نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے لیے ایران سے جوہری معاہدہ بحال کرنا کتنا مشکل ہو گا؟

فراز ہاشمی - بی بی سی اردو سروس، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران
Reuters
ایران نے اپنے اوپر عائد جوہری پابندیوں کی مزید پاسداری کرنے سے انکار کر دیا ہے
’ہم سپاہیوں کی طرح ہیں اور ہماری انگلیاں ہر وقت لبلبی پر ہیں۔ کمانڈر سے حکم ملنے کی دیر ہے اور ہم گولی چلانے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں اور ہمیں جیسے ہی حکم ملا اور جتنا جلد مکمن ہوا ہم 20 فیصد افزودہ یورنیم تیار کرنا شروع کر دیں گے۔‘

یہ بیان ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی کی سطح کو 20 فیصد تک بڑھانے کے اعلان سے چند دن قبل امریکہ سے فارغ التحصیل ایران کے غیر دفاعی جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر اصلاحی نے دیا تھا۔

مزید پڑھیے

ایران پر امریکی ’سنیپ بیک‘ پابندیاں کیوں ناکام ہو سکتی ہیں؟

’ایران جوہری معاہدے کو ختم کرنے سے جنگ کا خطرہ‘

امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کے اعلان پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ یہ ایران کی طرف سے جوہری زبردستی کی پالیسی کا حصہ ہے۔

ایران کی حکومت کے ایک ترجمان علی ربی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ یورینیم کی 20 فیصد افزودگی کا کام فردو کے جوہری پلانٹ میں شروع کر دیا گیا ہے۔

حسن روحانی

Getty Images
نئِے قانون کے تحت ایرانی صدر کو یورینیم کی افزودگی کو یقینی بنانے کا پابند کیا گیا ہے

صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ حال ہی میں منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت وہ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ سالانہ کم از کم 120 کلو 20 فیصد افزدوہ یورینیم کو ذخیرہ کرنے کو یقینی بنائیں۔

ایرانی پارلیمان نے ملک کے انتہائی اہم جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد جوہری پروگرام سے متعلق ایک نیا قانون منظور کیا تھا۔ ایران کا الزام ہے کہ محسن فخری زادہ کو اسرائیل نے قتل کیا ہے۔

https://twitter.com/JZarif/status/1346110272482799616

گذشتہ پیر کو جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے نے ایران کی طرف سے اس بارے میں مطلع کرنے کی تصدیق کی تھی۔

ایران کے اس اعلان پر یورپی یونین چین اور دیگر کئی ملکوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ایک طرف ایران کی حکومت نے یورینیم کی افزدوگی کو بڑھانے کے اعلان سے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انتہائی سخت معاشی پابندیوں اور بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کی طرف سے کھلی جارحیت کے باوجود اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی حکومت اور خاص طور پر وزیر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے حالیہ بیانات میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کے واضح اشارے بھی دیے گئے ہیں۔

وزیر خارجہ جواد ظریف کی طرف سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد پر لے جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس کو واپس بھی لایا جا سکتا ہے۔

جواد ظریف کا یہ کہنا کہ یورینیم کی افزودگی کو واپس بھی کیا جا سکتا ہے اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ پانچ بین الاقوامی طاقتوں اور اقوام متحدہ سے ہونے والے معاہدہ پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھا لیا جائے۔

ان تمام حالات و واقعات کے پیش نظر، معاشی اور دفاعی لحاظ سے پاکستان اور خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے اس انتہائی اہم معاملے کے بارے میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

اوّل یہ کہ ایران اگر جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کا خواہش مند ہے تو پھر وہ امریکہ میں نئی حکومت کے قیام سے قبل سخت اقدامات کیوں کر رہا ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

دوئم یہ کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن جو ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کے بارے میں بیان دے چکے ہیں ان کے لیے اس معاہدے کو بحال کرنا کیا اتنا آسان ہو گا؟

تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کو بحال کرنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟

ایران یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد تک بڑھانے کے حالیہ اعلان سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

اس بارے میں بی بی سی اردو نے امریکہ میں کیٹو انسٹی ٹیوٹ کی دفاعی اور خارجہ امور کے شعبے سے منسلک تجزیہ کار سحر خان اور پاکستان میں دفاعی اور خارجہ امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر اے ایچ نیر سے بات کی۔

دونوں تجزیہ کاروں کا یہی کہنا تھا کہ ایران ایسا سودے بازی کے لیے کر رہا ہے۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر کے خیال میں ایران پرانے معاہدے کو ہی بحال کروانا چاہے گا اور یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اسے کسی نئے مذاکرات میں الجھنا پڑے اور اس پر کوئی نئی شرائط عائد کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو نئے سرے سے مذاکرات کرنے پڑے تو اسے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

سابق صدر اوباما کے دور میں 14 جولائی سنہ 2015 میں طے ہونے والے معاہدے میں ‘سن سیٹ کلاز’ یا ایسی شقیں شامل تھیں جن کے تحت کچھ پابندی ایک معینہ مدت کے لیے تھیں جس کے بعد ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے کئی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ڈاکٹر نیر کے مطابق اگر کوئی ملک یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے تو پھر اس کو 90 فیصد تک لے جانے میں زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔

امریکی جریدے نیویارکر میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یروشلم سینٹر فار پبلک افیئرز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے صدارت چھوڑنے کے وقت تہران جوہری ہتھیاروں میں استعمال کے قابل افزورہ یورینیم تیار کرنے سے صرف تین ماہ کی دوری پر ہو گا۔

گذشتہ سال دسمبر میں ‘میڈیٹرینین ڈائیلاگز’ میں جواد ظریف نے کہا تھا کہ معاہدہ پر عملدرآمد پر واپسی ہونی چاہیے، ایران کے باقی دنیا سے معاشی رابطوں کو معمول پر لانا چاہییں اور نئی شرائط اور نئے مطالبات بند ہونے چاہیں۔

ایران

Reuters
ایران کے جوہری سائنسدان فخرزاد کی ہلاکت کے بعد ایران نے جوہری پروگرام کے بارے میں نیا قانون منظور کیا تھا

انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایسا کر دیا گیا تو ایران بھی معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد شروع کر دے گا۔ دسمبر کی 22 تاریخ کو ایران نے اقوام متحدہ کو یہ نوٹس دے دیا تھا کہ وہ معاہدے کے تحت اس پر لگائی جانے والی بعض پابندیوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

ساتھ ہی جواد ظریف نے ایک اور انٹرویو میں کہا تھا کہ جو بائیڈن کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے تین سرکاری حکم نامے جاری کرنا ہوں گے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بائیڈن کے لیے یہ کام کتنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ بحال کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

جو بائیڈن نے گذشتہ سال ستمبر میں امریکی چینل سی این این کے لیے ایک مضمون تحریر کیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر پوری طرح عملدر آمد شروع کر دے تو امریکہ اس معاہدے میں دوبارہ واپس آ جائے گا جو کہ مزید مذاکرات شروع کرنے کے لیے نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر سحر خان کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کی کوشش ہو گی کہ وہ اس معاہدے کو بحال کریں۔ ڈاکٹر سحر خان نے مزید کہا کہ اپنی انتظامیہ میں شامل کرنے کے لیے جو بائیڈن جن لوگوں کا انتخاب کر رہے ہیں ان میں بہت سے وہ لوگ ہیں جو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کرنے میں شامل رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ میں شامل ہونے والے لوگ نظریاتی طور پر تو اس بات پر متفق ہیں کہ اس معاہدے کو بحال ہونا چاہیے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی ایک پوری تاریخ ہے جو سنہ 1953 میں ایران کے سابق صدر مصدق کے خلاف امریکہ خفیہ ادارے سی آئی اے کی پشت پناہی میں بغاوت سے شروع ہو کر صدر ٹرمپ کی طرف سے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اور گذشتہ برس ایرانی جنرل سلیمانی کی ہلاکت تک آتی ہے۔

اس تلخ اور طویل تاریخ کے پیش نظر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی بداعتمادی کو ختم کر کے معاہدے کو بحال کرنا بھی ایک چیلنج ہو گا۔

ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ جوہری معاہدہ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور ایران اس پر پوری طرح عملدرآمد کر رہا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اچانک اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے ایران کے شک و شبہات میں اضافہ ہوا اور اسے اب یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ چار سال بعد جب جو بائیڈن جنہیں ان کی عمر کی وجہ سے ‘ایک ٹرم’ کا صدر کہا جا رہا ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد کیا ہو گا۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر کہتے ہیں کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین جو اس معاہدے میں شامل تھے وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ معاہدہ ختم کرنے پر بہت پریشان ہوئے تھے اور اس معاہدے کو بحال ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

چین پہلے ہی امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی بہت سے کمپنیاں ایران میں معاشی تعلقات بحال کرنا چاہتی ہیں۔

جوہری معاہدے کی پاسداری سے قطع نظر صدر ٹرمپ نے جس وقت جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت انہوں نے ایران پر شام، عراق، لبنان اور یمن میں ‘دہشت گردانہ کارروائیوں’ کا الزام بھی لگایا تھا۔

ڈاکٹر سحر خان کے مطابق ایران کی مشرق وسطی اور ہمسایہ ملکوں میں جو پالیسی ہے یا اس کی جو ‘پراکسیز’ یا حمایت یافتہ تنظیمیں ہیں وہ کوئی نئی چیز نہیں کیونکہ یہ اس وقت بھی موجود تھیں جب صدر اوباما نے جوہری معاہدہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن صدر اوباما نے خطے میں کسی بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالنے کے لیے صرف جوہری معاملے پر پوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک معاہدہ طے کیا اور اس سارے عمل میں دو سال کا عرصہ لگ گیا تھا۔‘

ڈاکٹر سحر خان کے مطابق بین الاقوامی سفارت کاری میں اکثر ایسے معاہدے کیے جاتے ہیں جن میں کوئی خاص مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی ایک انتہائی اہم معاملے پر توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے اور اسے طے کر لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام متنازع معاملات کو ایک ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اکثر اوقات ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

امریکہ دارالحکومت واشنگٹن کے ماحول پر وہاں ہونے والی لابنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ واشنگٹن میں غالب سوچ یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی فوجی قوت کا جہاں اور جب موقع ملے بھرپور اظہار کرنا چاہیے اور یوں پوری دنیا پر اپنی فوجی دھاک بٹھائے رکھنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یہ علیحدہ بات ہے کہ امریکہ مختلف ملکوں میں اپنی فوج کشی میں کتنا کامیاب یا کتنا ناکام رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنگوں کے لیے ہمہ وقت تیار یا جنگی جنون میں مبتلا یہ لابی دفاعی ٹھیکہ داروں، اسلحہ ساز اداروں اور پرائویٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کی ہے جن کے اس سارے کھیل سے بے پناہ مالی مفادات وابستہ ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے معاملات ہوں یا روائتی اسلحے کی بات یا پھر میزائل اور جوہری پروگرام، ایران بظاہر ایک جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہے اور ایسی کوئی کمزوری دکھانا نہیں چاہتا جس سے مذاکرات کی میز پر مخالف فریق کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔

مذاکرات کی میز پر تو شاید ایران کو اس بظاہر جارحانہ حکمت عملی کا کوئی فائدہ ہو جائے لیکن مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایران کا یہ رویہ خطے میں اس کے بدترین دشمن ملکوں اسرائیل اور سعودی عرب کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ امریکہ کو اس بارے میں کوئی نرمی برتنے سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہیں اور ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی پر زور دیتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17331 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp