چاول کی مڈھی کا دھواں اور سموگ: گوجرانوالہ کی خاتون کسان سموگ کے خلاف کیسے سرگرم ہیں؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین
BBC
پنجاب میں چاول کی فصلوں کی باقیات جلائے جانے کی وجہ سے اٹھنے والا دھواں پورے صوبے میں سموگ کی صورت میں پھیل جاتا ہے
یہ کہانی پرانی ہے مگر آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔ محمد بخش (فرضی نام) شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر ہاتھ میں ماچس دبائے، مٹی کے تیل کی بوتل اٹھائے وہ اپنے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ نومبر کے آخری دن ہیں، وہ چاول کی فصل کی کٹائی کر چکے ہیں اور اب گندم کی بوائی سر پر ہے۔

محمد بخش کو گندم کے لیے زمین تیار کرنی ہے مگر اس میں چاول کی مڈھی ابھی کھڑی ہے۔ صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے اس چھوٹے کسان نے اس کو تلف کرنے کا انتہائی سستا لیکن مہلک حل اختیار کیا ہے۔ وہ اس پر تیل چھڑک کر آگ لگا دیں گے۔

رات گئے تک جلتے رہنے والی مڈھی سے صبح دیر تک دھواں اٹھتا رہے گا۔ اور اس کام میں محمد بخش اکیلے نہیں ہیں۔ پنجاب میں چاول کی کاشت کے لیے موزوں ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر کسان یہی راستہ اپناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے لیے سونا، پاکستانی کسان کے لیے خاک کیوں؟

دہلی میں جیٹ انجن کی مدد سے سموگ سے نمٹنے کی تیاری

سموگ: پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کی طرف زیادہ آگ

اس آگ سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں پہلے سے معلق آلودگی میں شامل ہوتا جاتا ہے۔ انہی دنوں میں لاہور اور اس کے گرد و نواح میں فضا مستحکم ہوتی ہے اور ہوا کی عمودی حرکت نہیں ہو رہی ہوتی یعنی ہوا اوپر یا نیچے کی طرف حرکت نہیں کر رہی ہوتی۔

صرف افقی یا سطح کے برابر حرکت کرتی ہوا انتہائی آرام سے اس فضائی آلودگی کو دور دراز کے علاقوں تک پھیلا دیتی ہے۔ جوں جوں درجہ حرارت کم ہوتا ہے، ہوا میں موجود کیمیائی گندگی کے یہ زہریلے ذرات ایسی دھند کی شکل اختیار کرتے ہیں جسے سموگ کا نام دیا جاتا ہے۔

سموگ لاہور اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ان شہروں میں بسنے والے انسان سانس کے ذریعے اس کیمیائی گندگی کو اپنے جسم کے اندر لے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر زہریلی ہے کہ جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

محمد بخش کے کھیت سے اٹھنے والا جو دھواں ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا وہ کہاں تک پہنچا اور اس نے کتنی تباہی مچائی، کیا وہ اس سے مکمل طور پر بے خبر ہیں؟ اگر وہ آگ نہ لگاتے تو اور کیا طریقہ اپنا سکتے تھے جو ان کی پہنچ میں بھی ہوتا اور ماحول دوست بھی؟

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین

BBC
ثمینہ بنیامین کہتی ہیں کہ چاول کا خصوصی ہارویسٹر نہ صرف کم سے کم مڈھی زمین میں چھوڑتا ہے بلکہ اس سے فی من چاول کی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے

وہ کہتے ہیں دھواں اوپر جانا ہے، ہمیں کیا

ان کے ساتھ ہی کے ایک گاؤں میں ایک خاتون کسان ثمینہ بنیامین دہائیوں پرانے روایتی طریقے کو چھوڑ کر چاول کی کٹائی کا ایسا جدید طریقہ اپنا چکی ہیں جس سے نہ صرف ماچس اور مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ ان کی چاول کی پیداوار بھی بڑھ گئی ہے۔

تعلیم یافتہ ثمینہ بنیامین کے عملی طور پر زمینداری میں حصہ لینے سے پہلے تک ان کا خاندان بھی فصل کی باقیات کو آگ لگانے والوں میں شامل تھا، اس لیے وہ ان کسانوں کی منطق بھی جانتی ہیں۔

’وہ کہتے ہیں دھواں اوپر جانا ہے کون سا نیچے آنا ہے ہمیں کیا۔ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے وہ سمجھتے نہیں کہ دوسرے کا نقصان ہو رہا ہے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا تو فائدہ ہو رہا ہے۔‘

تعلیم یافتہ ہونے کا خاتون کسان کو کیا فائدہ ہوا؟

ثمینہ نے ایم اے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور شادی ہونے کے بعد اسلام آباد سے گوجرانوالہ میں اپنے سسرال آئیں تھیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہ صرف کھیتی باڑی اور کاروبار کو مکمل طور پر سنبھالتی ہیں بلکہ زراعت کے جدید طریقوں سے بھی آگاہ ہیں۔

جب غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے چند برس قبل مڈھی کو جلانے اور سموگ کے نقصانات کے حوالے سے کسانوں میں آگاہی پیدا کرنے لیے مہم چلائی گئی تو ثمینہ سیکھنے کے اس عمل میں مردوں کے ساتھ ساتھ آگے آگے تھیں۔

اس وقت انھیں معلوم ہوا کہ اس موسم میں ان کے بچے مسلسل جس کھانسی اور بخار میں مبتلا رہتے تھے، اس کی وجہ وہی دھواں تھا جو وہ اپنے ہاتھوں سے خود پیدا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے گھر کے مردوں کو اس حوالے سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ قائل نہیں ہوئے۔

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین

BBC
گندم کی فصل کاٹنے کے لیے بنائے گئے ہارویسٹر سے جب چاول کی فصل کاٹی جاتی ہے تو یہ باقیات رہ جاتی ہیں جنھیں کسان جلا کر اپنی زمین خالی کرتے ہیں

کیا آگ کے علاوہ کوئی دوسرا حل تھا؟

مسئلہ یہ تھا کہ آگ نہ لگائیں تو پھر مڈھی سے کیسے جان چھڑائیں؟ اس کا حل تو موجود تھا مگر ثمینہ سمیت زیادہ تر کسان اس کو اپناتے نہیں تھے۔ وہ نسبتاً مہنگا تھا۔

جب پانچ روپے کی ماچس سے کام چل جائے تو وہ چھ ہزار روپے ایکڑ کے حساب سے ادا کر کے چاول کی کٹائی کے لیے بنا خصوصی ہارویسٹر کیوں استعمال کرتے؟ مقامی کسان اس ہارویسٹر کو اس کے بنانے والی کمپنی ’کیوبوٹا‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

تاہم ثمینہ اس ہارویسٹر کے استعمال پر قائل ہو چکی تھیں۔ وہ اپنی زمینوں کی آمدن اور خرچ وغیرہ کا حساب کتاب خود رکھتی تھیں اس لیے اپنے خاندان کے مردوں کو قائل کرنے میں بھی انھیں آسانی ہوئی۔ اس کے لیے انھوں نے مالی فائدے کے پہلو کا بھی استعمال کیا۔

’اس ہارویسٹر کے استعمال سے ہماری فی ایکڑ چاول کی آمدن بڑھ گئی ہے کیونکہ چاول ٹوٹتا نہیں اور اس کا معیار اچھا ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت اچھی ملتی ہے۔‘

تو باقی کسان چاول کا خصوصی ہارویسٹر کیوں استعمال نہیں کر رہے؟

زیادہ تر کسان چاول کی کٹائی کے لیے بھی گندم کے لیے بنا ہارویسٹر ہی استعمال کرتے تھے جس میں تھوڑی بہت تبدیلی مقامی سطح پر کر لی جاتی تھی۔ یہ ہارویسٹر دو سے ڈھائی ہزار روپے فی ایکڑ کے عوض کرائے پر مل جاتا ہے۔

یوں یہ زیادہ تر چھوٹے کسانوں کی بھی پہنچ میں تھا۔ اس کے مقابلے میں چاول کے مخصوص ہارویسٹر کے لیے چھ سے سات ہزار روپے فی ایکڑ ادا کرنے پڑتے تھے۔ چھوٹے کسان کے لیے یہ رقم زیادہ تھی۔

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین

BBC
چاول کے خصوصی ہارویسٹر کا کرایہ تو زیادہ پڑتا ہے تاہم یہ کسانوں کے لیے چاول کے بہتر معیار کی صورت میں فائدہ مند بھی ہے

گندم کا ہارویسٹر چاول کی کٹائی کرتے وقت فصل کو اوپر سے کاٹتا ہے جس کی وجہ سے انتہائی اونچی مڈھی کھیت میں بچ جاتی ہے۔ اس کی کٹائی سے پرالی بھی ثابت نہیں بچتی اور کھیت میں پھیل جاتی ہے۔

اس کو صاف کرنے کے مشینی طریقے بھی موجود ہیں لیکن ایک تو وہ کم دستیاب ہیں اور دوسرا ان پر پھر سے کسان کا خرچ آتا ہے۔ اس لیے خصوصاً چھوٹا کسان مڈھی کو جلانے کو ترجیح دیتا ہے۔

ثمینہ کہتی ہیں کہ بظاہر فائدے کا سودا نظر آنے والا یہ طریقہ درحقیقت گھاٹے کا سودا ہے۔

جدید ہارویسٹر مہنگا ہے تو فائدہ مند کیسے؟

ثمینہ بتاتی ہیں کہ ’چاول کا جدید ہارویسٹر فصل کو بالکل نیچے سے کاٹتا ہے جس کے بعد بچنے والی مڈھی کو جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم اس کو ہل چلا کر زمین میں ملا دیتے ہیں اور وہ کھاد کا کام بھی دیتی ہے۔‘

اس ہارویسٹر کے استعمال کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کسان کو پرالی بھی مکمل طور پر بچ جاتی ہے۔ یہ پرالی وہ مشین کا کرایہ ادا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ’اگر چھ ہزار اس کا کرایہ ہے تو اتنے کی ہماری پرالی بک جاتی ہے۔ اس طرح آپ کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین

BBC
ثمینہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان کے مرد شروع میں نئے ہارویسٹر کے استعمال پر قائل نہیں تھے

ثمینہ نے نفع نقصان کے اس اندازے سے نہ صرف اپنے خاندان کو قائل کیا بلکہ دیگر کئی کسانوں میں بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کر چکی ہیں۔ گذشتہ دو تین برس سے وہ اسی ہارویسٹر کا استعمال کر رہی ہیں۔

’جو گندم والا ہارویسٹر تھا وہ چاول توڑ دیتا تھا، چاول کا ہارویسٹر ایسا نہیں کرتا اس لیے اس کا وزن اور کوالٹی بہت اچھی ہوتی ہے۔ تو ظاہر ہے اس کی قیمت بھی مارکیٹ میں زیادہ ملتی ہے۔‘

تو کسان اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا رہے؟

تاہم ثمینہ کے ارد گرد اب بھی بے شمار کسان گندم والے ہارویسٹر ہی کو استعمال کرتے ہیں۔ محمد بخش نے بھی یہی ہارویسٹر استعمال کیا تھا جس کے بعد انھیں مڈھی کو آگ لگانا پڑی۔

ان کا مؤقف تھا کہ انھیں چاول کا ہارویسٹر دستیاب نہیں ہوا۔ ’کیوبوٹا والوں کے پاس میں گیا تھا وہ لارے لگا رہے تھے کہ آج آئیں گے، کل آئیں گے لیکن نہیں آ رہے تھے۔ ان کے انتظار میں میری فصل گر گئی، اس لیے مجھے مجبوراً دوسرا (گندم والا) ہارویسٹر لانا پڑا۔‘

ان کی بات میں کتنی حقیقت کتنا فسانہ تھا، ان کی کٹی فصل اور اس کی راکھ سے اندازہ لگانا مشکل تھا۔ تاہم وہ بھی چاول کے ہارویسٹر کے استعمال کے مالی فائدے سے آگاہ تھے۔ ’اگر اس سے کٹواتا تو مجھے فی ایکڑ دو من چاول زیادہ بچنا تھا۔‘

یہ ہارویسٹر کم کیوں ہیں؟

ثمینہ بھی محمد بخش کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں چاول کے مخصوص ہارویسٹر کم دستیاب ہیں جبکہ ان کی طلب میں اب بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

’جوں جوں لوگوں کو اس کے فائدے کا پتہ چل رہا ہے وہ اس کے استعمال کی طرف آ رہے ہیں۔ ہم کسانوں کو جمع کر کے بھی انھیں اس کے فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔‘

گوجرانوالہ، سموگ، پنجاب، چاول، خواتین

BBC
جدید ہارویسٹر کی مدد سے کاٹی گئی فصل کی باقیات جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی جس کے باعث یہ ماحول دوست ہے

تاہم کم دستیاب ہونے کی وجہ سے کئی کسان چاہتے ہوئے بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ نتیجہ آگ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ثمینہ کہتی ہیں کہ اگر حکومت ان مشینوں کی درآمد پر ٹیکس میں چھوٹ دے تو زیادہ کسان اس سے مستفید ہو سکیں گے۔

’پھر یہ ہارویسٹر سستے ہوں گے تو زیادہ درآمد ہوں گے اور ظاہر ہے زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا کرایہ بھی کم ہو گا۔ یہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کی پہنچ میں آ جائیں گے اور دھوئیں کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا۔‘

’کسی نے باہر سے تو نہیں آنا‘

ثمینہ سمجھتی ہیں کہ مجموعی طور پر چاول کا معیار بہتر ہونے کی وجہ سے پاکستان کو چاول کی برآمدات میں بھی فائدہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مل مالکان بھی ان علاقوں میں کسانوں کو ان مشینوں کے استعمال پر قائل کرنے کے لیے پروگرام چلا رہے ہیں۔

ثمینہ بنیامین ان افراد میں شامل ہیں جو باقی کسانوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ وہ دوسروں کو مسلسل قائل کرنے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

’میں کہتی ہوں کسی نے باہر سے تو نہیں آنا، ہم نے ہی ادھر رہنا ہے۔ دھوئیں سے ہمارے ہی بچے اور جانور بیمار ہوتے ہیں۔ ہمیں ہی اس سے چھٹکارا پانا ہو گا اس لیے آئیں سب مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp