دیپ جلتے رہے(قسط 29)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


رامش انہیں غصے سے گھورتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ہم بیڈ پر بیٹھے ہوئے انہیں تشکیک سے دیکھ رہے تھے۔ منتظر تھے کہ اب مغلظات کے طوفان کے ساتھ طعنے بھی سننے کو ملیں گے کہ میرے بچوں کو میرے خلاف کیا ہی تھا اب یہ نوبت بھی آ گئی کہ بچے میرے مقابل کر دیے۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ہمارے کندھے پر رکھ دیے۔ ہم نے خوف زدہ نظروں سے انہیں دیکھا انہوں نے سر جھکا دیا۔ اشک روانی تو یوں بھی میر کی سی ہے۔

مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی

پھر غالب ؔ کاخیال آیا۔ وہ پہلے ہی سمجھا بیٹھے تھے۔

یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو، تم کہ ویراں ہو گئیں

انہیں کمزور پڑتے دیکھ کر انتقامی کارروائی سے گریز کیا، لڑکپن تھا نہیں کہ سنگ اٹھاتے۔ اور اٹھاتے تو سر کی خیر، تاج بھی تو مضروب ہوتا۔

بچے جہاں پڑھتے تھے، پتہ نہیں وہ کس قسم کا اسکول تھا، غیر نصابی سر گرمیاں صفر تھیں۔ بچوں کو درست جواب نہ دینے پر سرزنش کی جاتی تھی۔ سارے بچوں کے سامنے بچوں کو ڈانٹتے، پھٹکارتے ٹیچرز بھول جاتے ہیں کہ درست جواب نہ آنے کی صورت میں چیخ پکار، بچوں کو نالائق کہہ کر کلاس میں قبرستان کا سا سکوت تو پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن مردوں کو پڑھایا نہیں جا سکتا۔

اور پھرکچھ بچے بے حد حساس ہوتے ہیں۔ انہیں خوف رہتا ہے کہ سب کے سامنے انہیں بھی نہ ڈانٹ دیا جائے ، وہ سہمے رہتے ہیں۔ نہ سوال کرتے ہیں نہ استاد سے دوبارہ سمجھانے کی استدعا کرتے ہیں۔ اسکول کے بچوں میں تعلیمی کارکردگی بڑھانے کے لیے ہر ہفتے ہر کلاس سے ایک بہترین طالب علم منتخب کیا جاتا۔

بڑے بیٹے رشی نے بھی لگا تار دو ہفتے بہترین طالب علم کا سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ چھوٹا رامش بھی، بھائی جیسا لائق شاگرد بننے کی کوشش میں ہلکان رہا۔ میں محسوس کر رہی تھی کہ بچوں نے کوئی فرمائش، ضد شرارت کرنا اور قہقہے لگانا ترک کر دیا ہے۔ کمپیوٹر پر گیم بھی نہیں کھیلتے تھے۔ بس چپ چاپ تدریسی کتب کے مطالعے اور نوٹ بکس سیاہ کرنے میں مصروف رہتے۔ کبھی کبھی اپنی خالہ شفو کے گھر جانے کے لیے کہتے، میں خوش ہو جاتی کہ اپنی کزنز کے ساتھ گپیں لگائیں گے، خوش ہوں گے۔

مگر وہاں جا کر بھی بہنوئی کے سامنے بیٹھ کر ریاضی سمجھنا شروع کر دیتے۔ زندگی کے تمام ادوار میں جینا ایک بار ہی نصیب ہوتا ہے۔ بچوں کی عمر کا یہ حسین دور ایک عذاب سے دوچار تھا۔ اسکولوں میں پوزیشن لینے کے مقابلے کی دوڑ نے انہیں تو قبرستان بنا ہی دیا ہے، مگر مجھے اپنے گھر میں زندہ بچوں کی چہکار چاہیے تھی، جو اب مفقود ہو چکی تھی۔ ننھا الہام بھی خاموش ہو گیا تھا۔ ڈانٹ کے خوف سے وہ بھی کتاب کاپی لیے میرے ارد گرد منڈلاتا رہتا۔ ہفتہ وار چھٹی میں انہیں بہت زیادہ ہوم ورک ملا کرتا۔ بچوں کی اداسی اور گھر کی خاموش فضا مجھے بے چین کر رہی تھی۔

ایک روز میں بچوں کو اسکول لینے گئی تو رامش نے مجھے دیکھتے ہی بیگ میں ہاتھ ڈال کر ایک کاغذ کا پرزہ ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ اس ہفتے کا بہترین طالب علم قرار پایا تھا۔ میں نے کبھی یہ نہیں چاہا تھا۔ کراچی میں رامش ہر کلاس میں کبھی بی اور کبھی اے گریڈ میں پاس ہوتا تھا۔ لیکن اس کی ڈرائنگ بہت اچھی تھی۔ وہ ایک خاص قسم کی مٹی سے کتے، بھالو، بلی کے خوب صورت مجسمے بناتا تھا۔ ایک بار اس نے ایک مزدور کا مجسمہ بنا کر ہم سب کو بے حد حیران کر دیا تھا۔ یہاں آ کر اس نے ایک روز بھی مجھ سے اس مٹی کی فرمائش نہیں کی تھی۔ میں نے اس کی پیٹھ تھپکی۔ گھر آ کر میں نے الہام کا بیگ کونے میں رکھا، دونوں بچوں نے کندھے سے بیگ کا بوجھ اتارا۔ میں نے بچوں کو اپنے قریب بلایا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔

کراچی چلیں۔
نہیں امی ابھی نہیں جا سکتے، سیمسٹر ہونے والے ہیں۔
میں کہہ رہی ہوں واپس چلیں، ہمیشہ کے لیے۔
ہمیشہ کے لیے! رامش نے رشی کی طرف حیرت سے دیکھا۔
مگر ہم تو اپنا گھر بیچ کر آ گئے ہیں۔

تو کیا ہوا، کرائے پر لے لیں گے۔ پہلے کی طرح رہیں گے۔ الہام نے ناچنا شروع کر دیا۔ رشی، رامش نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

لیکن امی بابا نے منع کر دیا تو۔
وہ منع نہیں کریں گے۔ وہ بھی یہ ہی چاہتے ہیں۔ ہم سب یہ ہی چاہتے ہیں۔ بس کوئی بولتا نہیں۔

ٹھیک ہے امی۔ بچے کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد میں ان کے کمرے میں گئی تو اسکول کا کام کر رہے تھے ، یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟

کل ٹیسٹ ہے امی۔
تم لوگ کل سے اسکول نہیں جاؤ گے۔
بچوں نے خوشی خوشی کتابیں بیگ میں ڈال کر زپ لگا دی۔
کہیں گھومنے چلیں۔
نہیں امی آج نہیں۔
یہ کہہ کر دونوں اپنی اپنی کمپیوٹر ٹیبل پر جا بیٹھے۔
تھوڑی دیر بعد کچھ لوگوں کے ہمراہ احمد گھر آ گئے۔

الہام نے انہیں دیکھتے ہی خبر دی کہ ہم واپس کراچی جا رہے ہیں۔ احمد نے میری طرف دیکھا۔ میں نے ان سے سوال کر دیا۔

چلیں واپس؟
میں تو خود کئی دنوں سے سوچ رہا تھا۔ لیکن تمہارے خیال سے چپ تھا۔

احمد نے ڈرائنگ روم میں جا کر اپنے ساتھ آئے لوگوں کو بتایا۔ وہ سب احمد کو سمجھانے لگے۔ احمد نے انہیں بتایا کہ بچے اداس ہیں، ہمیں جانا ہو گا۔ وہ دنیا داری سمجھانے لگے۔ باوا جی آپ کے لیے اتنے پروگرام پکڑے ہیں ، اب تو کہیں جا کر آپ کے اچھے دن شروع ہو نے والے تھے۔ پنجاب کے سارے بڑے شہروں نے پروگرام رکھے ہیں ، آپ کا نام ٹاپ پر ہے۔

وہ سب مجھے سمجھانے میرے پاس چلے آئے۔

ماں جی واپسی کا فیصلہ نہ کریں ، تھوڑے دنوں کے بعد بچوں کا دل بھی لگ جائے گا۔ اس اسکول کی بڑی شہرت ہے۔ بچوں کا مستقبل سنور جائے گا۔ اگر بچوں کا دل نہیں لگ رہا تو کسی دوسرے اسکول میں ایڈمیشن کرا دیتے ہیں۔

ہم نے ان سے صرف اتنا کہا کہ بچے واپسی کا سن کر بہت خوش ہیں۔ واپسی کے فیصلے سے ان کی خوشی مشروط ہے۔ اس لیے اس فیصلے کو واپس نہیں بدلا جا سکتا۔

کراچی چھوڑتے کب کسی کی سنی تھی جو واپسی کے فیصلے پر کسی کی بات پر دھیان دیتے۔

گھر کی سوئی ہوئی ویرانی اب مردار پڑی تھی۔ بچے کمپیوٹر پر بیٹھے گاڑیوں کی ریس لگا رہے تھے۔ ہم الہام کے ساتھ شفو کے گھر روانہ ہوئے۔ راستے میں الہام نے اپنی کزنز کے لیے آئس کریم لی۔ اپنی راستے میں چٹ کر لی۔ دل خوشی اور سکون کے احساس سے کبھی ایسا لبریز نہ ہوا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •