کورونا وائرس: جب بیٹی نے ماں کو اپنے سامنے دم توڑتے دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Maria and Anabel in hospital
Anabel Sharma
ماریا ریکو اور ان کی والدہ دونوں کورونا میں مبتلا ہوئیں اور ایک ہی دن ہسپتال داخل ہوئیں
کورونا میں مبتلا مسز شرما نے اسی وائرس کا شکار ہونے والی اپنی والدہ کو ہسپتال میں اپنے ساتھ موجود بستر پر آخری سانسیں لیتے دیکھا ہے۔ وہ لوگوں سے درخواست کرتی ہیں کہ خدارا کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کو اپنائیں۔

ماریا ریکو کی عمر 76 برس تھی وہ لیسٹرشائر کی مکین تھیں۔ یہ بات جانتے پوئے بھی کہ ایسا کرنے سے وہ جلدی مر جائیں گی انھوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے آخری بار بات کرنے کے لیے اپنے آکسیجن ماسک کو ہٹایا۔

انابیل شرما اس کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ دل کو دکھ بہچانے والا لمحہ تھا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ میں خوش ہوں کہ میری ماں موت کے وقت تنہا نہیں تھی۔

مسز شرما نے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اپنی اور اپنی والدہ کی تصویر جاری کی ہے۔

’سکون‘

مسز شرما بتاتی ہیں کہ جب ان کی والدہ نے ماسک ہٹایا تو اس کے آدھے گھنٹے کے بعد ان کی موت ہو گئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ میری والدہ نے ڈاکٹرز سے کہا کہ ان کا ماسک ہٹا دیں تو انھیں بتایا گیا کہ اگر ایک بار آپ کو آکسیجن سے ہٹا دیا جائے گا تو اس کے بعد آپ زیادہ جی نہیں پائیں گی۔

مزید پڑھیے

کووڈ کے دوران سردیوں میں مطمئن، مثبت اور پرامید رہنے کے پانچ طریقے

کورونا وائرس کی شناخت ہونے والی نئی قسم کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ نے کہا کہ ہاں میں جانتی ہوں لیکن میں نے بہت جی لیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ والدہ جب بات کرنے کے قابل ہوئیں تو ہمیں ان کے ساتھ پانچ منٹ دیے گئے۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئیں۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں اور وہ مرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ مقابلہ کرنا تھا کیونکہ میرے بچے گھر پر تھے۔

Anabel and Maria

Anabel Sharma
مسز ریکو اپنی بیٹی، داماد اور نواسوں کے ساتھ رہتی تھیں

مسز شرما کی بہن سوسانا کو بھی اس موقع پر حفاظتی آلات پہن کر آنے کی اجازت دی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی والدہ کی آخری سانس تک ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ بات مجھے تسلی دیتی ہے کہ ہم ان کے ساتھ تھے اور میری والدہ کے لیے بھی یہ اطمینان کی بات تھی۔

مسز ریکو اپنی بیٹی مسز شرما ان کے شوہر اور تین بیٹوں کے ہمراہ ایک ہی گھر میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کے خیال میں ان کے ایک بیٹے کو سکول سے کورونا وائرس منتقل ہوا اور پھر وہ خوفناک انداز میں تیزی سے پورے گھر کے افراد میں پھیل گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں اور دوسروں کے بارے میں بھی سوچیں۔

Maria with her daughter and grandsons

Anabel Sharma
کورونا وائرس نے پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

اکتوبر میں ایک ہی دن مسز شرما اور ان کی والدہ لیسسٹر رائل انفرمری ہسپتال میں داخل ہوئیں اور مسز راکو کی موت یکم نومبر کو ہوئی۔

ان کی آخری رسومات کو مسز شرما کے لیے لائیو سٹریم کیا گیا جو کہ اس وقت ہسپتال میں ہی زیر علاج تھیں۔

Maria at home

Anabel Sharma
مرایا ریکو ایک شاندار دادی تھیں: مسز شرما

مسز شرما جنھیں گھر پر مسلسل آکسیجن پر رہنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے پھیپھڑے وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ والدہ اس بارے میں بہت اچھی طرح جانتی تھیں کہ کیا ہونے والا ہے اور انھیں معلوم تھا کہ وہ اس بیماری سے صحت یاب نہیں ہو سکتیں ان کا بہت زیادہ علاج ہو چکا ہے۔

وہ انپی ماں کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ ایک بہترین نانی تھیں جن کی قوت ارادی بہت زیادہ مضبوط تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17380 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp