کراؤڈ کی جانب سے نسل پرستانہ جملوں کی شکایت، آسٹریلوی بورڈ کی بھارتی کرکٹرز سے معذرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ ‘کرکٹ آسٹریلیا’ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں بھارت کے ساتھ کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ کے دوران کچھ تماشائیوں کی طرف سے بھارتی کھلاڑیوں پر نسلی امتیاز سے متعلق آوازیں کسنے پر معذرت کی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کپتان اجنکیا رہانے نے ہفتے کو تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں جسپریت بومرا اور محمد سراج پر نسلی امتیاز سے متعلق آوازیں کسے جانے سے متعلق امپائرز کو مطلع کیا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی طرف سے جاری کردہ بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقع میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔

کرکٹ آسٹریلیا میں سالمیت اور سیکیورٹی کے سربراہ سین کیرل کا کہنا ہے کہ کرکٹ سیریز کے میزبان ہونے کے ناطے وہ بھارتی کھلاڑیوں سے معذرت خواہ ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نسل پرستانہ جملے کسنے والوں کے خلاف ہراساں کیے جانے سے متعلق قوانین کا اطلاق کریں گے اور بھاری جرمانے کے علاوہ پولیس کے حوالے بھی کریں گے۔

سڈنی کرکٹ اسٹیڈیم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مدد کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کی نشان دہی کی جا سکے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی امتیازی سلوک سے متعلق پالیسی کے مطابق یہ کرکٹ آسٹریلیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے اور دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائے۔

علاوہ ازیں محمد سراج کی طرف سے اتوار کو شکایت کیے جانے پر میچ کو روکا گیا اور پولیس نے چھ افراد کو گراؤنڈ سے باہر نکال دیا۔ خیال رہے کہ 2019 میں برطانوی ٹیم کے نیوزی لینڈ دورے کے دوران برطانوی بالر جوفرا آرچر پر نسل پرستانہ جملے کسنے کا الزام ثابت ہونے پر ایک شخص پر دو سالوں کے لیے گراؤنڈز میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1286 posts and counting.See all posts by voa