ہزارہ دھرنے کے لواحقین: ’چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں کہ اب بابا کبھی گھر نہیں آئیں گے‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہزارہ دھرنا
BBC
ریحانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا کیونکہ ان کو ڈاکٹر بنانے والے ان کے والد ہی تھے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

ریحانہ کے والد کریم بخش عرف محمد آصف ان دس کان کنوں میں شامل تھے جن کو سینچر اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان میں مچھ کے علاقے میں قتل کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس واقعے کہ ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریحانہ کا کہنا تھا کہ ان والد گھر کے واحد کفیل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’جلد آؤں گا لیکن اپنے پیاروں کو دفنا دیں‘، وزیراعظم کی ہزارہ مظاہرین سے درخواست

مچھ میں 10 ہزارہ کان کنوں کا قتل، دولتِ اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے ہم میتیں نہیں دفنائیں گے‘

چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں کہ اب والد نہیں رہے

ریحانہ نے بتایا کہ وہ چار بہن بھائی ہیں جن میں بھائی سب سے چھوٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے بڑی ہیں جبکہ بھائی کی عمر صرف چار سال ہے۔

ریحانہ کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے والد محنت مزدوری کے لیے زیادہ تر باہر ہوتے تھے جس کے باعث جب چھوٹا بھائی ہم لوگوں سے کسی بات سے ناراض ہو جاتا تو ہم کہتے کہ جب بابا آئیں گے تو ہم ان کو بتائیں گے۔

’ہم اپنے چھوٹے بھائی کو اب کیسے بتائیں گے کہ والد اب دنیا میں نہیں رہے اور وہ اب کبھی بھی گھر نہیں آئیں گے۔‘

ہزارہ دھرنا

BBC

والد کا خواب تھا کہ ڈاکٹر بنوں

ریحانہ نے بتایا کہ کوئلہ کانوں میں محنت مزدوری کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کئی ہفتے گھر نہیں آتے تھے بلکہ گھر کو چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت مزدوری کرنے کے بعد ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی گھر آتے تھے۔

’وہ جب ڈیڑھ دو ماہ بعد گھر آتے تھے تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کئی ہفتے بعد گھر آنے پر ان کی والدہ ان کے والد کے پسند کا کھانا بناتی تھیں تو اس پر وہ بہت خوش ہوتے تھے۔

’کئی ہفتے بعد جب وہ آتے تھے تو خوشی کا ایسا سماں بندھ جاتا تھا کہ جیسے والد کبھی باہر گئے ہی نہیں لیکن اب ان کے لیے ایک منٹ سال کے برابر لگ رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہزارہ قبیلے کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر ان کے والد ایک محنت کش ہونے کے باوجود ان کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔

ریحانہ کا کہنا تھا کہ اب چونکہ والد دنیا میں نہیں رہے جس کے باعث شاید وہ یہ خواب پورا نہ کر سکیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ریحانہ نے استفسار کیا کہ ان کے والد اور دیگر افراد کا کیا قصور تھا کہ ان کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔

انھوں نے کہا ’کیا ان کا یہ قصور تھا کہ ان کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا یا یہ کہ وہ محنت مزدور ی کرتے تھے۔‘

ریحانہ نے مزید کہا کہ انھیں پیسے نہیں چاہیے بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان آئیں اور انصاف کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے وعدوں کی بجائے اگر انصاف دلایا جائے تو ہم بہنیں اپنے والد کی تدفین خود کریں گی۔

ہزارہ دھرنا

BBC

گلے کاٹنے کا پہلا واقعہ

بلوچستان میں حالات کی خرابی کا سلسلہ سنہ 2000 کے بعد شروع ہوا۔ بد امنی کے دیگر واقعات کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔

فرقہ وارانہ واقعات میں سب سے زیادہ ہزارہ قبیلے کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے سربراہ داؤد آغا نے بتایا کہ سنہ 2000 کے بعد سے ان واقعات میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 2200 افراد مارے گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔

ماضی میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائرنگ، بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن مچھ میں جو واقعہ پیش آیا اس میں ان کے گلے کاٹے گئے ہیں۔

داؤد آغا کا کہنا ہے کہ مچھ میں پیش آنے والا واقعہ سفاکیت کے حوالے سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ پہلی مرتبہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دس کان کنوں کے گلے کاٹے گئے۔

شدید سردی کے باوجود دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

کوئٹہ اور بلوچستان کے اکثر علاقے اس وقت شدد سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس سردی میں اگر گھروں میں ہیٹر وغیرہ کا انتظام نہ ہو تو بہت مشکل ہو جاتی ہے لیکن شدید سردی کے باوجود کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر دھرنا دیا جا رہا ہے۔

اس دھرنے میں لوگوں کی بڑی تعداد تو شریک ہی ہے لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد خواتین کی ہے۔

دھرنے میں شرکا کو پکے پکائے کھانے کے ساتھ چائے کی فراہمی کا بھی انتظام ہے جبکہ طبی امداد کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17418 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp