بوسنیا کی سرحد پر پھنسے ہزاروں تارکین وطن کو فوری مدد کی ضرورت ہے: اقوام متحدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Migrants getting food, 5 Jan 21
Reuters
بوسنیا کی سرحد پر پھنسے ہوئے تارکین وطن کی اکثریت کا تعلق پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے ہے
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی کے اس موسم میں بوسنیا ہرزگووینا کی سرحد پر پھنسے ہزاروں تارکین وطن کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ بوسنیا کے شمالی قصبے بےہاک میں 2500 افراد یا تو کھلے آسمان کے نیچے یا ایسے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جن میں گرم کرنے کا نظام موجود نہیں ہے۔

مقامی حکام ان مہاجرین کو یورپی یونین کی امداد سے بننے والے ریسیپشن سنٹر تک نہیں جانے دے رہے اور انھیں مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اس عارضی میں واپس جائیں جسے کورونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بوسنیا کی سرحد پر سروسامانی کا شکار تارکین وطن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے ہے۔

وہاں ایک تارک وطن نے بی بی سی کو بتایا: " یہاں بہت سردی ہے، بارش بھی ہو رہی ہے، موسم بہت ٹھنڈا ہے، ہم یہاں سو بھی سکتے۔

ایک ماہ قبل ان کی عارضی رہائشگاہیں آتشزدگی کی نذر ہو گئی تھیں۔ بوسنیا کی پولیس نے پناہ گزینوں پر ہی شبہ ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے بطور احتجاج یہ آگ لگائی۔

اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے ایک اہلکار پیٹر وان ڈر اوورٹ نے ٹوئٹر پر ایسے فوٹو شیئر کیے ہیں جس میں بوسنیا کی فوج کو لیپا کے کیمپ میں ٹینٹ لگاتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

Bosnian soldiers erecting tents, 1 Jan 21

EPA
بوسنیا کی فوج لیپا میں تارکین وطن کے عارضی خیمے نصب کر رہی ہے

آئی او ایم کے اہلکار نے اپنے ایک حالیہ پیغام میں کہا گیا کہ لیپا میں برف کا فرش بچھ چکا ہے، اور ان مہاجرین کی گرم خیموں میں منتقلی جاری ہے اور یہ بہت اہم قدم ہے۔

جب کورونا کی وبا پھیلنا شروع ہوئی اور ملکوں نے اپنے سرحدوں کو بند کرنا شروع کیا تو اس وقت لیپا میں عارضی کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

امدادی اداروں نے دسمبر میں یہ کہہ کر اپنی کاروائیاں ختم کر دی تھیں کہ بجلی اور پانی کے بغیر اس کیمپ کو چلانا ممکن نہیں ہے۔

جب مقام حکام نے مہاجرین کو جب 900 تارکین وطن کو بہاک کے ریسیپشن مرکز تک نہیں جانے دیا تو انھیں مجبوراً واپس اسی کیمپ میں جانا پڑا تھا جسے آتشزدگی کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔

اس کے علاوہ پندرہ سو تارکین وطن اسی قصبے کے قریبی انتہائی سردی اور نامساعد حالات میں موجود ہیں۔

بوسنیا ہرزگوینا کے سرحد پر پھنسے ہوئے تارکین وطن کی اکثریت کا تعلق افغانستان، پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں سے ہیں۔ ان کیمپوں میں مشرق وسطی کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔

بوسنیا کی سرحد پر پھنسے ہوئے لوگ یورپی یونین کے ممبر ملک کروشیا کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں وہاں پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے آئی او ایم کے بوسنیا ہرزگوینیا میں نمائندے وین ڈر اوورٹ نے بی بی سی کے بلقان نمائندے گائے ڈی لونی کو لیپا میں بتایا: ‘ہم ان لوگوں کو مناسب ریسپیشن مراکز میں دیکھنا چاہتے ہیں جہاں انھیں بوسینا میں 6000 دوسرے لوگوں کی طرح سہولیات میسر ہوں۔"

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ بوسنیا میں 8500 غیر یورپی تارکین وطن موجود ہیں جو شمالی یورپ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

وہاں ایک تارک وطن نے بی بی سی کو بتایا: " یہاں بہت سردی ہے، بارش بھی ہو رہی ہے، موسم بہت ٹھنڈا ہے، ہم یہاں سو بھی سکتے۔ "

.

.

.

‘Inhumane’ conditions put Bosnia migrants at risk

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp