کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی پانچ حیرت انگیز اور وائرل ہونے والی تصاویر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

A supporter of President Donald Trump carries a Confederate flag on the second floor of the US Capitol near the entrance to the Senate after breaching security defences, in Washington DC. 6 January 2021.
Mike Theiler / Reuters
صدر ٹرمپ کے پرتشدد حامیوں نے تمام رکاوٹیں عبور کر کے امریکی حکومت کے مرکز کیپیٹل ہل کے اندر داخل ہوئے۔ اس وقت کیپیٹل ہل میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کی تصدیق کے لیے جو کارروائی جاری تھی اس کی کوریج کے لیے وہاں نیوز فوٹو گرافر بھی موجود تھے جنھوں نے مظاہرین کی عمارت کے اندار ہنگامہ آرائی کے مناظر کو دنیا کے سامنے فوری طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

آخری بار واشنگٹن میس اس عمارت پر برطانوی فوجیوں نے 1814 میں دھاوا بولا تھا۔

مگر اب 2021 میں صدر ٹرمپ کا ایک حامی ہاتھ میں کنفڈریشن کا جھنڈا اٹھائے سینیٹ کے چیمبر کے قریب راہداریوں سے گزر رہا ہے اور اسے کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔

کنفڈریسی امریکہ کی ان جنوبی ریاستوں کا گروپ تھا جس نے امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران کوشش کی تھی کہ غلامی ختم نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکہ میں کیپیٹل ہل پر پہلی مرتبہ حملہ ہوا ہے؟

’انھوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، پھر میں نے گولی چلنے کی آواز سُنی‘

’صدر ٹرمپ کو فوراً عہدے سے ہٹایا جائے ورنہ ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے‘

سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد ملک میں اس جھنڈے پر پابندی عائد کرنے کے مطالبات نے زور پکڑا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر اس جھنڈے کا دفاع کیا کہ یہ آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے۔

ٹرمپ کا ایک حامی ان کے نام کی ٹوپی پہنے ان سرخ رسیوں کے درمیان سے گزر رہا ہے جو وہاں طے شدہ دورے پر آنے والے سیاحوں کی قطاروں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

اس شخص نے ہاتھ میں پوڈیم اٹھا رکھا ہے جس پر ایوان کے سپیکر کی مہر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ وہ اس پینٹگ کے سامنے تصویر بنوا رہا ہے جس میں جنگ آزادی کے دوران جنرل برگوئن کے سرینڈر کی عکاسی کی گئی ہے۔

A pro-Trump mob confronts US Capitol police outside the Senate chamber on 6 January 2021 in Washington, DC.

Win McNamee / Getty Images

صدر ٹرمپ کا ایک اور سرگرم حامی جو اپنا نام جیک اینجیلی بتاتا ہے۔ اس نے صدر ٹرمپ کی متعدد ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور کیپیٹل ہل کے اندر چلاتا ہوا سینیٹ چیمبر کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس کا حلیہ اسے دیگر مظاہرین سے جدا کرتا تھا جو کالے رنگ کی ہُڈیز پہنے ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ کے حامی سیلفیاں لیتے نظر آئے لیکن واضح تھا کہ وہ وہاں اس لیے آیا تھا کہ دوسرے اس کی تصاویر لیں۔

عموماً تو واشنگٹن ڈی سی میں مظاہروں کی صورت میں مسلح سکیورٹی فورسز بھاری تعداد میں سرکاری عمارتوں کی حفاطت پر مامور ہوتی ہیں لیکن یہاں بظاہر سکیورٹی کم تھی۔

ٹرمپ کے ایک حامی رچرڈ بارنیٹ ایک ایسی میز پر بوٹ رکھے بیٹھے ہیں جو کانگریس میں طاقت کا مرکز ہے۔ ہاؤس کی سپیکر نینسی پلوسی کا دفتر ہے۔

اس منظر میں جو کہ کچھ روز پہلے تک ناقابل تصور تھا، بارنیٹ اپنی بیس بال کیپ اور چیک والی قمیض پہنے ایک ایسے قصہ گو کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو اپنے دوستوں کو اپنی لوٹ کے قصے سنا رہا ہو۔

یہ تصویر اور بارنیٹ اور دیگر مظاہرین کی جانب سے ننیسی پلوسی کی میز پر چھوڑے گئے پیغامات وائرل ہو رہے ہیں۔

Capitol police officers point their guns at a door that was vandalized in the House Chamber during a joint session of Congress on 6 January 2021 in Washington, DC.

Drew Angerer / Getty Images

اس ڈرامائی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کیسے ایوان کی معمول کی کارروائی تشدد کے نتیجے میں تعطل کا شکار ہوئی۔ کیپیٹل پولیس اپنی بندوقیں ایوان کے دروازوں پر تانے ہوئے ہے جبکہ پرتشدد مظاہرین اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جس طرح دروازوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اسلحہ نکالنے کی ضرورت پیش آگئی، اس پر کئی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ کیا وہ بغاوت ہوتی دیکھ رہے تھے۔

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹی وی پر ایک جذباتی خطاب کیا جس میں انھوں نے اسے ’جمہوریت پر ایک حملہ‘ قرار دیا۔ ان کے کہنے کا جو مطلب تھا یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے۔

تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17357 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp