ایلون مسک: دنیا کے امیر ترین شخص کی کامیابی کے ’چھ‘ راز کون سے ہیں؟

جسٹن روالٹ - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Elon Musk
Reuters
آئیے ایلون مسک سے جانتے ہیں کہ کسی بھی کاروبار میں کامیابی کے راز کیا ہیں
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک، ایمازون کے بانی جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے سب سے امیر شخص بن گئے ہیں۔

الیکٹرک کار کمپنی کے حصص کی قیمت میں اضافے کے بعد ’ٹیسلا‘ اور ’سپیس ایکس‘ کے مالک کی دولت کی مجموعی مالیت 185ارب ڈالر کو عبور کر چکی ہے۔

تو ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ کچھ سال پہلے میں نے اس کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹہ اس پر بحث کی۔ اب جب انھوں نے ایک نیا سنگ میل حاصل کر لیا ہے تو ہم نے اس انٹرویو کو آپ کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئیے ایلون مسک سے جانتے ہیں کہ کسی بھی کاروبار میں کامیابی کے راز کیا ہیں۔

1. صرف اور صرف پیسے کمانے کے بارے میں مت سوچیں

یہ رول کاروبار کے بارے میں ایلون مسک کے رویے کے مرکزی خیال کا عکاس ہے۔

جب میں نے 2014 میں ان سے انٹرویو لیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے امیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جب ایپل کے سربراہ نے ایلون مسک سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

’ٹیسلا کی سستی ترین الیکڑک کار آئندہ تین سال میں تیار ہو گی‘

ایلون مسک کا فراڈ، ٹیسلا کے چیئرمین نہیں رہ سکیں گے

ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں ’مزید بہتری کی گنجائش‘

انھوں نے کہا ’ایسا نہیں ہے کہ کہیں نقدی کا ڈھیر پڑا ہو۔ یہ صرف اتنی سی بات ہے کہ میرے پاس ٹیسلا، سپیس ایکس اور سولر سٹی میں ووٹوں کی ایک خاص تعداد ہے اور مارکیٹ میں ان ووٹوں کی اہمیت ہے۔‘

Tesla Model X 90D full electric luxury crossover SUV car on display at Brussels Expo on January 9, 2020 in Brussels

Getty Images
برسلز میں ایک تجارتی شو میں نمائش کے لیے پیش کیا جانے والا ٹیسلا ماڈل X 90D

ایلون مسک دولت کمانے کے شوقین افراد کے خلاف نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں دولت کے پیچھے ضرور دوڑیے ’بشرطیہ کہ یہ اخلاقی اور اچھے انداز میں ہو‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ چیز (دولت) ان کی آگے بڑھنے میں حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔

یقینی طور پر ان کا یہ طرزِ عمل کام کر رہا ہے۔

ان کی الیکٹرک کاروں کی کمپنی، ٹیسلا نے خاص طور پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گذشتہ سال کے دوران اس کمپنی کے حصص میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی قیمت 700 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔

اور آپ صرف ایک کمپنی ٹیسلا کی مالیت کے ذریعے فورڈ، جنرل موٹرز، بی ایم ڈبلیو، ووکس ویگن اور فیاٹ کرسلر جیسی کمپنیاں خرید سکتے ہیں، اور اس کے باوجود آپ کے پاس فراری خریدنے کے لیے رقم بچ جائے گی۔

لیکن مسک، جو رواں سال 50 برس کے ہو گئے ہیں، کو توقع نہیں ہے کہ زندگی کے آخری وقت (یعنی بڑی عمر کو پہنچنا) تک وہ امیر رہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا بیشتر پیسہ مریخ پر اڈے کی تعمیر میں خرچ ہو گا، اور اگر اس منصوبے پر ان کی تمام جمع پونجی بھی لگ جائے تو انھیں حیرت نہیں ہو گی۔

درحقیقت بل گیٹس کی طرح وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی زندگی کا خاتمہ ایسے ہو کہ ان کے بینک میں کروڑوں روپے جمع ہیں تو وہ اسے اپنی ناکامی سمجھیں گے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انھوں نے اس رقم کو بہتر انداز میں استعمال نہیں کیا تھا۔

2. اپنے شوق کا پیچھا کریں

A sculpture of Iron Man, a fictional superhero from Marvel Comics, outside a shopping mall in Zhengzhou in central China's Henan province

Getty Images
بل گیٹس کی طرح مسک بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی زندگی کا خاتمہ ایسے ہو کہ ان کے بینک میں کروڑوں روپے جمع ہیں تو وہ اسے اپنی ناکامی سمجھیں گے

ایلون مسک کس چیز کو کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں، مریخ پر بننے والا اڈہ اس کی ایک بہترین مثال ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا ’آپ مستقبل بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو یہ نئی دلچسپ چیزیں کرنا ہوں گی جو زندگی کو بہتر بناتی ہیں۔‘

سپیس ایکس کی مثال لے لیں۔ ایلون مسک نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کمپنی اس لیے قائم کی کیونکہ وہ مایوس تھے کہ امریکہ کا خلائی پروگرام اتنا پرعزم نہیں تھا جتنا اسے ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا ’میں توقع کرتا رہا کہ ہم زمین سے آگے بڑھیں گے اور لوگوں کو مریخ تک پہنچاییں گے، اور چاند پر ایک اڈہ بنائیں گے اور مدار میں جانے کے لیے باقاعدہ پروازیں شروع کریں گے۔‘

جب ایسا نہیں ہو سکا تو وہ ’مارس اوسیس مشن (مریخ پر نخلستان)‘ کا آئیڈیا لے کر آئے جس کا مقصد اس سرخ سیارے پر ایک چھوٹا سا گرین ہاؤس بھیجنا تھا۔ خیال یہ تھا کہ لوگوں کو ایک بار پھر خلا کے بارے میں پُرجوش کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کو ناسا کا بجٹ بڑھانے پر راضی کیا جائے۔

جب وہ زمین سے دور جانے کا سوچ رہے تھے، اسی وقت انھیں احساس ہوا کہ مسئلہ ’خواہش کا فقدان نہیں بلکہ رہنمائی اور ذرائع کی کمی‘ ہے۔۔۔ خلائی ٹیکنالوجی سوچ سے بھی مہنگی ہے۔

اور لیجیے یہیں سے دنیا کے سب سے سستے راکٹ لانچنگ کاروبار کا آغاز ہوا۔

Launch site

Reuters
سپیس ایکس کا سٹارشپ راکٹ دسمبر میں ٹیکساس کے بوکا چیکا مقام پر ٹیسٹ لانچ کی تیاری کر رہا ہے

اور یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس کاروبار کا آغاز پیسہ کمانے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد کسی شخص کو مریخ پر بحفاظت اتارنا تھا۔

مسک نے مجھے بتایا کہ وہ خود کو ایک سرمایہ کار کی بجائے ایک انجینیئر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صبح جو چیز ان میں اٹھ کر کام کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے وہ تکنیکی مشکلات کو حل کرنے کی خواہش ہے۔

بینک میں ڈالر جمع کرنے کے بجائے، ترقی کو ناپنے کا، ان کا پیمانہ یہی ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کا کاروبار اگر کسی بھی رکاوٹ کو حل کر لیتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس سے ہر شخص کی مدد ہو گی جو وہی تکنیکی مشکل حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری ملاقات سے کچھ دیر قبل ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں برقی گاڑیاں بنانے کے کام کو تیز کرنے کے لیے ٹیسلا کے پیٹنٹ اوپن کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ برقی گاڑیاں بنانے کا اپنا طریقہ کار اور جو بھی وہ اس حوالے سے جانتے ہیں، وہ گاڑیاں بنانے والی دوسری کمپنیوں سے شئیر کرنے کو تیار ہیں۔

3. کچھ بڑا کرنے سے گھبرائیں نہیں

ایلون مسک کے کاروبار کے بارے میں حیرت انگیز چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خود کتنے نڈر ہیں۔

وہ کار کی صنعت میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، مریخ پر آبادی بسانا چاہتے ہیں، وہ ویکیوم ٹنلز میں تیز رفتار ٹرینیں چلانا چاہتے ہیں، آرٹیفشل انٹیلیجنس کو انسانی دماغ سے مربوط کرنا چاہتے ہیں اور شمسی توانائی اور بیٹری کی صنعتوں کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

ان کے تمام منصوبے ایسے مستقبل کے متعلق خیالی تصورات ہیں جو شاید آپ نے 80 کی دہائی کے اوائل میں بچوں کے میگزین میں دیکھے ہوں گے۔

ان کے سرنگوں کے کاروبار کو بورنگ کمپنی کہا جاتا ہے۔

وہ اس حقیقیت کو چھپانے سے انکار نہیں کرتے کہ جنوبی افریقہ میں گزارے گئے بچپن میں پڑھی جانے والی کتابوں اور فلموں نے ان پر خاصا اثر ڈالا۔

Tesla factory under construction in Shanghai. Spring 2019

Getty Images
2019: چین کے شہر شنگھائی میں ٹیسلا کی ایک نئی فیکٹری زیر تعمیر ہے

مسک کی تیسری کاروباری ٹپ یہی ہے کہ ’پیچھے نہ ہٹیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ بیشتر کمپنیوں کی ڈھانچے میں عزم کی کمی رچی بسی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہت ساری کمپنیاں ’انکریمنٹلسٹ‘ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کسی بڑی کمپنی کے سی ای او ہیں اور کچھ معمولی سی بہتری کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس میں توقع سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور اس سے کام بھی بہتر نہیں ہوتا تو کوئی آپ پر الزام نہیں لگائے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری نہیں، سپلائر کی غلطی تھی۔‘

’اگر آپ جرات مند انسان ہیں اور واقعی بہتری چاہتے ہیں لیکن آپ کا بنایا منصوبہ نہیں چل پاتا تو یقیناً آپ کو نوکری سے نکالا جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں مکمل طور پر نئے منصوبوں کا تصور کرنے کی ہمت کرنے کے بجائے اپنی موجودہ مصنوعات میں چھوٹی چھوٹی بہتری لانے پر توجہ دیتی ہیں۔

لہذا ان کا مشورہ یہ ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ واقعی اہم کام کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

مسک کے لیے اہم چیزوں کی فہرست میں دو چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔

پہلی، وہ فوسل فیول سے حاصل ہونے والی توانائی کی رفتار کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔

اس بارے میں ان کا یہ کہنا تھا کہ: ’ہم گہرائی میں گیس فیلڈز اور تیل کے ان کنوؤں کو کھود رہے ہیں جن پر کیمبرین عہد کے بعد سے آج تک توجہ نہیں دی گئی۔ آخری مرتبہ اس پر بہت پہلے کام ہوا تھا۔۔ لہذا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دانشمندانہ اقدام ہے؟‘

دوسرا وہ مریخ پر آبادی بسانے اور اس سے ایک سے زائد سیاروں پر زندگی ممکن بنا کر انسانیت کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے کہا، سوچ کو بڑا کریں۔

4. رسک لینے کے لیے تیار رہیں

یہ تو واضح ہے۔

کسی بھی کاروبار میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے آپ میں نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے لیکن ایلون مسک نے دوسروں سے زیادہ خطرات مول لیے ہیں۔

سنہ 2002 تک انھوں نے اپنی پہلی دو کاروباری کمپنیوں میں اپنے حصص فروخت کر دیے تھے اس میں زپ 2 نامی انٹرنیٹ سٹی گائیڈ اور آن لائن ادائیگیوں والی کمپنی پے پال شامل ہیں۔ اس وقت وہ تقریباً 30 سال کے تھے اور ان کے پاس بینک میں تقریباً 200 ملین ڈالر موجود تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی نصف دولت کو کاروبار میں ڈالیں اور باقی آدھا حصہ بچا کر رکھیں۔

لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا آپ نے سوچا ہو۔ جب میں ان سے ملا اس وقت وہ اپنی کاروباری زندگی کے تاریک ترین دور سے ابھر رہے تھے۔

ان کی نئی کمپنیوں کو ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپیس ایکس کے پہلے تین لانچ ناکام ہو چکے تھے اور ٹیسلا میں پروڈکشن، سپلائی چین اور ڈیزائن کے مسائل درپیش تھے۔

Charging the electric car in Copenhagen, Denmark

Getty Images
شہر کے مراکز میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چارجنگ پوائنٹس بن رہے ہیں

پھر مالی بحران آیا۔

مسک کہتے ہیں کہ انھیں انتخاب کرنا پڑا ’میں یا تو پیسہ محفوظ رکھ سکتا تھا لیکن اس صورت میں کمپنیاں یقیناً ختم ہونے والی تھیں، یا جو کچھ میرے پاس ہے اس سے سرمایہ کاری کروں اور اس صورت میں مجھے کوئی موقع ملنے کی امید تھی۔‘

وہ پیسے لگاتے گئے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک موقع پر وہ اس قدر مقروض ہو چکے تھے کہ انھیں دوستوں سے اپنے روزمرہ اخراجات ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔

تو کیا دیوالیہ پن کے امکان نے انھیں خوفزدہ کیا؟

ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوا: ’میرے بچوں کو شاید سرکاری سکول میں جانا پڑے۔ اور اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں خود ایک سرکاری سکول سے پڑھا ہوں۔‘

5. تنقید کرنے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں

جس چیز نے ایلون مسک کو حیران کیا، اور وہ اب بھی اس سے بہت پریشان ہیں، وہ یہ تھی کہ ان کے ناقدین اور تبصرہ نگاروں نے ان کی ناکامی پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

مسک کہتے ہیں ’یہاں متعدد بلاگ سائٹس موجود تھیں جو ٹیسلا کے ختم ہونے جانے پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔‘

میں نے انھیں کہا شاید لوگ اس لیے انھیں ناکام ہوتے دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے عزائم کے متعلق ایک قسم کا تکبر پایا جاتا ہے۔

انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔ وہ کہتے ہیں ’اگر ہم نے کہا ہوتا کہ ہم یقینی طور پر ایسا کرنے جا رہے ہیں تو یہ غرور ہوتا، لیکن ہم نے تو کہا تھا کہ ہم ایسا کرنے کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے اپنی پوری قوت لگائیں گے۔‘

Elon Musk

Getty Images
یاد رکھیں یہ وہ شخص ہے جو اپنی کامیابی کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتا ہے کہ اس نے کتنے اہم مسائل کو حل کیا ہے، نہ کہ اس نے کتنا پیسہ کمایا ہے

اس سے ہمیں کاروبار میں کامیابی کے متعلق مسک کے اگلے راز کا پتا چلتا ہے اور وہ ہے ’ناقدین کی باتوں پر کان نہ دھریں۔‘

انھوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ سپیس ایکس یا ٹیسلا قائم کر رہے تھے تو انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی اس سے پیسہ بھی کمائیں گے اور سچ یہ ہے کہ کسی اور نے بھی ایسا نہیں سوچا ہو گا۔

لیکن انھوں نے مایوس کرنے والوں کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے۔

کیوں؟ یاد رکھیں یہ وہ شخص ہے جو اپنی کامیابی کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتا ہے کہ اس نے کتنے اہم مسائل کو حل کیا ہے، نہ کہ اس نے کتنا پیسہ کمایا ہے۔

سوچیے کہ یہ کتنا آزاد شخص ہے۔ کوئی بڑا منصوبہ جس میں اس کی بہت ساری دولت لگی ہو اس کی ناکامی پر اسے اس چیز کی فکر نہیں ہے کہ وہ بیوقوف لگ رہا ہے اور اس کا کتنا پیسہ ضائع ہو گیا، بلکہ اس کے بجائے وہ اہم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بارے میں سوچتا ہے۔

اس سے فیصلہ سازی بہت آسان ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس بات پر توجہ مرکوز رکھ سکتا ہے کہ جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ یہ واقعی اہمیت کا حامل ہے۔

اور لگتا ہے کہ مارکیٹ کو ان کا کام پسند آ رہا ہے۔

اکتوبر میں امریکی سرمایہ کار بینکر مورگن سٹینلے نے سپیس ایکس کی قیمت 100 بلین ڈالر بتائی تھی۔

اس کمپنی نے خلائی پرواز کے حوالے سے معشیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن مسک کو سب سے زیادہ جس چیز پر فخر ہو گا وہ یہ ہے کہ ان کی کمپنی نے امریکی خلائی پروگرام کو کس طرح دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

پچھلے سال ان کے کریو ڈریگن راکٹ نے چھ خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر روانہ کیا۔ خلائی شٹلز کے سنہ 2011 میں ریٹائر کیے جانے کے بعد امریکی سرزمین سے جانے والا یہ پہلا مشن تھا۔

6. زنگی کا مزہ لیں

اس گائیڈ کی پیروی کریں اور تھوڑا سا قسمت ساتھ دے تو آپ حیرت انگیز طور پر امیر اور مشہور بھی ہو جائیں گے۔ تب آپ آہستہ آہستہ اپنے خول سے باہر آنا شروع کر سکتے ہیں۔

ایلون مسک کے بارے میں مشہور ہے کہ انھیں کام کرنے کا جنون ہے۔ وہ ٹیسلا ماڈل 3 کی تیاری کو ٹریک پر رکھنے کے لیے ہفتے میں 120 گھنٹوں تک کام کرنے پر فخر کرتے ہیں، لیکن ہماری ملاقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وہ ہتک عزت کے مقدمے، ٹی وی پر منشیات کے استعمال اور غصیلے جوابات کے باعث خاصے تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔

2018 میں وہ امریکی مالیاتی ریگولیٹر کے ساتھ اس وقت ایک تنازع میں پڑ گئے جب انھوں نے ٹویٹ کیا کہ وہ ٹیسلا کی نجکاری کا ارادہ رکھتے ہیں اور جب کووڈ 19 وبائی مرض کے دوران ٹیسلا کو اس کی سان فرانسسکو بے ایریا فیکٹری بند کرنے پر مجبور کیا گیا تو وہ وائرس پر قابو پانے والی پابندیوں کے سخت مخالف بن کر سامنے آئے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر وائرس سے گھبراہٹ کو ’بیوقوفی‘ قرار دیا اور گھر میں رہنے کے احکامات کو ’زبردستی قید‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’فاشسٹ‘ اور آئینی حقوق کی پامالی ہیں۔

موسم گرما میں انھوں نے یہ کہتے ہوئے اپنے ذاتی سامان کو فروخت کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا کہ اس سے ’آپ کے مورال میں کمی آتی ہے۔‘

کچھ دن بعد وہ دنیا کو یہ بتانے کے لیے ٹوئٹر پر گئے کہ انھوں نے اپنے نومولود بیٹے کا نام X-A-12 مسک رکھا ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے غیر متوقع طرز عمل نے ان کے کاروبار کو متاثر نہیں کیا اور وہ پہلے کی طرح ہی پُرعزم کاروباری شخصیت ہیں۔

ستمبر میں مسک نے دعویٰ کیا کہ تین سال کے اندر ٹیسلا خود کار (آٹو میٹک کار) بنا لے گا جس کی قیمت 25 ہزار ڈالر ہو گی، اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی کمپنی کی تمام نئی کاریں مکمل طور پر خود کار یا آٹو میٹک ہوں گی۔

اور گذشتہ سال دسمبر میں ان کے سال کا اختتام حقیقتاً ایک دھماکے سے ہوا، جب سپیس ایکس نے اپنی سٹارشپ لانچ گاڑی کا تجربہ کیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ سب سے پہلے انسانوں کو مریخ پر لے جائے گی۔

یہ راکٹ لفٹ آف کے چھ منٹ بعد پھٹ گیا۔

ایلون مسک نے اس ٹیسٹ کو ایک ’زبردست‘ کامیابی قرار دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17267 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp