پاکستانی جیل میں 11 برس گزارنے کے بعد نوجوان واپس انڈیا پہنچ گیا

سمیراتمج مشرا - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست اترپردیش کے ضلع مرزا پور کا ایک نوجوان جو گیارہ برس قبل غلطی سے سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوگیا تھا، تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پاکستان کی جیل میں گزارنے کے بعد منگل کی رات اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔

مرزا پور کے گاؤں بھرہونہ کے رہائشی 35 برس کے نوجوان پورنماسی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور سنہ 2009 میں وہ انجانے میں سرحد عبور کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔ ان پر پاکستان کے شہر لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا اور تب سے وہ وہاں جیل میں تھے۔

حال ہی میں حکومت پاکستان نے انڈین وزارت خارجہ کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے موصول ہونے والے ایڈریس کی بنیاد پر انڈین وزارت داخلہ کی ڈویژن برائے خارجہ نے پورنماسی کی قومیت کی تصدیق کے لیے ان کے خاندان کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور مقامی پولیس کی مدد سے پتہ چلا کہ پورنماسی سمہر تھانہ کے گاؤں بھرہونہ کے رہائشی ہیں۔

مرزا پور میں ایس پی اجے کمار سنگھ نے بتایا کہ پورنماسی کے والدین وفات پا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’اسلحہ تانے انڈین فوجیوں کو دیکھ کر احساس ہوا ہم اپنے علاقے میں نہیں‘

’جب تک مجھ میں آخری سانس ہے میں اُن کا انتظار کروں گی‘

’لائن آف کنٹرول پار کرنے کے بعد موت کا خوف نہیں رہا‘

بھائی کو لینے بہن گئیں

ایس پی اجے کمار سنگھ کے مطابق پورنماسی کی واحد رشتے دار ان کی ایک بہن کرن ہیں جو لال گنج تھانے کے بلہارا گاؤں کی رہائشی ہیں اور ان کے ایک کزن جواہر نے ان کی تصویر کو پہچان لیا تھا۔

ایس پی اجے کمار سنگھ نے بتایا کہ انڈین حکومت کی کوششوں سے 17 نومبر 2020 کو پاکستان نے پورنماسی کو پنجاب میں اٹاری بارڈر پر بی ایس ایف کے حوالے کیا تھا۔ چودہ دن کے قرنطینہ کے بعد پورنماسی کو مرزاپور لانے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک سپاہی کے ہمراہ پورنماسی کی بہن کرن اور ان کے شوہر منوں کو امرتسر کے لیے روانہ کیا گیا۔

ان کے ساتھ جانے والے پولیس کانسٹیبل منوج گوڑ نے بی بی سی کو بتایا ’یکم جنوری کو ہم مرزا پور سے بنارس گئے اور پھر بیگم پورہ ایکسپریس ٹرین کے ذریعے امرتسر پہنچے۔ کاغذی کارروائی کے بعد ایک نائب تحصیل دار نے 35 برس کے پورنماسی کو ہمارے حوالے کیا اور ہم منگل کے روز ٹرین سے ہی واپس پہنچے۔‘

انتظامیہ پورنماسی کی مدد کرے گی

مرزا پور پہنچنے پر پورنماسی کا ضلعے کے اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں پھولوں اور ہاروں کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر انچارج ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اویناش سنگھ اور ایس پی اجے کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

مرزا پور کے انچارج ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے کہا کہ پورنماسی کی دوبارہ بحالی کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن مدد فراہم کرے گی اور جلد ہی انھیں رہائش بھی مہیا کی جائے گی۔

پورنماسی کی بہن کرن نے بتایا کہ ان کا امرتسر کا سفر بھی پریشانیوں سے بھرا تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ’پورنماسی کو امرتسر کے ہیلتھ کیئر سینٹر میں رکھا گیا تھا جہاں سردی میں ان کے پاس کوئی گرم جیکٹ نہیں تھی۔ پورنماسی کی ذہنی حالت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی اور اتنا عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ امرتسر میں ہماری رہائش کا بھی کوئی بندوبست نہیں تھا۔ دو دن کی تکلیف کے بعد ہمیں ریڈ کراس کے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17329 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp