انڈیا: تین لاکھ روپے کے عوض برہمن پجاری سے شادی کرنے والے منصوبے پر اعتراضات کیوں؟

عمران قریشی - بنگلورو، بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

शादी, विवाह
EPA
انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں کرناٹک برہمن ترقیاتی بورڈ نے پجاری سے شادی کرنے پر ایک غریب برہمن خاتون کو تین لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر بہت سے لوگوں نے سوال اٹھائے ہیں۔

پجاری برہمنوں کے لیے شروع کی گئی یہ سکیم صرف کرناٹک تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ آندھرا پردیش اور کیرالہ کی ریاستوں میں بھی چلائی جا رہی ہے۔

کرناٹک بورڈ کے چیئرمین ایچ ایس سچیدانند مورتی نے بی بی سی ہندی کو بتایا؛ ’معاشی استحکام کی کمی کی وجہ سے پجاریوں کو دلھنیں نہیں مل رہی ہیں۔ شہروں میں تو وہ پھر بھی گزارہ کر لیتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں ان کی حالت اچھی نہیں۔ تین لاکھ کی یہ رقم ان کے لیے بڑی ہے۔‘

کیرالہ ہائی کورٹ کے وکیل شمبھو نامپوتھیرے نے بی بی سی ہندی کو بتایا ’پجاریوں کو دلھن نہ ملنے کی وجہ نہ صرف ان کا معاشی عدم استحکام ہے بلکہ معاشرتی وجوہات بھی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہندو پجاریوں سے شادی پر تین لاکھ روپے کی امداد

’انڈیا میں جہیز کی وجہ لڑکیوں کی بدصورتی‘

پیسے لے کر معذور سے شادی کریں گے؟

पुजारी

Getty Images

یہ منصوبہ کیا ہے؟

پچھلے سال کرناٹک بورڈ نے خواتین پر مبنی دو سکیمیں شروع کیں۔ ایک اروندھتی اور دوسری میتری۔ اروندھتی سکیم کے تحت شادی کے وقت دلھن کو 25 ہزار روپے دینے کا انتظام ہے۔

اس کے لیے شرط یہ ہے کہ دلھن مالی طور پر کمزور طبقے کی ہو، برہمن ہو، کرناٹک کی ہو اور اس کی پہلی شادی ہو۔

مسٹر مورتی کا کہنا ہے ’اس سے انھیں کچھ زیورات خریدنے میں مدد ملے گی۔ ہم نے 500 ایسی خواتین کی نشاندہی کی ہے۔‘

میتری سکیم کے تحت شادی کے تین سال بعد جوڑے کو تین لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ شرط یہ ہے کہ دونوں کا تعلق معاشی طور پر کمزور کنبے اور کرناٹک سے ہونا چاہیے اور یہ ان کی پہلی شادی ہو۔

اگر ان تین سالوں کے دوران دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی تو پھر ان دونوں میں سے کون یہ رقم واپس کرے گا؟

مورتی کا کہنا ہے ’ہم انھیں شروع میں یہ رقم نہیں دیتے۔ بورڈ ایک مقررہ رقم ان کے نام پر بینک میں جمع کرواتا ہے۔ تین سال پورے ہونے پر ہم پوری رقم ان کے کھاتے میں منتقل کردیتے ہیں۔‘

مورتی کا کہنا ہے ’یہ سکیم خاص طور پر ان لوگوں کی مدد کرے گی جو دیہی علاقوں سے ہیں۔ ہم نے اب تک ایسے 25 افراد کا انتخاب کیا ہے۔‘

آندھرا پردیش برہمن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر سرینواس راؤ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’اسی طرح آندھرا پردیش میں بھی ایک سکیم ہے جس میں پجاریوں کے ساتھ شادی کرنے والی دلھن کو 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔‘

معاشی طور پر کمزور برہمن خاندانوں کے طلبا کے لیے یونیورسٹی، ڈپلوما اور پیشہ ورانہ کورسز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دونوں بورڈوں کی جانب سے کئی دیگر سکیمیں بھی ہیں۔

सांकेतिक तस्वीर

UNIVERAL IMAGES GROUP VIA GETTY

یہ دونوں ریاستیں اور ساتھ ہی تلنگانہ جنوبی انڈیا کی تین ریاستیں ہیں جن میں ذات پات پر مبنی کارپوریشنز یا بورڈز موجود ہیں اور جو مختلف سکیموں کے تحت کاروباری افراد کو چھوٹے کاروباروں پر سبسڈی دینے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔

تلنگانہ برہمن سمشیما پریشد کے وائس چیئرمین وی جے نرسمہا راؤ کا کہنا ہے کہ ’یہ بات اہم ہے کہ وزیر اعلیٰ (تلنگانہ کے) نے برہمن سمشیما پریشد کی تشکیل کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کے لیے پچھلے تین سالوں میں 100 کروڑ روپے مختص کیے۔ او بی سی یا دوسرے گروپس بالکل اسی طرح ان جیسے برہمنوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔‘

کرناٹک میں برہمن ترقیاتی بورڈ کے قیام کا خیال سب سے پہلے ایچ ڈی کمارسوامی کو آیا جب وہ 2018 میں جے ڈی ایس کانگریس کی مخلوط حکومت کی سربراہی کر رہے تھے۔ بی جے پی کے بی ایس یدیورپا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد، اس (کارپوریشن) کو پچھلے سال زیادہ فنڈز ملے تھے۔

Marriage

Getty Images

اس منصوبے پر اعتراضات کیوں کیے جا رہے ہیں؟

کسی کو بھی برہمن پجاریوں کی معاشی حیثیت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

شمبو نامپوتھیرے کہتے ہیں ’کسی پجاری کو زیادہ آزادی نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں نہ تو اپنی بیوی کے ساتھ بازار جانے کا وقت ملتا ہے نہ ہی سینیما۔ وہ یا تو مندر سے منسلک ہیں یا پجاری کے فرض سے۔ ایسی حالت میں کون برہمن پجاری سے شادی کرنا چاہے گا؟‘

انسٹی ٹیوٹ آف فنانس اینڈ ٹیکسیشن کے سابق ڈائریکٹر، ڈاکٹر ڈی ڈی نارائن کا کہنا ہے ’پادری کی تربیت کے دوران یہ بات ذہن میں بیٹھائی جاتی ہے کہ ایک بار جب وہ پجاری بن جاتا ہے تو وہ کچھ اور نہیں کرسکتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پجاریوں کا ڈیٹا بیس ہونا ضروری ہے اور پھر بورڈ کے ذریعے سکیم سے اس طبقے کو مدد فراہم کرنا آسان بنایا جاسکتا ہے۔

کرناٹک سٹیٹ ارچک ایسوسی ایشن کے صدر ڈی ایس سریکانت مورتی کا کہنا ہے کہ ’ریاست کے کسی بھی شہری علاقے کی کوئی لڑکی اس وقت تک پجاریوں سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہے جب تک کہ وہ (پجاری) بنگلورو میں نہیں رہتے۔‘

शादी की प्रतीकात्मक तस्वीर

EPA

تاہم سریکانت مورتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بورڈ سے جو رقم دی جارہی ہے وہ ان کے حالات میں تبدیلی لانے کے لیے بہت کم ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار سوشل اینڈ اکنامک چینج (آئی ایس ای سی) کے سابقہ ​​ڈائریکٹر پروفیسر آر ایس دیش پانڈے کا کہنا ہے کہ ’جنوبی ریاستوں کے اہم اور بڑے مندروں کے چند پجاریوں کے علاوہ باقی زیادہ تر غریب ہیں۔ یہ اچھا ہے اگر کوئی ان کی مدد کرسکتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں جہیز، زمین، جائیداد یا رقم کے ذریعے کسی بھی شادی کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔ شادی لڑکا اور لڑکی کے مابین معاہدہ ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17382 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp