امریکی صدارتی انتخاب 2020: مظاہرین کیپیٹل ہل میں داخل ہوگئے، کانگریس کا مشترکہ اجلاس روک دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ
Getty Images
واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے کیپٹل ہل دھاوا بول دیا ہے جس کی وجہ سے وہاں افراتفری کا عالم ہے۔

جس وقت مظاہرین کیپٹل ہل میں داخل ہوئے وہاں کانگیرس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا جس کا مقصد جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔

اس سے پہلے کیپٹل ہل کی عمارت کے بار مظاہرین کے جمع ہونے کی وجہ سے کیپیٹل ہل کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا۔

مظاہرین نے عمارت کے باہر کھڑی عارضی رکاوٹوں کو توڑ دیا ہے جنھیں آج خصوصی اجلاسوں سے پہلے وہاں رکھا گیا تھا۔

کیپیٹل ہل

Reuters

کیپیٹل ہل کے اندر موجود قانون سازوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ عمارت سے نکل جائیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ محفوظ جگہ پر کھڑے ہوں اور گیس ماسک پہن لیں۔

ایلن لوریا جو کہ قانون ساز ہیں نے سماجی رابطوں کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ مجھے اپنا دفتر چھوڑ کر آنا پڑا کیونکہ باہر پائپ بم کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ صدر کے حامی کیپیٹل کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے میں نے متعدد بار ایسی آواز سنی جیسے گن شاٹ چلائی جا رہی ہو۔

صحافی اولیویا بیورز بھی وہیں موجود ہیں انھوں نے ٹوئٹ میں ماسک کی تصویر اپ لوڈ کی اور لکھا کہ اب ہمیں یہ دیے گئے ہیں۔

https://twitter.com/Olivia_Beavers/status/1346903414966538248

کیپیٹل ہل کی عمارت کے اندر متعدد مظاہرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے حامی مظاہرین کے نام پیغام میں انھیں پر امن رہنے کی تلقین کی ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ‘کیپٹل کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کی مدد کریں۔ یہ ہمارے ملک کے ساتھ ہیں۔ پرامن رہیےامریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہت زیادہ مظاہرین کے عمارت کے اندر داخل ہونے کے بعد وہاں آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی کے مئیر مورئیل باؤزر نے شہر میں کرفیو کے نفاذ کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی ریاست جارجیا میں سینیٹ کی دو نشتوں پر ہونے والے انتخابات کے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی امریکی سینیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہے۔

توقع ہے کہ پادری رافیل وارنوک ایک نشست جیت جائیں گے۔ ان کے ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھی جان اوسوف بھی سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔

اگر یہ دونوں امیدوار جیت جاتے ہیں تو نو منتخب صدر جو بائیڈن کے راستے میں قانون سازی سے متعلق رکاوٹیں کم ہو جاییں گی۔

کانگرس کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے تاکہ الیکٹرورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور تصدیق کی جا سکے۔ لیکن دوسری جانب کچھ ریپبلکنز اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ وہ بہت سی ریاستوں میں انتخابی نتائج کو الٹ دیں۔

اس بازی کی ناکامی تقریباً یقینی ہے اگرچہ کانگرس کے دونوں ایوان شاید بحث میں کئی گھنٹے لگانے ہوں گے۔

٭٭٭یہ خبر ابھی مزید اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17874 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp