ڈیپ فیک فحش تصاویر: 'میری جعلی فحش تصاویر کی وجہ سے مجھے آج بھی ڈراؤنے خواب آتے ہیں'

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیپ فیک پورنوگرافی کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ سال ہیلن مورٹ کو پتا چلا کہ ان کی غیر جنسی تصاویر کسی فحش ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔

اس ویب سائٹ نے صارفین کو تصاویر میں ترمیم کرنے کی دعوت دی تھی جس میں ہیلن کے چہرے کو نمایاں طور پر پرتشدد جنسی تصاویر کے ساتھ ضم کیا گیا تھا۔

بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کے مبین اظہر سے گفتگو کرتے ہوئے ہیلن نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی تصاویر کے ساتھ کیے جانے والی رد و بدل اور انھیں شیئر یا تقسیم کیے جانے کو مجرمانہ فعل قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہزاروں خواتین کی جعلی فحش تصاویر آن لائن شیئر کی گئیں‘

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

کرسمس پیغام دینے والی ملکہ برطانیہ کی ’ہم شکل‘

ہیلن نے کہا ‘یہ ایک ایسا جرم ہے جو بہت حد تک نظر نہیں آتا۔ میری تصاویر برسوں سے گردش کرتی رہیں اور میں ان سے لاعلم رہی۔ اور اب بھی ان میں سے کچھ کے بارے میں مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ یہ (میری تصاویر کا ) ناقابل یقین حد تک ناجائز استعمال ہے۔’

واضح رہے کہ ڈیپ فیک پورنوگرافی سے مراد ایسی ویڈیوز ہوتی ہے جن میں جسم کسی شخص کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر کسی دوسرے شخص کا چہرہ چسپاں کر دیا جاتا ہے۔

ہیلن شیفیلڈ شاعرہ اور ادیب ہیں اور انھیں ان کی ڈیپ فیک تصاویر کے بارے میں ان کے کسی جاننے والے نے بتایا۔

بیلا تھورن

Getty Images
اداکارہ بیلا تھورن بھی ماضی میں ڈیپ فیک کے تجربے سے گزرنے پر بات کر چکی ہیں

ان کی اصل تصاویر ان کے سوشل میڈیا سے اٹھا لی گئی تھیں جن میں ان کی وہ تصوایر شامل تھیں جو انھوں نے چھٹیوں کے دوران یا اس وقت اتاری تھیں جب وہ حمل سے تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ تصاویر میں واضح طور پر ہیرا پھیری کی گئی تھی، لیکن اس کے علاوہ کچھ اور ‘خوفناک’ تصاویر بھی تھیں جو بہت ‘حد تک بظاہر معقول نظر آتی تھیں۔’

انھوں نے کہا ‘آپ اس طرح کے معاملے میں مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔ ایک مرحلہ تھا جہاں میں اس میں سے کچھ کی مضحکہ خیز نوعیت پر صرف ہنسنے کی کوشش کر رہی تھی۔

‘لیکن ظاہر ہے کہ بنیادی احساس صدمے کا تھا اور ابتدا میں مجھے بہت شرم محسوس ہوئی کہ جیسے میں نے کوئی غلط کام کیا ہو۔ اس پر قابو پانا کافی مشکل کام تھا۔ اور پھر کچھ دیر کے لیے میں گھر سے باہر نکلنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگی۔’

انھوں نے پولیس کو تصویروں کے بارے میں آگاہ کیا لیکن انھیں بتایا گیا کہ کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

قانون

لندن کی رائل ہالووے یونیورسٹی میں قانون کے لیکچرار ڈاکٹر آئسلن اوکونل نے وضاحت کی کہ ہیلن کا معاملہ موجودہ قانون کے دائرے سے باہر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘انگلینڈ اور ویلز میں فوجداری انصاف اور عدالت ایکٹ 2015 کی دفعہ 33 کے تحت یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں کسی کی جنسی تصویر کو اسے نشانہ بنانے کے لیے اس کی رضامندی کے بغیر شیئر یا تقسیم کیا جائے۔

‘لیکن یہ صرف اس صورت میں نافذالعمل ہے جہاں اصل تصویر یا ویڈیو نجی اور جنسی نوعیت کی ہوں۔

‘ہیلن کے معاملے میں غیر جنسی تصاویر کو جنسی تصاویر کے ساتھ ملادیا گیا تھا اور یہ فعل جرم میں شامل نہیں ہے۔

‘مزید برآں چونکہ ان تصاویر کو ہیلن کے ساتھ براہ راست شیئر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے ہیلن کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے اس لیے یہ اس کی دوسری شق پر بھی پورا نہیں اترتا حالانکہ بالآخر یہ تکلیف کا باعث بنا۔ دوسرا ممکنہ جرم ہراساں کرنے کا ہو سکتا تھا لیکن یہاں مجرم نے اسے ہیلن کے خلاف استعمال نہیں کیا اس لیے یہ پہلو بھی یہاں نافذ نہیں ہوتا۔’

برطانیہ کا آزاد قانون کمیشن فی الحال اس کے متعلق قانون کا جائزہ لے رہا ہے کیونکہ یہ رضامندی کے بغیر جنسی عمل کی تصاویر لینے، بنانے اور شیئر یا تقسیم کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے متعلق کمیشن کے جائزے کے نتائج کی اشاعت رواں سال کے آخر میں ہوگی۔

بہرحال ڈاکٹر اوکونل کا کہنا ہے کہ قانون کو تبدیل کرنے کے عمل میں کئی برس لگیں گے جو ان کے بقول ‘بہت طویل’ عرصہ ہے۔

ہیلن کو امید ہے کہ وہ اپنے ڈیپ فیک کے تجربے کو فحاشی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے استعمال کریں گی اور انھوں نے اس کے متعلق قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اپیل پٹیشن جاری کی ہے۔

اب تک اس پر تین ہزار 400 سے زیادہ لوگ دستخط کر چکے ہیں۔

انھوں نے ان تصاویر پر ایک نظم بھی لکھی ہے۔

انھوں نے کہا ‘میں پیشے کے لحاظ سے ایک مصنف ہوں۔ اور میں نے سوچا کہ میں صرف ایک ہی چیز کر سکتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں اپنے فن کا استعمال کرتے ہوئے اس کے بارے میں کچھ کہوں۔ یہی واحد طاقت ہے جو میرے پاس ہے۔

‘جیسا کہ انھوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ اس شخص کا ارادہ ذلیل کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ مجھے ذلیل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ذلت محسوس نہیں کروں گی، اور میں اس کے بارے میں بات کروں گی کیونکہ مجھے شرمندہ نہیں محسوس کرنا چاہیے۔’

دوسری جانب برطانیہ کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ابھرنے والی تشدد کی نئی شکلوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جس میں قربتوں والی تصاویر کے غلط استعمال کے ساتھ ‘سائبر کی دنیا میں نظر آنے والے، انتقامی پورن اور ڈیپ فیک ویڈیوز’ بھی شامل ہیں۔

وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ‘ہم فی الحال خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے اپنی نئی حکمت عملی تیار کرنے کے متعلق مشاورت کر رہے ہیں اور ہم لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

‘اس نئی حکمت عملی کے تحت متاثرین اور بچ جانے والوں کی مدد کو یقینی بنایا جائے گا اور مجرموں کی شناخت کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17287 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp