیں تھی۔ ایسے میں اگر ہینڈز ٹرسٹ کے فیصل احمد ہماری مدد کو نہ آتے تو نہ جانے کیا ہو جاتا۔‘

یہ کہنا تھا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی نواحی بستی نیلور کے رہائشی عبدالرحمان کا جو کہ اپنے مقامی علاقے ہی میں ایک پرچون کی دکان چلاتے ہیں۔

عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ جب کہا گیا کہ ہم والدہ کو گھر لے جا سکتے ہیں تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں تھی مگر جب سلنڈر حاصل کرنے کے لیے گئے تو پتا چلا کہ ایک سلنڈر کی صرف سکیورٹی ہی 20,000، فلنگ کی قیمت 1600 روپے ہے جو کہ سات سے آٹھ گھنٹے کام کر سکتا ہے۔ کرایہ سات ہزار روپے جو کہ ایک دن استعمال کریں یا ایک ماہ۔

’اب ایک سلنڈر تو ناکافی تھا، کم از کم دو کی ضرورت تھی۔ میں پہلے ہی مقروض ہو چکا تھا۔ روزانہ دو سلنڈر بھی اگر لگیں جو کہ ناکافی ہیں تو صرف فلنگ ہی کی قیمت کم از کم 96 ہزار بنتی ہے۔ جس میں سلنڈر کی سکیورٹی، کرایہ اور روزانہ آنے جانے کا خرچہ شامل نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اخراجات دیکھ کر ہمارے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی تھی۔ ’والدہ کو آکسیجن کے بغیر تو نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ تین، چار دن تک سلنڈر بھرواتے اور لاتے رہے مگر پھر ہینڈز ٹرسٹ نے کنسینٹریر فراہم کر دیا، جس سے ہم لوگ اب قدرے سکون سے ہیں۔‘

بی بی سی بینر

BBC

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں


اسلام آباد کے عبدالرحمان تو پھر بھی کسی حد تک خوش قسمت ہیں کہ ان کو کچھ دن تکلیف کے بعد بلامعاوضہ قابل اعتماد آکسیجن کی سہولت مل گئی مگر صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں رہائش پذ یر ایک سرکاری ادارے میں کلاس فور کی ملازمت کرنے والے گل شبیر نے دو سلنڈر حاصل کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے سکیورٹی جمع کروائی ہے جبکہ وہ گذشتہ چھ دن سے روزانہ دن میں دو مرتبہ 24 سو روپے خرچ کر کے سلنڈر کی فلنگ کروارہے ہیں جبکہ سلنڈر کا کرایہ اور دیگر اخراجات الگ سے ہیں۔

شبیر گل کا کہنا ہے ’میری ماہانہ تنخواہ تیس ہزار روپے بنتی ہے۔ میری اہلیہ کورونا سے متاثر ہوئی ہیں۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی حالت اتنی بری نہیں ہے اگر میں آکسیجن گھر ہی پر فراہم کروں تو چند دن میں بہتر ہو جائیں گئیں۔‘

’میں نے حامی تو بھر لی تھی مگر پہلے دن بعد ہی سمجھ میں آ گیا کہ یہ کام میری جیب سے بہت بھاری ہے۔ ابتک اہلیہ کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے چالیس ہزار روپے قرض لے چکا ہوں۔ اب پتا نہیں آگے چل کر کیا ہوگا؟‘

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے رہائشی سردار بصیر احمد جو کہ کراچی صدر کے علاقے میں ریڑھی لگاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ والدہ کے لیے سلنڈر حاصل کرنے کے لیے اہلیہ کا زیور گروی رکھوایا ہے کیونکہ سلنڈر کی سکیورٹی جمع کروانے کے لیے ان کے پاس نقد رقم موجود نہیں تھی۔‘

الخدمت فاونڈیشن، ہینڈز ٹرسٹ، دعا فاؤنڈیشن، اتحاد ٹرسٹ اور دیگر غیر سرکاری اداروں کے مطابق ملک بھر میں گل بشیر اور سردار بصیر احمد جیسی صورتحال کا سامنا کرنے والے شہریوں کی تعداد سینکٹروں میں ہو سکتی ہے۔

کورونا مریضوں کے لیے آکسیجن کیوں ضروری؟

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر جنید انور کے مطابق کورونا کے ایسے مریض جن کا مرض پہلے سے دوسرے درجے میں چلا جاتا ہے ان کی زندگی بچانے کے لیے پہلی اور بنیادی ضرورت آکسیجن ہے۔

’عموماً کورونا کے حملے میں زیادہ تر کسی بھی مریض کے پھپیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ انفیکشن یا سوجن کی بنا پر اس کی نالیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔ خون کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

ہسپتال کا وارڈ

BBC

ڈاکٹر جنید انور کے مطابق اس صورتحال میں اس وقت تک کسی بھی درجے کی آکسیجن کی ضرورت پڑ سکتی ہے جب تک اس کی انفیکشن یا سوجن ختم نہیں ہو جاتی ہے۔

’ایسا صرف کورونا کے حملے میں ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی دیگر وجوہات جن میں سینے کا نمونیہ وغیرہ بھی ہوسکتا ہے یا کوئی بھی دوسرا دوسرے مرض جس میں مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔

ڈاکٹر جنید انور کے مطابق کورونا زیادہ نقصاں دہ زیادہ عمر کے افراد میں ہوتا ہے۔ جس وجہ سے زیادہ عمر کے تقریبا ہر مریض کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد چار لاکھ اسی ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دس ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ گذشتہ سات روز کے دوران اوسطاً مثبت کیسز کی تعداد دو ہزار سے زائد سامنے آ رہی ہے جبکہ گذشتہ سات دن سے 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اوسطاً 100 تک پہنچ چکی ہے۔

مرنے والوں میں سے 87 فیصد کی اموات ہسپتالوں میں ہوئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اس وقت پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ کم ہی دستیاب ہے۔ جس وجہ سے ڈاکٹر ایسے مریضوں کو جن میں علامات زیادہ نہیں ہوتیں یا کم عمر لوگوں کو گھر ہی میں علاج کا مشورہ دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

الخدمت فاونڈیشن کراچی کے ڈائریکٹر جنرل راشد قریشی کا کہنا ہے کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ اس وقت جو سرکاری اعداد و شمار موجود ہیں، ان کورونا مریضوں کو بھی علاج معالجہ فراہم کرسکیں اور ملک بھر میں چند نجی ہسپتال جو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں وہ انتہائی مہنگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس کے بعد ایک ہی حل بچتا ہے کہ قدرے کم خطرے کا شکار مریضوں کو گھروں ہی میں علاج فراہم کیا جائے اور صرف انتہائی ناگزیر حالات میں ہسپتالوں کا رخ کیا جائے مگر آکسیجن کے حوالے سے سلنڈر، فلنگ اور ریگولیٹر وغیرہ کی قیمتیں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔

کورونا

Getty Images

کورونا کی پہلی لہر کے دوران کراچی میں یہ سلنڈر پانچ سے چھ ہزار جبکہ ملک کے باقی علاقوں میں ان کی قیمت سات سے آٹھ ہزار روپے تھی۔ اب اس وقت کراچی میں ان کی قیمت 25 ہزار جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں تیس ہزار روپے سے بھی بڑھ چکی ہے۔

کراچی میں تین سے چار سو روپے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں پانچ سے چھ سو روپے میں فلنگ ہوتی تھی۔ اب کراچی میں فلنگ کے چھ سو اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہزار سے پندرہ سو روپے طلب کیے جارہے ہیں۔

راشد قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی میں الخدمت پانچ سو سلنڈر کو مریضوں میں گردش کروا رہی ہے۔ جس میں فلنگ کی سہولتیں بھی مفت فراہم کررہے ہیں مگر اس کے باوجود آئے دن ان کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ لوگ خود بھی خریدنا چاہتے ہیں مگر دستیاب ہی نہیں ہوتے ہیں یا ان کی قوت خرید سے باہر ہوتے ہیں۔

ہینڈزٹرسٹ جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد کے علاوہ ملتان، ایبٹ آباد میں بھی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔

ہینڈر ٹرسٹ کے چیئرمین فیصل احمد کے مطابق اس وقت تک ان کا ادارہ تیس کنسینٹریر، پچاس سلنڈرز اور دیگر لوازمات کے ساتھ تقریباً نو ملین اخراجات کے ساتھ سات سو مریضوں کو گھروں پر آکسیجن کی سہولتیں فراہم کرچکا ہے۔

فیصل احمد کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پراجیکٹ کا آغاز کیا تو ہمارا خیال تھا کہ اب تک خرچ کی گئی رقم سے سات سو سے کئی زیادہ مریضوں کو گھروں میں سہولتیں فراہم کر کے ہسپتالوں پر دباؤ کم سے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

’مگر ایک دم ہی ہر چیز کی قیمتیں اتنی زیادہ بلند ہوئیں کہ ہمارا بجٹ اب جواب دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ فلنگ پر جو اخرجات اٹھنا شروع ہوئے تھے ان سے ہم نے راولپنڈی اسلام آباد میں دو فلنگ سٹیشن قائم کر دیے ہیں۔ جہاں سے ہر کوئی مفت فلنگ کروا سکتا ہے۔‘

فیصل احمد کا کہنا تھا کہ ’معاملہ صرف قیمتیں زیادہ ہونے کا بھی نہیں بلکہ ان ضروری اشیا کی قلت کا بھی ہے۔ جڑواں شہروں کے کئی امیر کیبر لوگوں کو ہم نے جیبوں میں نوٹ بھر کر ایک سلنڈر کے لیے مارے مارے پھرتے دیکھا ہے۔‘

یہ صورتحال صرف اسلام، راولپنڈی، ملتان اور ایبٹ آباد کی نہیں بلکہ پورے ملک میں اسی طرح کا بحران ہے۔ ہینڈز ٹرسٹ سمیت دیگر غیر سرکاری ادارے کوشش کے باوجود بڑھتے ہوئے مریضوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ جس سے مریض اور ان کے اہلخانہ مشکلات کا شکار ہیں۔

راشد قریشی کو بھی یہ خدشہ ہے کہ اگر کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس کے علاج کے لیے بنیادی اور پہلی ضرورت آکسیجن کی قیمتیں اعتدال میں نہ آئیں تو یہ بحران انتہائی گھمبیر ہو جائے گا۔

فیصل احمد کا کہنا تھا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں سلنڈرز اور آکسیجن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستانی عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔

’کوئی بھی اپنے پیاروں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات کر کے ان کی قیمتوں کو اعتدال پر نہ لایا تو اس کے انتہائی نقصانات ہوسکتے ہیں۔‘

فیصل احمد کا کہنا تھا کہ ہینڈز ٹرسٹ سمیت دیگر تنظیموں نے آکسیجن گھروں میں فراہم کرنے کے اپنے جو آپریشن شروع کیے تھے، اس کا پہلا مقصد تو غریب اور نادر مریضوں کو سہولت فراہم کرنا تھا ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوچا جا رہا کہ ہسپتالوں پر بھی دباؤ کم سے کم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں تو لوگوں کو ایک دن کے لئے بھی اپنے مریضوں کو گھروں میں آکسیجن فراہم کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ قیمتیں اسی طرح بلند ہوتی رہیں تو شاید صرف چند لوگ ہی گھروں میں علاج کر سکیں اور باقی ہسپتالوں کا رخ کر لیں گے۔

’کورونا کے بڑھتے ہوئے مریضوں کے ساتھ اگر گھروں میں علاج کے خواہشمند یا نوے فیصد مریضوں نے بھی ہسپتالوں کا رخ کر لیا تو حکومت کا پورا صحت کا نظام مکمل طور پر بیٹھ جائے گا۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وقت گزرنے سے پہلے پہلے ضروری قانون سازی کر کے آکسیجن سے جڑی چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17262 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp