مانع حمل ادویات: ’جب پتا چلا مانع حمل گولیوں سے جسم میں خون کا لوتھڑا بن گیا تو میں سکتے میں آ گئی‘

سینڈرین لنگومبو - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

A photo of Vanessa Centeno

VANESSSA CENTENO
وینیسا کینٹینو: ’ہمیں لگتا ہے کہ یہ میرے ساتھ تو نہیں ہو گا، لیکن پھر ہو گیا‘

جب وینیسا کینٹینو کو معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں موجود ایک خون کا لوتھڑا (بلڈ کلاٹ) ان کے پھیپڑوں کو متاثر کر رہا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، تو وہ اُن کے لیے انتہائی کٹھن لمحات تھے۔

اور جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ یہ خون کا لوتھڑا بننے کی ممکنہ وجہ کیا ہے تو وہ بالکل سکتے میں آ گئیں۔

امریکی شہر بوسٹن کی رہائشی وینیسا دنیا بھر کی کروڑوں خواتین کی طرح مانع حمل گولیاں استعمال کرتی تھیں۔

لیکن 2019 میں وینیسا کو معلوم ہوا کہ وہ مانع حمل گولیوں کے استعمال کی وجہ سے ہونے والے ایک انتہائی نادر مگر خطرناک منفی ردعمل سے متاثر ہو چکی ہیں۔ جسم میں ان گولیوں کے استعمال سے ہونے والے شاذ و نادر منفی ردعمل کے نتیجے میں جسم میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں۔

وینیسا نے کہا کہ جب انھیں یہ معلوم ہوا تو اُن کی زندگی ہی تبدیل ہو گئی۔

 

A photo of conceptive pills on a pink background

Getty Images
یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مانع حمل کا سب سے مقبول ذریعہ گولیاں ہیں

مجھے لگا کہ مجھے دل کا دورہ پڑ رہا ہے

وینیسا بتاتی ہیں کہ ’میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جا رہی تھی جب مجھے سہارا لینا پڑا کیونکہ سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ مجھے ایسا پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا اور میں گہری سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

سانس لینے میں دشواری کے باوجود وینیسا اپنے آفس گئیں لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جلد چھٹی لے کر قریبی کلینک جائیں گی۔

’انھوں نے مجھے نیبیولائزر دیا جس کا مقصد ہوتا ہے کہ اس کی مدد سے آپ کی سانس لینے کی صلاحیت بہتر ہو۔ اس کے بعد انھوں نے میرے جسم کی سکیننگ کی اور مجھے بتایا کہ میرے پھیپڑوں کے پاس انھیں ایک سایہ سا نظر آیا ہے اور ممکنہ طور پر یہ نمونیہ ہو سکتا ہے۔‘

لیکن اگلے دن انھیں کلینک والوں نے آگاہ کیا کہ وہ سایہ دراصل نمونیہ نہیں ہے اور درست تشخیص کے لیے انھیں مزید ٹیسٹ کروانے ہوں گے۔

مگر اگلے ایک ماہ تک وینیسا کو کسی ڈاکٹر سے وقت نہیں مل سکا اور اس دوران انھیں سانس لینے میں دشواری مزید بڑھتی گئی جس کے بعد ان کے کلینک نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ دمہ کے مریضوں کو دیے جانے والا پمپ استعمال کریں۔

’اور پھر وہ ہو گیا۔ میں اپنے کپڑے دھونے کے لیے سیڑھیوں سے اوپر نیچے جایا کرتی تھی اور اس دوران مجھے سانس لینے میں بہت دشواری ہوئی، تو میں نے اپنے لباس کی زپ تھوڑی کھولی۔ مگر پھر میں زمین پر گر گئی کیونکہ مجھ سے بالکل بھی سانس نہیں لیا جا رہا تھا۔ میرا پورا جسم درد کر رہا تھا۔ میرا پیٹ، میرا سینہ، میرے بازو سب بہت تکلیف میں تھے۔ مجھے تو لگا کہ جیسے مجھے دل کا دورہ پڑ رہا ہے۔‘

وینیسا ہسپتال تو نہیں گئیں لیکن انھوں نے اپنے ڈاکٹر کے دفتر فون کیا جہاں ان کی نرس نے فوراً ان کو آنے کے لیے کہا۔

’میں جب اگلے دن ہسپتال گئی اور اپنے ساتھ ہونے والی تمام علامات بتائیں تو انھوں نے میرا معائنہ کیا اور سی ٹی سکین کرانے کو کہا۔ تو پھر میں دوسرے ہسپتال گئی جہاں میرے جسم میں مشینوں کے تار لگائے گئے اور ڈرپ لگائی گئی اور یہ سب بہت تیزی سے ہوا اور مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا۔

’پتہ یہ چلا کہ میرے سینے میں خون کا ایک بڑا سے لوتھڑا بن گیا تھا اور وہ اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اس کی وجہ سے میرے پھیپڑے متاثر ہو رہے تھے۔‘

وینیسا نے اگلے دو دن ہسپتال میں گزارے لیکن وہاں سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ دو ہفتے تک بستر تک ہی محدود رہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے ان کو بتایا کہ اس خون کے لوتھڑے بننے کی انھیں صرف ایک وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ ہے مانع حمل کی نئی گولی کا استعمال کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق صرف وہی ایک نئی چیز تھی جو انھوں نے اپنے جسم میں داخل کی تھی۔

’مجھے بتایا گیا کہ اگر میں ایک دن اور انتظار کرتی اور ہسپتال نہ جاتی تو میں آج زندہ نہ ہوتی، کیونکہ میرے جسمانی حالات اس قدر سنگین تھے۔‘

A photo of different forms of contraception on a pink background.

Getty Images

مانع حمل گولیوں کا استعمال کرنے والی خواتین کے جسم میں خون کے لوتھڑے بننا کتنا عام ہے؟

ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

برطانیہ کے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے مطابق مانع حمل گولیوں کا استعمال کرنے والی ہر دس ہزار خواتین میں سے صرف پانچ سے 12 خواتین کو خون کو لوتھڑے بننے کی شکایات ہوتی ہیں، اور عموماً ان خواتین کو جنھوں نے کم از کم ایک سال تک یہ گولیاں استعمال کی ہوں۔

اس کا موازنہ اگر مانع حمل گولیاں استعمال نہ کرنے والی خواتین سے کیا جائے تو اوسطاً ہر دس ہزار میں سے دو خواتین میں خون کے لوتھڑے بنتے ہیں۔

این ایچ ایس کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو کسی قسم کا کوئی خدشہ ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

عالمی طور پر دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ خواتین مانع حمل کی گولیاں استعمال کرتی ہیں اور یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں امتناع حمل کا سب سے مقبول ذریعہ بھی یہی ہے۔

لاطینی اور شمالی امریکہ کے علاوہ افریقہ میں یہ دوسرا سب سے مقبول طریقہ اور ایشیا میں تیسرا سب سے مقبول طریقہ ہے۔

حمل روکنے کے دیگر طریقوں کی طرح گولیوں کے استعمال سے بھی کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں جیسے موڈ کا تیزی سے بدلنا، وزن کا گھٹنا یا بڑھنا اور یہ معمول کی بات ہے۔

لیکن کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں استعمال کرنے والوں کے جسم میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور وہ جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔

خواتین میں خون کے لوتھڑے بننے میں مختلف عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے جیسے عمر، خاندان میں لوتھڑے بننے کی تاریخ، وزن، سگریٹ نوشی وغیرہ۔

لندن کے گائیز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال سے منسلک پروفیسر بیورلی ہنٹ کہتے ہیں کہ ’منھ کے ذریعے مانع حمل کی ادویات لینے سے (یعنی گولیاں کھانے سے) لوتھڑے بننے کا امکان چار سے آٹھ گنا بڑھا جاتا ہے۔‘

A photo of a woman lying on a sofa

Getty Images

ہر کسی میں خون کے لوتھڑے نہیں بنتے

مانع حمل گولیوں میں انسانی جسم میں پیدا ہونے والے دو ہارمونز کے مصنوعی ورژن ہوتے ہیں۔

ان گولیوں کی استعمال سے متلی آنے کی کیفیت اور متلی ہوتی ہے، وزن بڑھتا ہے اور چہرے پر دانے نکل آتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا کے سٹیو بیکو اکاڈیمک ہسپتال سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر زو زو نینی کہتی ہیں کہ ان گولیوں کے استعمال سے کچھ خواتین میں جنسی طلب میں کمی بھی ہو جاتی ہے، سر درد ہوتا ہے، چھاتی بہت حساس ہو جاتی ہے اور موڈ تیزی سے بدل جاتا ہے۔

’یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ منفی اثر کیوں ہو رہا ہے۔‘

انسانی جسم میں خون کے لوتھڑے بن جانے کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں اور اگر مانع حمل گولیاں استعمال کی جائیں تو یہ امکان اور بھی بڑھ جاتا ہے، لیکن ہر مانع حمل گولیوں کو استعمال کرنے والوں میں لوتھڑے نہیں بنتے۔

ڈاکٹر نینی کہتی ہیں کہ ’یہ جاننا ضروری ہے کہ کن افراد میں خون کے لوتھڑے بننے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن ان کے تجربے میں ان خواتین کو اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جن کا باڈی ماس انڈیکس بڑھا ہوا ہوتا ہے۔‘

مجھے پی ٹی ایس ڈی ہو گیا ہے

ان واقعات کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد وینیسا اب بھی معمول کی زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

’مجھے اس واقعے کے بعد جو پی ٹی ایس ڈی (پوسٹ ٹراما سٹریس ڈس آرڈر) ہو گیا ہے وہ میں بتا بھی نہیں سکتی۔ اب تو میرے لیے لانڈری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مجھے بار بار خود کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ میں اب ٹھیک ہو گئی ہوں۔ مجھے نہیں سمجھ آیا کہ یہ کیسے ہوا کیونکہ میں تو جب کالج میں تھی اس وقت سے مانع حمل کی گولیاں لے رہی ہوں۔‘

خواتین مانع حمل کی گولیاں کیوں لیتی ہیں، اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں لیکن عموماً اس مالی صورتحال کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

وینیسا بوسٹن میں کنٹریکٹ ورکر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم ایک پدرانہ سماج میں رہتے ہیں جہاں مانع حمل کی بھی تمام ذمہ داری خواتین پر ہی آتی ہے۔

’ہم میں اس بات کی بھی حساسیت ختم ہو گئی ہے کہ مانع حمل کے اشتہارات پر غور نہیں کرتے جن میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کے استعمال کے منفی اثرات کیا کیا ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ مجھے نہیں ہو گا، لیکن مجھے ہو گیا اور اس نے میری زندگی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’جب ہمیں ماہواری ہوتی ہے تو ہم ہر وقت تکلیف میں ہوتے ہیں، اسی تکلیف سے گزرتے ہوئے کام کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم اس پر شکایت کریں تو لوگ اسے بُرا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تک عادی ہو جانا چاہیے۔‘

ہمیں اس مقام پر پہنچنا ہو گا جہاں ایسی ادویات جو خواتین لیں، وہ ہمارے لیے بہتر ہوں۔ ان حالات کو تبدیل ہونا ہو گا اور ہمارے لیے بہتر ہونا ہو گا۔ یہ ضروری ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp