انڈیا: برآمد ہونے والے حلال گوشت پر سے ’حلال‘ کا لفظ کیوں ہٹایا گیا؟

سلمان راوی - بی بی سی نیوز، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حلال سرٹیفیکیشن کا ہونا بیرون ملک میں گوشت درآمدگی کے لیے ایک اہم شرط تھا
PA Media
حلال سرٹیفیکیشن کا ہونا بیرون ملک میں گوشت درآمدگی کے لیے ایک اہم شرط تھا
انڈین وزارت تجارت و صنعت کے محکمہ ایگریکلچر اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آپیڈا) نے 'حلال گوشت' سے متعلق ہدایت نامے سے حلال لفظ کو ہٹا دیا ہے۔

حلال سرٹیفیکیشن کا ہونا بیرون ملک گوشت برآمد کرنے کے لیے ایک اہم شرط تھی۔

نئے ہدایت نامے کے مطابق اب برآمد کیے جانے والے گوشت پر یہ لکھا جائے گا: ‘درآمد کرنے والے ممالک کے قواعد کے مطابق جانوروں کو کاٹا کیا گیا ہے۔’ جس کا مطلب ہے کہ اب گوشت برآمد کرنے والی سبھی کمپنیوں کو حلال سرٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ صرف انہیں کمپنیوں کو ہوگی جو مسلم ممالک کو گوشت برآمد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس ’حلال ٹیکس‘ کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے؟

مسلم ممالک میں کورونا ویکسین کے حلال یا حرام ہونے پر بحث کیوں؟

وادیِ سندھ کے قدیمی باشندے گائے کا گوشت کھاتے تھے

ذبیحہ پر یورپی یونین کا فیصلہ یہودی طرز زندگی پر حملہ ہے: اسرائیلی سفیر

اس ہدایت نامے میں پہلے لکھا جاتا تھا: ’تمام جانوروں کو اسلامی شریعت کے مطابق ذبح کیا جاتا ہے اور وہ بھی جمیعت العلمائے ہند کی نگرانی میں۔ جس کے بعد ہی جمیعت حلال سرٹیفیکٹ دیتی ہے۔`

انڈیا میں جانوروں کو دو طریقے سے ذبح کیا جاتا ہیے: حلال اور جھٹکا۔ کئی قومیں جھٹکا گوشت کو ترجیح دیتی ہیں جس کہ تحت حلال طریقے کے برعکس جانور کو ایک جھٹکے میں ذبح کیا جاتا ہے۔

اس تبدیلی کے بعد آپیڈا نے واضح کیا ہے کہ حلال سرٹیفیکٹ دینے میں کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی کردار نہیں ہے۔

‘حلال ریگولیشن فورم’ نامی ایک تنظیم نے ہدایت نامے میں تبدیلی کا سہرا لیتے ہوئے کہا ہے کہ آپیڈا قواعد کے مطابق کوئی بھی قصاب خانہ اس وقت تک نہیں چل سکتا تھا جب تک اس میں حلال طریقے سے جانور نہیں ذبح کیا جائے۔

حلال اور جھٹکا کے سوال پر یہ تنظیم ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ جہاں تک حلال کا تعلق ہے، گوشت کی تصدیق کر کے حلال سرٹیفیکیٹ نجی ادارے دیتے ہیں نا کہ کوئ سرکاری تنظیم ۔

گوشت کی خریداری

Getty Images
پارلیمنٹ میں حکومت کے ذریعے دیا گیا بھینس کا گوشت درآمد کرنے والی دس سب سے بڑی کمپنیوں میں سے کم از کم تین کمپنیوں کے ڈائریکٹروں میں غیر مسلم شامل ہیں۔

انڈیا سے گوشت کی درآمدگی میں چین سرفہرست

فورم کے ہریندر سکا کا کہنا ہے کہ ’گیارہ ہزار کروڑ روپے کے گوشت کی برآمدات کا کاروبار منتخب لوگوں کی لابی کے ہاتھ میں ہے۔ مذبح خانوں کا معائنہ بھی نجی اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ایک خاص مذہب کے رہنماؤں کے تصدیق کے بعد ہی حکومت اس کی رجسٹریشن کرتی ہے۔`

حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت کے ذریعے دیا گیا بھینس کا گوشت برآمد کرنے والی دس سب سے بڑی کمپنیوں میں کم از کم تین کمپنیوں کے ڈائریکٹروں میں غیر مسلم شامل ہیں۔

حلال ریگولیشن فورم کے علاوہ سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد بھی حلال سرٹیفیکیشن کے خلاف ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ گوشت کی سب سے بڑی مقدار چین کو برآمد کی جاتی ہے جہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ گوشت حلال ہے یا جھٹکے والا ہے۔

وشو ہندو پریشد کے ونود بنسل نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھ مذہب میں حلال گوشت کھانا منع ہے۔ سکھ مذہب کے لوگ وہی گوشت کھا سکتے ہیں جس جانور کو جھٹکے سے کاٹا گیا ہو۔

کچھ تنظیم کو گوشت کے علاوہ دیگر مصنوعات کو حلال تصدیق کرنے کے نظام سے زیادہ اعتراض ہے

Getty Images
کچھ تنظیموں کو گوشت کے علاوہ دیگر مصنوعات کو حلال تصدیق کرنے کے نظام پر زیادہ اعتراض ہے

وہ کہتے ہیں، "یہ تو ایک مذہب کے نظریہ کو مسلط کرنا ہوا۔ ہم حلال کھانے والوں کے حق کو چیلنج نہیں کررہے ہیں لیکن جو لوگ حلال نہیں کھانا چاہتے ہیں ان پر یہ کیوں مسلط کیا جارہا ہے؟ ہم اسی بات کی مخالفت کررہے ہیں۔ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے اور سبھی کو کاروبار کرنے کے مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ "

ہریندر سکا کے مطابق حلال سب پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فائیو اسٹار ہوٹلوں سے چھوٹے ریستوراں، ڈھابے، ٹرین پینٹریوں اور مسلح افواج تک کو فراہم کی جاتی ہے۔

لیکن حلال ریگولیشن فورم کو اس سے زیادہ اعتراض ہے گوشت کے علاوہ دیگر مصنوعات کو حلال تصدیق کرنے کے نظام سے۔

حلال گوشت کے تاجروں کا کاروبار پر قبضہ؟

حلال ریگولیشن فورم کے پون کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف گوشت کو حلال کے طور پر تصدیق کرنے تک ہی محدود نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں، "اب تو نمکو، سیمنٹ، کاسمیٹکس اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کو بھی حلال کی تصدیق کرنا فیشن بن گیا ہے۔ جیسے دال، آٹا، مائدہ، چنے کا آٹا وغیرہ۔ اس میں بڑے برانڈز شامل ہیں۔ ٹھیک ہے، انہیں اپنی مصنوعات کو اسلامی ممالک میں بھیجنا ہے اور وہیں بیچنا ہے۔ وہ انہیں الگ سے پیکنگ کرسکتے ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن انڈیا میں نمکو پیکٹ کو حلال کے طور پر تصدیق یا صابن کو حلال کے طور پر تصدیق کرنا مناسب نہیں ہے۔

واضح کر دیں کہ جمیعت کے علاوہ اور بھی تنظیمیں حلال سرتیفیکٹ دیتی ہیں اور جمیعت خود گوشت کے علاوہ متعدد اشیا کو حلال سرٹیفیکٹ دیتی ہے جو انڈیا کے علاوہ مسلم ممالکوں میں فروخت ہوتے ہیں۔ جمیعت نے گزشتہ برس نریندر مودی کے قریب سمجھے جانے والے پتانجلی گروپ کو بھی حلال سرٹیفیکٹ دیا تھا جس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ تنقید کرنے والوں کا الزام تھا کہ پتانجلی اپنے پروڈکٹس میں گائے کے پیشاب کا استعمال کرتا ہے۔

‘جھٹکا میٹ ویوپاری سنگھ’ بھی حلال کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔

حلال گوشت کی فروخت

Getty Images
جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے تمام گوشت فروشوں اور ہوٹل ڈھابا آپریٹرز کے لئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی دکان، ہوٹل یا ڈھابے کے باہر لکھیں کہ وہ کون سا گوشت فروخت کرتے ہیں

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ جھٹکا تاجروں کی گوشت کی تجارت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ حلال گوشت کے تاجروں نے تمام تجارت پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ سکھوں اور شیڈول کاسٹ اور قبیلوں کی ایک بڑی تعداد جھٹکا گوشت کو ترجیح دیتی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ برابر کی حصے داری اس وقت ہو گی جب حلال کے ساتھ ساتھ جھٹکے کا بھی سرٹیفکیٹ دیا جائے۔

تاہم جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے تمام گوشت فروشوں اور ہوٹل ڈھابا آپریٹرز کے لئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی دکان، ہوٹل یا ڈھابے کے باہر لکھیں کہ وہ کون سا گوشت فروخت کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔

ہریندر سکا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کسی پر بھی کوئ چیز مسلط نہیں ہو گی اور لوگ اپنی پسند کے مطابق کھانا کھا سکیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں انڈیا میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں متعدد لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

بھینس کا گوشت ویتنام، ملیشیا، مصر، سعودی عرب، ہانگ کانگ، میانمار اور متحدہ عرب امارات جیسےممالکوں میں درآمد ہوتا ہے

BBC
بھینس کا گوشت ویتنام، ملیشیا، مصر، سعودی عرب، ہانگ کانگ، میانمار اور متحدہ عرب امارات جیسےممالکوں میں درآمد ہوتا ہے

سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کا الزام

اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2019 اور 2020 مالی سال کے دوران تقریبا 23 ہزار کروڑ روپے کا لال گوشت یعنی بھینس کا گوشت (انڈیا میں گائے کے گوشت کی درآدگی پر پابندی ہے) انڈیا سے برآمد کیا گیا۔ اس میں سے سب سے زیادہ ویتنام کو برآمد کیا گیا۔

اس کے علاوہ بھینس کا گوشت ملیشیا، مصر، سعودی عرب، ہانگ کانگ، میانمار اور متحدہ عرب امارات کو بھی برآمد کیا گیا تھا۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اسلامی ممالک کو چھوڑ دیا جائے تو بھی صرف ویتنام کو ہی تقریبا ۷۶۰۰ کروڑ کا گوشت برآمد کیا گیا۔ جو گوشت ویتنام اور ہانگ کانگ بھیجا جاتا ہے اس کا حلال ہونا لازمی نہیں ہے، کیونکہ وہاں سے یہ سارا مواد چین جاتا ہے جہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گوشت حلال ہے یا نہیں۔

ہریندر سکا کے مطابق ویتنام اور ہانگ کانگ جیسے ممالک کو جھٹکے کا گوشت بھی بھیجا جا سکتا تھا جس سے جھٹکے کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو بھی کمانے کا موقع ملتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث برسوں سے جھٹکے کے گوشت کے تاجروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

اس دوران وشو ہندو پریشد کا کہنا ہے کہ حلال کے سرٹیفیکٹ دینے کے پورے نظام کی تحقیق ہونی چاہیے۔

تنظیم کا الزام ہے کہ اس نظام کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے جس سے قومی سلامتی کو خطرہ پیدا کرنے والے عناصر اور تنظیموں کو فائدہ پہنچتا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17357 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp