ایک ہی چاند تھا سرآسماں


یونی ورسٹی کی تعلیم کے بعد میں اپنے وطن واپس لوٹ گیا۔ میرے لیے وہ بہت ذہنی انتشار کا زمانہ تھا۔ میں نے کسی نوکری کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔ ویسے بھی جو ڈگری میرے پاس تھی اور اس سے جو نوکری مل سکتی تھی، اس کی صلاحیت مجھ میں نہیں تھی، اس لیے خاموشی کے ساتھ دہلی میں تقریباً دس برس اور جے این یو میں آٹھ برس برباد کر کے گھر لوٹ گیا۔ اسی زمانے میں اخترالایمان پر ایک ڈاکومنٹری بنائی جس کے لیے میں نے اردو کے کسی عالم سے مشورہ نہیں کیا تھا۔

اس فلم کے لیے فاروقی صاحب کا انٹرویو لینا چاہتا تھا مگر وہ اس لیے ممکن نہیں ہو سکا کہ وہ الٰہ آباد میں تھے۔ اس ڈاکومنٹری کی وجہ سے تو نہیں مگر ایک ایسی بات سے وہ مجھ سے ناراض ہو گئے جس میں میری اس زمانے کی سادگی کے سوا اگر کسی بات کا دخل تھا تو اردو کی ادبی گروہ بندی تھی جس کا میں حصہ ہی نہ تھا۔ میں نے صفائی دینے کی کوشش نہ کی اور پھر فاروقی صاحب سے ملاقاتیں بند ہو گئیں۔

اچانک بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور مجھے، جب میں اپنے وطن میں ہی تھا، ایک عجیب اتفاق کے نتیجے میں ایک نوکری مل گئی۔ ایک برس بعد وہ نوکری جاتی رہی پھر میں نے کوئی ایک برس قومی اردو کونسل میں گزارا۔ وہاں فاروقی صاحب آتے تھے مگر میں ان سے کبھی ملا نہیں۔ اس نوکری کو بھی جانا ہی تھا۔ کچھ دن بعد مگر مجھے ایک دوسری نوکری پہلی نوکری کے تجربے کی وجہ سے مل گئی تھی جو میں نے انجمن میں آنے تک کی۔ اس ملازمت کو شروع کرنے کے کچھ دن بعد کسی نے کہا کہ فاروقی صاحب آپ کے بارے میں معلوم کر رہے تھے۔

میں نے کہا کہ وہ مجھ سے ناراض ہیں، اس لیے میں ان سے نہیں ملتا۔ دو تین دن کے بعد ان صاحب کا پھر فون آیا کہ فاروقی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں ان سے فوراً ملوں، وہ مجھے سے بالکل ناراض نہیں ہیں۔ وہ دہلی آئے ہوئے تھے۔ میں نے فون کیا تو لگا نہیں کہ ان کے دل میں کوئی بات ہے۔ میں جا کر ملا تو محسوس ہوا کہ کچھ ہوا ہی نہیں تھا اور پھر میں ان سے ملنے لگا۔ یہ تقریباً دس بارہ برس کا عرصہ ہے۔ میری نوکری کا کوئی تعلق نہ تو اردو دنیا سے تھا اور نہ ہی مسلمانوں سے، اس لیے پھر کبھی کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی۔

میں 2012 میں انجمن ترقی اردو (ہند) سے وابستہ ہو گیا۔ فاروقی صاحب جب بھی دہلی آتے تو ان سے کئی بار ملاقات ہوتی۔ شام کو اگر ان کے گھر (یعنی ان کی بیٹی کے گھر جہاں ان کا قیام ہوتا تھا) دعوت ہوتی تو اس میں حاضری کا شرف مجھے بھی حاصل ہوتا۔ دعوتوں کا یہ سلسلہ ان کی طبیعت کی فیاضی اور اگلے وقتوں کی قدروں پر دلالت کرتا تھا مگر ان دعوتوں میں شاید ہی کبھی میں نے کسی ’اردو والے‘ کو دیکھا ہو۔ ان کے بہت قریب رہنے والے اردو کے اہل قلم سے بھی وہاں بھی ملاقات نہیں ہوئی۔

اس سے یہ اندازہ بھی مجھے ہوا کہ اردو سے باہر کتنی بڑی دنیا سے فاروقی صاحب کے مراسم تھے۔ فون پر تو ان سے مستقل بات کرنے کا اعزاز مجھے حاصل تھا۔ ان آٹھ برسوں میں صرف ایک دفعہ کو چھوڑ کر جب وہ الٰہ آباد میں ہی سخت علیل ہو گئے تھے، وہ انجمن کے ہر پروگرام میں شریک ہوئے۔ 2012 کے بعد سہ ماہی ’اردو ادب‘ میں فاروقی صاحب کی جتنی تحریریں شائع ہوئیں، ان کی تعداد ان تمام تحریروں سے زیادہ ہیں جو گزشتہ پچاس برسوں میں اس مجلے میں چھپی ہوں گی۔

جون 2019 میں کچھ ایسا ہوا کہ مجھے مارچ 2020 تک بار بار الٰہ آباد جانا پڑا۔ یہ ہر ہفتے کا معمول تھا۔ کئی بار ہفتوں وہاں رکنا ہوتا۔ اس درمیان فاروقی صاحب سے بہت ملاقاتیں ہوئیں۔ وقت کوئی ہو، چاے تو ضرور ہی پی جاتی اور اکثر ایک دفعہ سے زیادہ۔ کھانے کا وقت ہو تو یہ طے تھا کہ میں بھی کھانا ان کے ساتھ ہی کھاؤں گا۔

پڑھنے کے لے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6