پاکستانی ڈاکٹر نے امریکی مریضوں کو لاکھوں ڈالر کے بلز معاف کیوں کر دیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر نے کینسر کے 200 ایسے مریضوں کا قرض معاف کر دیا ہے جو یہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس قرضے کی مجموعی تقریباً رقم ساڑھے چھ لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

ان کا نام ڈاکٹر عمر عتیق ہے اور گذشتہ برس انھوں نے آرکنساس میں اپنا کلینک ختم کیا ہے جہاں وہ 29 برس تک کینسر کے مریضوں کا علاج کرتے رہے ہیں۔

تاہم اس کے بعد جب وہ واجب الادا رقم کے حصول کے لیے قرض اکھٹا کرنے والی ایک فرم کے ساتھ رابطے میں رہے تو انھیں لگا کہ ان کے بہت سے قرض خواہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہ ان کی فیس کی باقی ماندہ رقم لوٹا نہیں سکتے۔

پھر جب کرسمس آئی تو انھوں نے اپنے مریضوں کے نام یہ پیغام لکھا کہ وہ انھیں تمام قرض معاف کرتے ہیں۔

بی بی سی کے ونیت کھرے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں نے کبھی بھی اس سے پہلے مریضوں کے بِل اکھٹے کیے جانے کے عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی یہ کام سٹاف کرتا تھا پھر جب سٹاف چلا گیا تو میں نے دیکھا کہ جن کے پاس پیسے تھے یا انشورنس تھی انھوں نے تو دیے لیکن کچھ مریض جو پیسے دینا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس پیسے تھے نہیں دینے کے لیے۔ تب ہمیں خیال آنا شروع ہوا کہ اس میں کچھ اچھی بات نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر عمر عتیق کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے دوران لوگوں کی نوکریاں گئیں معاشی صورتحال بہت خراب ہوئی گھریلو مسائل بھی ہوئے جس سے ہم سب لوگ ہی آگاہ ہیں۔

مزید پڑھیے

دیوالی کے موقع پر پاکستانی مریضوں کے لیے ویزے

کینسر کے مریضوں کے لیے سر منڈوانے کی مہم

’مجھے کہا گیا بال لے کر کالا جادو کرو گے‘

وہ کہتے ہیں کہ میں نے اور میری اہلیہ نے فیصلہ کیا کہ ہم یہ قرض معاف کرتے ہیں کیونکہ اس پیسے کی ہمیں اتنی ضرورت نہیں جتنی انھیں تھی۔

’گھر میں نے اکتوبر نومبر کے مہینے کے دوران اپنی اہلیہ سے بات کی یہ صورتحال ہے۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ شکر ہے ہمیں یہ پیسے نہیں چاہیں کسی اور کو ان کی ضرورت ہے تو کیوں نہ ہم اس قرض کو معاف کر دیں۔ ‘

لیکن یہ اتنی بڑی رقم ہے اسے چھوڑ دینا کتنا بڑا فیصلہ تھا کتنا چیلنج تھا؟

اس کے جواب میں ڈاکٹر نے کہا کہ یہ واقعی کوئی مشکل فیصلہ نہیں تھا یہ سب سے آسان کام تھا۔

’اللہ کا احسان ہے ہمیں ضرورت نہیں تھی کسی اور کو چاہیے تھے۔ اوپر والا بعض اوقات ڈور ملا دیتا ہے وہ مل گئی۔‘

ڈاکٹر عمر کے مطابق سنہ 1991 میں انھوں نے پریکٹس شروع کی تھی اور گذشتہ برس یہ ختم ہوئی۔ ان کے خیال میں یہ گذشتہ دس برسوں کے دوران اکھٹا ہونے والا قرض ہے کیونکہ وہ گاہے بہ گاہے جب حساب ہوتا تھا تو 100 سے کم ڈالر واجب الادا رقم معاف کرتے آئے ہیں۔

امریکہ جیسے ملک میں وہ کینسر کے ایسے مریضوں کی موجودگی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں نے 30 برسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بعض لوگ کچھ دیر ٹھنڈی ہوا میں بیٹھنے کے لیے آپ کے دفتر میں آتے تھے۔ بعض نے ناشتہ نہیں کیا ہوتا تھا تو ہمارا سٹاف انھیں کھانا دیتا تھا۔ ایسے آتے تھے جن کے پاس کوئی بات کرنے والا نہیں ہوتا تھا۔ رب کسی کو ایسی آزمائش میں نہ ڈالے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے نزدیک جو لوگ نہیں دے سکتے ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ جن کو کھانے کو میسر نہیں، پہننے کو میسر نہیں، رہنے کو میسر نہیں ایک نوکری ہے چار بجے ہیں، جو بیمار ہیں اور نوکری نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر عمر کا کہنا ہے کہ ان کے مریضوں میں مختلف اقوام اور رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔

ڈاکٹر عمر نے سنہ 1991 میں پائن بلف میں آرکنساز کینسر سینٹر کی بنیاد رکھتی تھی۔ وہ کینسر کے مریضوں کو کیموتھراپی، شعاعیں لگانے اور کیٹ سکین کی سہولت فراہم کرتے تھے۔

کلینک بند کرنے کے بعد اب وہ لٹل راک میں یونیورسٹی آف آرکانساس فار میڈیکل سائنسز سے منسلک ہیں۔

واجب الادا رقوم اکٹھی کرنے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمر عتیق ایک خیال رکھنے والے انسان ہیں۔

بیا چیسمین کا تعلق آر ایم سی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمر نے کینسر کے مریضوں کا قرضہ معاف کر کے بہت زبردست کام کیا ہے کیونکہ بل ادا کرنے کے حوالے سے کینسر کے مریضوں کے لیے مشکلات دیگر تمام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

آرکنساس میڈیکل سوسائٹی کے ایڈوکیسی گروپ سے ایگزیٹو وائس پریزیڈنٹ ڈیوڈ روٹن کہتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر عمر عتیق نے بلایا اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ مریضوں کا قرضہ معاف کرنے کے ان کے خیال میں کچھ بھی نامناسب نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ڈاکٹر عمر عتیق کو جانتے ہیں تو بہتر سمجھ جائیں گے کہ پہلے تو وہ بہترین انسان ہیں جن سے میں کبھی ملا ہوں لیکن وہ اس کے ساتھ ایک نہایت شفیق ڈاکٹر بھی ہیں جس سے میں کبھی ملا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17330 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp