بالی بم دھماکوں سے منسلک سخت گیر مسلم عالم ابوبکر بشیر کون ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابو بکر بشیر
Getty Images
ایک مسلمان عالم ابوبکر بشیر جن پر سنہ 2002 میں انڈونیشیا کے علاقے بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے، اس ہفتے جیل سے رہا ہونے والے ہیں۔

82 برس کے ابوبکر بشیر کو عام طور پر القاعدہ سے متاثر جمعیہ اسلامیہ نامی اس گروہ کا روحانی رہنما تصور کیا جاتا ہے جس پر بالی حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان حملوں میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مارچ 2005 میں انھیں بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کیا گیا تھا لیکن اپیل کے بعد ان کی سزا کو ختم کر دیا گیا تھا۔

سنہ 2011 میں انڈونیشیا کے شمالی صوبے آچے میں شدت پسندوں کی مدد کرنے کے ایک دوسرے الزام میں انھیں دوبارہ قید کیا گیا۔ اب اپنی قید کی دو تہائی مدت گزارنے کے بعد وہ جمعے کو رہا ہونے والے ہیں۔

ان کو رہا کرنے کے فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے انڈونیشیا کے کچھ لوگوں نے رحم کی تلقین کی ہے جبکہ کچھ کو ایک شدت پسند کی رہائی سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈونیشیا: ابوبکر بشیر کو پندرہ سال قید

انڈونیشیا میں مذہبی رہنما پر فحاشی کا الزام

انڈونیشیا: ہِٹلر کے متنازع مجسمے کو ہٹا دیا گیا

سکول کے بانی

ابوبکر بشیر کی پیدائش سنہ 1938 میں مشرقی جاوا میں ہوئی اور انھوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے مذہبی تعلیم دینے میں گزارے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا شمار جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے متاثرکن جہادی رہنماوں میں ہونے لگا۔

ان کی سوچ کا ایک دائمی جز یہ رہا ہے کہ ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے اسلامی معاشرے اور برادریوں کا قیام نا گزیر ہے۔

سنہ 1972 میں انھوں نے عبداللہ سنگکار کے ساتھ مل کر مرکزی جاوا کے علاقے نگروکی میں الممکن اسلامک بورڈنگ سکول قائم کیا۔ اس سکول سے تعلیم حاصل کرنے والے کئی افراد شدت پسند حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ابوبکر بشیر

Getty Images

سنہ 70 کی دہائی کے اواخر میں ابوبکر بشیر پر ایک اسلامی ریاست بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگا جس کے بعد اس وقت کے آمرانہ رہنما سوہارتو نے انھیں بغاوت کے الزام میں قید کی سزا سنائی۔

اس کے بعد وہ جیل میں مزید وقت گزارنے سے بچنے کے لیے فرار ہو کر ملائشیا چلے گئے لیکن سنہ 1998 میں سوہارتو کے زوال کے بعد انڈونیشیا واپس آ گئے۔

واپس آتے ہی انھوں نے انڈونیشیا کو شریعت پر مبنی ریاست بنانے کے لیے مہم کا آغاز کیا۔

شیطانی سازش`

سنہ 2002 میں بالی میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ابوبکر بشیر کو گرفتار کیا گیا اور ان پر کئی دیگر حملوں کے الزامات بھی لگائے گئے۔ ان میں سنہ 2003 میں جکارتہ کے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والا حملہ بھی شامل تھا جس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہاں تک کہ ان پر انڈونیشیا کی سابق صدر میگاوتی سوکارنوپتری کے قتل کا منصوبہ بنانے کا الزام بھی لگایا گیا تاہم ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے پراسیکیوٹرز کبو خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔

اکتوبر 2004 میں ان پر بالی اور میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔

مقدمے کے بعد جج صاحبان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ ان حملوں میں براہ راست ملوث نہیں تھے تاہم انھوں نے اس کی منظوری دی تھی۔ انھیں بالی حملوں کی ’شیطانی سازش‘ میں ملوث ہونے کے جرم میں تیس ماہ کی سزا سنائی گئی جبکہ میریئٹ ہوٹل حملے سے متعلق الزامات خارج کر دیے گئے۔

ابوبکر بشیر کو جون 2006 میں رہا کر دیا گیا اور پھر چھ ماہ بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو ختم کر دیا۔

ابوبکر بشیر نے بار بار تمام الزامات اور جمعیہ اسلامیہ کے ساتھ تعلق کی تردید کی ہے۔ انھوں نے بالی حملوں کو سفاکانہ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت بھی کی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ محض ایک مذہبی رہنما ہیں۔

ابوبکر بشیر

Getty Images

شدت پسندوں کی فنڈنگ

مئی 2010 میں ابوبکر بشیر ایک بار پھر اس وقت منظر عام پر آئے جب حکام نے جامع انشروت توحید کے صدر دفتر پر چھاپہ مارا۔ اس تنظیم کی بنیاد ابوبکر بشیر نے سنہ 2008 میں رکھی تھی۔ تنظیم کے تین ارکان کو گرفتار کیا گیا اور ان پر آچے میں مقیم شدت پسندوں کے ایک ٹریننگ کیمپ کے ساتھ روابط کا الزام عائد کیا گیا۔

آچے کے اس کیمپ پر، جس میں انڈونیشیا کے سرکردہ ترین شدت پسند گروہوں کے ارکان شامل تھے، ایک ایسی ملیشیا تشکیل دینے کا الزام لگایا گیا جو اسلامی ریاست کے قیام کے لیے اعلی حکومتی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

نو اگست 2010 کو بشیر کو اس کیمپ کے ساتھ تعلقات کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا اور اس کے ایک سال بعد انھیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انھیں یہ سزا کیمپ کو مالی امداد فراہم کرنے اور اس کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے کے جرم میں دی گئی۔

ابوبکر بشیر نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ ان کا آچے کے کیمپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جامع انشروت توحید کا اصرار ہے کہ اس کا شدت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں اور وہ ایک جائز اسلامی ادارہ ہے۔

بدلتا ماحول

جنوری 2019 میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کہا کہ ابوبکر بشیر کو طبی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے ملک کے مذہبی امور کے وزیر نے عوام سے بشیر کو معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔

تاہم اس فیصلے پر خاصی تنقید بھی ہوئی۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے انڈونیشیا سے کہا کہ وہ ان کے ملک کے لیے ’اعلی احترام‘ کا مظاہرہ کرے۔ بالی میں ہلاک ہونے والوں میں آسٹریلیا کے اٹھاسی شہری بھی شامل تھے۔

فیصلے کے وقت جکارتہ میں انسٹیٹیوٹ فار پالیسی انیلیسس آف کانفلکٹ کی ڈائریکٹر سڈنی جونز نے صدر ویدودو کے فیصلے کو ’گمراہ کن، قانونی طور پر قابل اعتراض اور سیاسی طور پر نااہل قرار دیا تھا۔

تاہم اس فیصلے پر نظر ثانی کے بعد انھیں رہا نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ ابوبکر بشیر نے انڈونیشیا کے ریاستی نظریے سے وفاداری کا عہد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس ہفتے کے اوائل میں حکومت نے کہا تھا کہ بشیر کو جمعے کو رہا کر دیا جائے گا کیونکہ ’ان کی سزا کی مدت ختم ہو گئی ہے۔‘

بشیر کی سزا کی مدت میں 55 ماہ کی کمی کی جا چکی تھی۔ مقامی نیوز ایجنسی انتارا سے بات کرتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا کہ ابو بکر بشیر نے ’اپنی سزا اچھی طرح سے گزاری ہے اور تمام قوائد اور ضوابط کا احترام کیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp