سوشل میڈیا پر پیغمبرِ اسلام سے متعلق گستاخانہ مواد کی اشاعت پر تین مجرمان کو سزائے موت دینے کا حکم

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق گستاخانہ مواد شائع کرنے پر تین مجرمان کو موت کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے 2018 میں درج کیے جانے والے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جن تین مجرمان کو موت کی سزا سنائی ہے ان میں ناصر احمد سلطانی ،عبدالوحید اور رانا نعمان شامل ہیں جبکہ پروفیسر انوار کو دس برس قید کی سزا دی گئی ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق مجرم ناصر احمد سلطانی کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے ہے اور اُنھوں نے پیغمبر ہونے کا دعوی بھی کیا تھا اس کے علاوہ دیگر دو مجرمان کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے اور اُنھوں نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’بلاگرز کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت کے ثبوت نہیں ملے‘

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے پر سزائے موت

سوشل میڈیا پر پابندی مسئلے کا حل نہیں: وزارت داخلہ

تیمور رضا کی جانب سے سزائے موت کے خلاف اپیل

مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق جس چوتھے مجرم کو دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے وہ اسلام آبادکے ایک کالج کے میں استاد تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق پروفیسر انوار کالج میں لیکچر کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین امیز الفاظ بھی کہتے رہے ہیں جن کے بارے میں شہادت ان کے طالب علموں نے بھی دی۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ان مجرمان کو مختلف اوقات میں مختلف مقامات سے گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تھی۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق جن مجرمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود تھے۔ اس مقدمے میں 40 سے زیادہ گواہان پیش کیے گیے جن میں استغاثہ کے وکلا کے علاوہ فارنزک لیبارٹری اور ایف آئی اے کے اہلکار بھی شامل تھے۔

عدالت نے اس مقدمے میں مفرور چار ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل حافظ مظہر جاوید کے مطابق اس مقدمے میں آٹھ ملزمان تھے جن میں سے چار بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو مجرمان کو سکیورٹی کے سخت حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ فیصلے سننے کے بعد مجرمان کو واپس اڈیالہ جیل بھیجنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

توہینِ مذہب کے خلاف مظاہرہ

Getty Images
پاکستان میں توہینِ مذہب انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے مبینہ طور پر مرتکب افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے عام ہیں

واضح رہے کہ سنہ 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز مواد شائع کیا جارہا ہے لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایف آئی اے کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق تمام شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے تفتیش کی گئی اور تفتیش میں متعدد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں کچھ بلاگرز بھی شامل تھے تاہم ان کااس مقدمے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا تھا اور ان کے بارے میں رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروادی گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17418 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp