انڈیا میں گائے کے بارے میں معلومات بڑھانے کے لیے امتحان لیا جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں مویشیوں کا مرکزی محکمہ قومی سطح پر گائے کے بارے میں ایک امتحان منعقد کروانے والا ہے۔ دراصل مرکزی حکومت کی مویشیوں اور ڈیری کی وزارت کے تحت ایک کمیشن بنایا گیا ہے جس کا نام ہے ’قومی کامدھینو کمیشن۔‘

قومی کامدھینو کمیشن گائے سے متعلق امتحان منعقد کرنے جا رہا ہے۔ قومی کامدھینو کمیشن کے چیئرمین ولبھ بھئی کتھیریا نے بتایا ہے کہ یہ امتحان ہر سال منعقد کرایا جائے گا۔

مویشیوں اور ڈیری کی وزارت کے مرکزی وزیر گیری راج سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ہم 25 فروری 2021 سے قومی سطح پر اس امتحان کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں۔ گائے میں ایک پوری سائنس ہے جس پر تحقیق ضروری ہے۔

تاہم ڈیری سیکٹر کے ماہرین اس امتحان کو ایک خاص قسم کا تاثر دینے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ڈیری ایکسپرٹ کلدیپ شرما کہتے ہیں ’یہ ایک طرح کی سوچ پیدا کی کوشش ہو رہی ہے۔ حالانکہ دیسی گائے کے بارے میں لوگوں کی معلومات بڑھانے کے لحاظ سے یہ ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

‘انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں’

انڈیا میں وزارتِ گائے قائم کرنے پر غور

’گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے‘

وہ مزید کہتے ہیں ’لیکن اگر کسانوں سے پوچھا جائے تو وہ ان سے ہونے والی کمائی کی پائی پائی کا حساب بتا دیں گے۔ معلومات میں اضافے کے لحاظ سے یہ امتحان ٹھیک ہے لیکن زمینی سطح پر گائے سے کسانوں کی کمائی کتنی ہے اور کیسے بڑھے گی اس کے لیے پالیسی بدلنا زیادہ ضروری ہے۔ گائے سے متعلق سرکاری پالیسیاں سمجھ سے باہر ہیں۔ کسان اپنی گائیں بیچ نہیں پاتے ہیں اور وہ ان پر بوجھ بنی رہتی ہیں۔ گائے کو ایک سے دوسری جگہ پہنچانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘

امتحان کی تفصیلات

یہ امتحان ہندی اور انگریزی کے علاوہ بارہ علاقائی زبانوں میں بھی لیا جائے گا۔

کتھیریا کہتے ہیں ’کامدھینو گائے وگیان پرچار پرسار امتحان ایک آن لائن امتحان ہو گا جس میں ہندی، انگریزی اور بارہ علاقائی زبانوں میں 75 کثیر الانتخاب سوال ہوں گے۔‘

یہ امتحان ایک گھنٹے کا ہو گا اور اس کے چار حصے ہوں گے۔ یہ امتحان پرائمری (آٹھویں جماعت تک)، سیکنڈری (نویں سے بارہویں جماعت تک)، کالج (بارہویں جماعت کے بعد) اور عام لوگوں کے لیے ہو گا۔ اس امتحان کے لیے کوئی رجسٹریشن فیس نہیں لی جائے گی اور اس سے متعلق کتابوں اور دیگر مواد کو کامدھینو کمیشن کی ویب سائٹ پر فراہم کرایا جائے گا۔

امتحان کے نتائج کا اعلان 26 فروری 2021 کو کیا جائے گا۔ اس میں پاس ہونے والے شرکا کو نقد انعام اور سرٹیفیکیٹ دیے جائیں گے۔

کامدھینو کمیشن کیا ہے؟

سنہ 2019 کے عبوری بجٹ میں وزیر خزانہ پیوش گویل نے کامدھینو کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔ بجٹ کی تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے قومی کامدھینو کمیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے فخر ہو رہا ہے تاکہ گائے جیسے پائیدار وسیلے کا جینیاتی اپ گریڈ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی گائے کی پیداوار کو بھی بڑھایا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ یہ کمیشن گائے سے متعلق قوانین اور ویلفیئر سکیموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کا کام بھی کرے گا۔ گویل نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ ’گو ماتا کے احترام میں اور گو ماتا کے لیے یہ حکومت کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور اس کے لیے جو بھی ضروری ہو گا کیا جائے گا۔

اسی بجٹ میں قومی کوگل مشن کے لیے بجٹ کو بھی بڑھا کر 750 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

دیسی نسلوں پر زور

کامدھینو کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ جدید اور سائنسی طرز پر گائے کی پرورش اور نسلوں کو محفوظ کرنے اور گائے، بچھڑوں کو ذبح کیے جانے سے روکنے کے لیے اس کمیشن کا قیام کیا گیا ہے۔

جانوروں سے متعلق وزارت کے مطابق انڈیا میں گائے کی 43 نسلیں پائی جاتی ہیں۔ کامدھینو کمیشن کی ویب سائٹ پر امتحان کی تیاری کے لیے فراہم کیے گئے مواد میں غیر ملکی جرسی گائے کے مقابلے میں انڈین گائے کو بہتر بتایا گیا ہے۔ حالانکہ ماہرین حکومت کی طرف سے دیسی گائے پر زور دینے اور جرسی گائے پالنے کی حوصلہ شکنی کرنے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

کلدیپ شرما کہتے ہیں کہ مویشیوں میں تفریق کرنے کی بات سمجھ نہیں آتی۔ انڈیا میں ڈیری سیکٹر تین حصوں میں منقسم ہے۔ اس میں 50 فیصد حصہ بھینسوں کا ہے، اس کے بعد 30-35 فیصد دیسی گائے کا، باقی 10-15 فیصد ایچ ایف یا جرسی گائیں ہیں۔

شرما کہتے ہیں ’آپ دیسی گائے کی حفاظت کریں، یہ اچھی بات ہے لیکن کیا پورے ملک میں صرف دیسی گائے کا ہی دودھ رکھا جائے اور باقی کو ختم کر دیا جائے، تو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ کسی بھی چیز کی تبدیلی کے لیے کسی دوسری چیز کو ختم کرنا کیوں ضروری ہے؟‘

وہ مزید کہتے ہیں ’جو سکیمیں آ رہی ہیں ان میں بھی دیسی گائے سے جڑی شرائط لگا دی جاتی ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ جس طرح دیسی اور جرسی گائے کا موازنہ کیا جا رہا ہے اور اس میں دیسی گائے کے دودھ کو اچھا بتایا جا رہا ہے، یہ سائنسی حقائق پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ثبوت ہے۔‘

پالیسیوں پر سوال

شرما کہتے ہیں کہ پہلے سے ہی سرکار گوکل مشن چلا رہی ہے اور اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ جب آپ گائے کے ذبح کرنے پر پابندی لگا دیں گے تو پھر بڑے پیمانے پر گوال گھر بنانے پڑیں گے۔ وہ کہتے ہیں لیکن ’کیا یہ گوال گھر سبھی آوارہ گائیے کو رکھ پا رہی ہیں؟ ان کا کام کیسے چل رہا ہے سب جانتے ہیں۔‘

کلدیپ شرما کہتے ہیں کہ اگر بیس سال بعد جا کر بھی اس طرح کے کمیشن کچھ حاصل کر پاتے ہیں تو بہت بڑی بات ہو گی۔

’اس وقت یہی کہا جائے گا کہ فلاں حکومت کے دور میں بنے کمیشن نے کام کر دکھایا ہے۔‘

53 کروڑ سے زیادہ مویشی

سنہ 2012 میں انڈیا میں ہونے والی مویشیوں کی گنتی کے مطابق ملک میں تقریباً تیس کروڑ گائیں اور بھینسیں ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریبا 52 لاکھ ایسی گائیں بھینسیں ہیں جنھیں کوئی نہیں پال رہا۔

سنہ 2019 کے آخر میں آنے والی نئی رپورٹ کے مطابق ملک میں مویشیوں کی تعداد 53.57 کروڑ ہے جو سنہ 2012 کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17329 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp