کیپیٹل ہل پر دھاوا: آج کے دھماکہ خیز دن کا صدر ٹرمپ کی سیاسی میراث کے لیے کیا مطلب ہے؟

انتھونی زرچر - رپورٹر شمالی امریکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Donald Trump at rally in front of White House
Getty Images
یوں صدر ٹرمپ کی مدت صدارت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ محض خاموشی کے بجائے ایک بڑے دھماکہ خیز انداز میں ہوا۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے ڈونلڈ ٹرمپ چھ جنوری کو ایک ایسا فیصلہ کُن دن قرار دے رہے تھے جس دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنے حمایتیوں کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پہنچ کر کانگرس، اور نائب صدر مائیک پینس، کو چیلنج کریں تاکہ وہ نومبر کے صدارتی انتخات کے نتائج کو مسترد کریں اور صدارت کی کرسی ان ہی کے پاس رہے۔

بدھ کی صبح صدر اور اس کے جذباتی کارکنان نے ایک طوفان برپا کر دیا۔

صدر کے ذاتی وکیل روڈی گیلیانی نے کہا تھا کہ انتخابی تنازع کا حل دونوں امیدواروں میں ’کُشتی‘ کے ذریعے طے کر دینا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونئیر، صدر ٹرمپ کے بڑے بیٹے، نے اپنی جماعت کے ان ارکان کے نام پیغام بھیجا تھا جو اپنے صدر کے لیے لڑائی مول لینے سے گھبرا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ اب ان کی رپبلکن پارٹی نہیں رہی ہے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی ہے۔‘

اس کے بعد صدر نے خود زیادہ لوگوں کے اجتماع کی حوصلہ افزائی کی، جو یہ نعرے بلند کر رہا تھا کہ (ووٹ کی) چوری روکو اور یہ کہ ’یہ سب بکواس ہے۔‘ صدر کی شہ پر اس مجمے نے وائٹ ہاؤس سے دو میل کے فاصلے پر واقع کیپیٹل ہل کی طرف مارچ شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیے

کیپیٹل ہل کا محاصرہ تصاویر میں

’انھوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، پھر میں نے گولی چلنے کی آواز سُنی‘

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ ہمارے ملک کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو چکا ہے۔ اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

جب صدر یہ جملے کہہ رہے تھے تو اس وقت کیپیٹل ہل میں جہاں کانگرس کے اجلاس میں علیحدہ علیحدہ ریاستوں کے نتائج کی منظوری دی جانی تھی تو وہاں ایک نئی طرح کا ڈرامہ رچایا جا رہا تھا۔

صدر ٹرمپ کی اس ہدایت کو کہ ’ان نتائج کو اٹھا کر باہر پھینک دو‘ سب سے پہلے نائب صدر مائیک پینس نے بیان جاری کیا کہ ’ان (صدر ٹرمپ) کو ایسے اختیارات حاصل نہیں ہیں اور یہ ان کی کردار اب محض علامتی ہے۔‘

اس کے بعد رپبلکنز نے ایروزونا ریاست کے انتخابی نتائج پر پہلے اپنا مؤقف دیا اور اس کے بعد کانگرس کے دونوں ایوانوں، یعنی ایوان نمائندگان اور سینیٹ، نے علیحدہ علیحدہ اجلاس شروع کیے کہ کیا اس ریاست میں جو بائیڈن کی فتح کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔

ایوان کی کارروائی میں اس وقت خوب شور شرابا ہوا جب دونوں اطراف سے ارکان اپنے اپنے دلائل پیش کر رہے تھے۔

نومنتخب کانگرس کی خاتون رکن لارین بوئبرٹ نے کہا کہ انھوں نے گذشتہ اتوار کو آئین کے دفاع اور حمایت کا جو حلف اٹھایا ہے وہ انھیں اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا اعتراض اٹھائیں۔ اس نو منتخب رکن نے اپنے حالیہ بیان کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی۔ میڈیا میں ان کے اس بیان کا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں بندوق لے کر کانگرس جائیں گے، خوب چرچا رہا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ لوگوں کو نظر انداز نہیں ہونے دیں گی۔

Protesters outside the Capitol

Getty Images

سینیٹ میں یہ بحث نیا رخ اختیار کر گئی۔

سینیٹ میں قائد ایوان (اکثریتی پارٹی کے رہنما) مچ میکونل کالے لباس اور ٹائی، وہ لباس جو جنازے پر پہنا جاتا ہے، میں آئے جیسا کہ وہ صدر ٹرمپ کی تعریف کرنے نہیں بلکہ ان کی تدفین کرنے آ رہے ہوں۔

مچ میکونل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ان انتخابات کو ہارنے والی جماعت کے محض الزامات کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جائے تو ایسے میں ہماری جمہوریت ایک بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ پوری قوم نے کبھی کسی دوسری بار کے انتخاب کو تسلیم کیا ہو۔ ہر چار سال بعد اقتدار کی منتقلی ہر صورت ہونی ہوتی ہے۔

کینٹیکی سے ایک سینیٹر جو اب قائد ایوان بنیں گے کیونکہ ان کی جماعت کو جارجیا کے حالیہ انتخابات میں دو بار شکست کا سامنا رہا، نے کہا کہ اس کا چیمبر اس طرح بنایا گیا ہے کہ جہاں قلیل مدتی جذبات کو قابو میں رکھا جا سکے تا کہ ان کے ابال اور پگھلاؤ سے ہمارے ملک کی بنیادوں کو نہ ہلایا جا سکے۔

ان کے یہ الفاظ ابھی ہوا میں ہی معلق تھے کہ جب کیپیٹل ہل کے باہر یہ جذبات امڈ آئے اور ٹرمپ کے حمایتی جو شاید اس کی پہلی والی تقاریر سے متاثر ہو کر عمارت پر دھاوا بول دیا۔

وہ ناکافی سکیورٹی کو چکما دے کر اندر داخل ہو گئے اور اجلاس کی کارروائی کو روک دیا۔ کانگرس کے ارکان، عملے اور میڈیا کے نمائندوں نے حملے آوروں سے بچ کر محفوظ جگہ کی طرف دوڑیں لگا دیں۔

یہ ڈرامہ مختلف مراحل میں طے ہوا۔

ٹی وی چینلز پر ان مظاہرین کی ایسی تصاویر نشر ہوئیں جس میں وہ رقص کر رہے ہیں اور کیپیٹل ہل کی سیڑھیوں پر کھڑے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

دنگا فساد کرنے والوں کی سوشل میڈیا پر بھی ایسی تصاویر آئیں جس میں وہ عمارت کے اندر داخل ہونے کے بعد کانگرس کے ارکان کے چیمبرز کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور منتخب نمائندوں اور سکیورٹی افسران کے دفاتر میں بیٹھ کر تصاویر بنوا رہے تھے۔

دروازوں پر تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے ایوان نمائندگان میں بندوقیں پہنچا دی گئیں۔

ولمنگٹن میں نومنتخب صدر جو بائیڈن نے معیشیت پر اپنی ایک طے شدہ تقریر کو چھوڑ کر اس اقدام کی مذمت کی اور اسے سرکشی سے تعبیر کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ہماری جہموریت پر ایک ایسا حملہ ہے کہ جس کی جدید دور میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ آزادی کے قلعے پر اور خود کیپیٹل پر ایک حملہ ہے۔‘ انھوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ کو یہ چیلنج دیا کہ وہ قومی ٹی وی پر اس تشدد کی مذمت کریں اور محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔

کچھ وقت کے بعد ٹرمپ نے قوم کے نام ایک پیغام دیا مگر یہ اس سے مختلف تھا جیسا کہ بائیڈن چاہتے تھے۔

ایسا محسوس ہوا کہ ٹرمپ انتخاب چوری کی شکایات اور اپنے حمایتیوں کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہوں۔ انھوں نے اپنے حمایتیوں سے کہا کہ ’گھر جائیے، ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ ہمارے لیے بہت خاص ہیں۔‘

یوں صدر نے اپنے حمایتیوں کو جنھوں نے یہ حملہ کیا کو ایک عام معمول کا سا جواب دیا۔ چاہے یہ جو بائیڈن کے ساتھ ان کا پہلا مباحثہ ہو جب ان کے حمایتی سفید فام افراد کی ایک ریلی کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جس پر انھوں نے بس صرف یہ پیغام بھیجا کہ ’دونوں اطراف کے لوگ بہت اچھے ہیں۔‘

ٹرمپ کی اپنے حامیوں کے لیے ٹویٹس، جن میں انھوں نے ان کی تعریف کی تھی، پہلے ٹوئٹر انتظامیہ کی طرف سے فلیگ کی گئیں اور بعد میں یہ ہٹا دی گئیں۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس میں صدر کے اکاؤنٹ کی 12 گھنٹے تک نگرانی کی گئی۔ اس کے بعد فیس بک نے بھی ایک دن تک کے لیے صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ کو بند کر دیا۔

ٹرمپ کو اس کے طویل صدارتی مدت کے دوران اس سے سوشل میڈیا کے ساتھ اس تعلق کے دوران پہلی بار یوں سوشل میڈیا پر چپ کرایا گیا۔

سہہ پہر سے شام تک پولیس نے کیپیٹل کا انتظام سنبھال لیا تو پھر ہر طرف سے تشدد کے خلاف مذمتی بیانیات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ان کے مطابق جنوری 6 ہماری تاریخ کا ایک تاریک ترین دن ہے۔

یہ ہماری قوم کے لیے ایک آخری تنبیہ ہے کہ ایک ایسے صدر کے نتائج بھگتنے ہوتے ہیں جو عوام کو اصلاح و احوال والے نظریات کے بجائے ان کے جذبات سے کھیلتا ہے، یہ ایسے لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اسے اس قابل بناتے ہیں، ایک غلام میڈیا جو اس کے جھوٹ پر پردہ ڈالتا ہے، اور ایسے لوگ جو انھیں فالو کرتے ہیں اور وہ امریکہ کو تباہی کے دہانے لے کر جا رہا ہے۔

اور خاص طور پر یہ ریپلیکن کے لیے تنبیہ ہے جو اس سب کو بھگت رہے ہیں۔

کانگرس کی خاتون رکن لین چینی جو رپبلیکن میں صدر کی ناقد ہیں نے ٹویٹ کیا کہ ہمیں کیپیٹل میں ابھی ایک پرتشدد ہجوم کا سامنا ہے اور یہ ان کی طرف سے ہمیں ہمارے آئینی حق سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے کہ صدر نے اس ہجوم کو تیار کیا بلکہ صدر نے ان کو ورغلایا اور پھر اس ہجوم سے خطاب بھی کیا۔

یہ مذمت صرف ٹرمپ کے ناقدین ہی کی طرف سے نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ہمیشہ صدر کا ساتھ دینے والے سینیٹر ٹام کاٹن نے بھی اس پر اظہار خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ صدر کے لیے انتخاب کے نتائج کو تسلیم کرنے کا وقت آ چکا ہے، انھیں اب امریکی عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے اور انھیں ہجوم کی طرف سے تشدد کو مسترد کر دینا چاہیے۔

خاتون اول ملانیا ٹرمپ چیف آف سٹاف سٹیفنی گریشم اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری سارا میتھیوز اپنے منصب سے احتجاجاً مستعفی ہو گئیں اور اب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مزید حکومتی اہلکار اگلے 24 گھنٹوں تک مستعفی ہو جائیں گے۔

سی بی ایس کی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے کابینہ کے حکام امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم پر غور و خوض کر رہے ہیں جس کے تحت نائب صدر کابینہ کی اکثریت سے مل کر صدر کو عارضی طور پر ان کے عہدے سے ہٹا سکتا ہے۔

اب چاہے پینس اور ان کی کابینہ ایسا کرے یا نہ کرے اب ٹرمپ کی مدت صدارت دو ہفتوں کے بعد ختم ہو جائے گی۔

اس موقع پر رپبلکن پارٹی کے رہنما مستقبل پر غور کریں گے کہ وہ کیسے کانگرس اور وائٹ ہاؤس میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے اور ایک سابق صدر جس کا تاثر بری طرح متاثر ہوا مگر وہ اب بھی پارٹی کے اندر بڑے حصے پر ایک اثر رکھتا ہے۔

Donald Trump at rally in front of White House

Getty Images

بدھ کے واقعات رپبلکن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ پارٹی میں قدامت پسند ٹرمپ اور ان کے حامیوں سے پارٹی انتظام چھیننا چاہتے ہیں۔ میکونل کے ریمارکس اس طرف کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

سابق صدارتی امیدوار سینیٹر مٹ رومنی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں۔

پارٹی کے اندر سے دیگر ارکان کی طرف سے بھی ٹرمپ کے ان اقدامات کو چیلنج کیا جائے گا جو ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کے دعوؤں میں دلچپسی رکھتے ہیں۔

ریاست میسوری سے سینیٹر جوش ہاولی وہ پہلے قانون دان تھے جنھوں نے کہا تھا کہ وہ سینیٹ میں انتخابی نتائج کو چیلنج کریں گے۔ وہ کیپیٹل پر تشدد کے بعد دوبارہ شروع ہونے والے اجلاس میں بھی اپنے اس چیلنج سے پیچھے نہیں ہٹے۔

ناقدین سیاسی مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور ایسے بہت سے سیاستدان ہیں جو اس موقع کو فائدہ حاصل کرنے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

ٹرمپ ابھی بھی اقتدار میں ہیں۔

جب اس کا تعاقب کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ یہ ،عارضی طور پر سوشل میڈیا سے دور رہتے ہوئے، سب وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے ہوں گے اور وہ زیادہ دیر تک چپ نہیں رہیں گے۔

جب وہ اپنے فلوریڈا والے نئے گھر کا رخ کریں گے تو وہ ایسے وقت میں حساب برابر کرنے کے بارے منصوبے بنانے شروع کر سکتے ہیں اور شاید جب کوئی اقتدار میں واپس آئیں اور ایسے سیاسی ورثے کو دوبارہ اجاگر کرے، جس کی فی الحال ہم پکڑ میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17415 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp