آئی سی سی کی فہرست: کپتانی جن کے لیے خوش بختی بن گئی، لیکن کیا عمران درست فہرست میں ہیں؟

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے منگل کے روز ’پیس سیٹر‘ کے عنوان سے ٹویٹ کی ہے۔ اس ٹویٹ میں بین الاقوامی کرکٹ کے نگراں ادارے نے تین مرد اور ایک خاتون کرکٹر کو شامل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ کرکٹر ہیں جن کی بیٹنگ یا بولنگ اوسط، کپتان بننے کے بعد بہتر ہوئی ہے۔

آئی سی سی نے جن چار کرکٹرز کے نام دیے ہیں ان میں انڈیا کے وراٹ کوہلی، جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز، آسٹریلوی خاتون کرکٹر میگ لیننگ اور پاکستان کے سابق کپتان عمران خان شامل ہیں۔

آئی سی سی نے پولنگ میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ ان چاروں میں سے کس نے کپتان بننے کے بعد بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

https://twitter.com/ICC/status/1348875541005299714?s=20

آئی سی سی نے اپنی ٹویٹ میں ان چاروں کرکٹرز کے جو اعداد و شمار دیے ہیں ان کے مطابق وراٹ کوہلی کی بیٹنگ اوسط عام کھلاڑی کی حیثیت سے 51.29 فیصد تھی جو کپتان بننے کے بعد 73.88 فیصد ہو گئی ہے۔

اے بی ڈی ویلیئرز جو ہر زاویے سے شاٹس کھیلنے کی وجہ سے مسٹر 360 کہلاتے ہیں ان کی کپتان بننے سے پہلے ون ڈے کی بیٹنگ اوسط 45.97 فیصد تھی، کپتان بننے کے بعد وہ 63.94 فیصد ہو گئی تھی۔

میگ لیننگ کی ون ڈے کی بیٹنگ اوسط کپتان بننے سے قبل 43.87 فیصد تھی، جس میں کپتان بننے کے بعد بہتری آئی اور وہ 60.93 ہو گئی۔

پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کی ٹیسٹ میں بیٹنگ اور بولنگ اوسط میں نمایاں بہتری ان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتی ہے۔

عمران خان کپتان بننے سے قبل ٹیسٹ میں بیٹنگ میں 25.43 کی اوسط رکھتے تھے جبکہ بولنگ میں ان کی اوسط 25.53 تھی۔ لیکن کپتان بننے کے بعد بیٹنگ اوسط بہتر ہوکر 52.34 ہوگئی جبکہ بولنگ اوسط میں بھی زبردست بہتری آئی اور وہ 20.26 فیصد ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

کامیابی کوہلی کی، کریڈٹ انوشکا کو

’پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دن‘

اے بی ڈی ویلیئرز ریٹائر: ’میں اب تھک گیا ہوں‘

اگر اعداد و شمار سے ہٹ کر بھی اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کپتان بننے کے بعد عمران خان کی کارکردگی پاکستانی ٹیم پر کس قدر اثر انداز ہوئی تواس کا اندازہ ان کی کپتانی میں جیتی گئی ٹیسٹ سیریز اور اس میں ان کی اپنی انفرادی کارکردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

عمران خان نے کپتان کی حیثیت سے بھارت اور انگلینڈ میں دو بڑی ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں اور دونوں میں ان کی اپنی کارکردگی بہت عمدہ رہی تھی۔

عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی جیت 1992 کا عالمی کپ ہے۔

وہ کھلاڑی جو کپتان بننے کے بعد زیادہ کامیاب رہے

اگر ہم کرکٹ کے ریکارڈز پر نظر ڈالیں تو ایسے متعدد کرکٹر دکھائی دیتے ہیں جنھیں جب کپتانی ملی تو ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی جو ان کے اعداد و شمار سے بھی عیاں ہے۔

سب سے زیادہ 119 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی اور سب سے زیادہ 53 ٹیسٹ میچ جیتے والے جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

گریم اسمتھ کو صرف آٹھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد کپتانی سونپ دی گئی تھی۔

ان آٹھ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے دو سنچریوں کی مدد سے 606 رنز بنائے تھے اور ان کی بیٹنگ اوسط 55.09 فیصد تھی۔

کپتان بننے کے بعد اگرچہ ان کی بیٹنگ اوسط 47.83 فیصد رہی لیکن انھوں نے ٹیسٹ میچوں میں 25 سنچریوں کی مدد سے8659 رنز بنا ڈالے۔

نیوزی لینڈ کے اسٹیفن فلیمنگ نے کپتان بننے سے پہلے 31 ٹیسٹ میچوں میں اڑتیس اعشاریہ سات چھ کی اوسط سے 2016 رنز بنائے تھے، کپتان بننے کے بعد انھوں نے 80 ٹیسٹ میچوں میں آٹھ سنچریوں کی مدد سے 5156 رنز اسکور کیے اور ان کی بیٹنگ اوسط چالیس اعشاریہ پانچ نو رہی۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ کے اعدادوشمار بھی متاثرکن ہیں جنھوں نے عام کھلاڑی کی حیثیت سے 36 ٹیسٹ میچوں میں اڑتیس اعشاریہ چھ سات کی اوسط سے 2282 رنز بنائے اور پھر بحیثیت کپتان 74 ٹیسٹ میچوں میں اکیاون اعشاریہ تین کی اوسط سے ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 5233 تھی۔

اور بھلا مہندر سنگھ دھونی کو کیسے بھول سکتے ہیں جنھوں نے عام کرکٹر کی حیثیت سے 30 ٹیسٹ میچوں میں تینتیس اعشاریہ صفر چھ کی اوسط سے 1422 رنز بنائے تھے لیکن کپتان کے طور پر 60 میچوں میں چالیس اعشاریہ چھ تین کی اوسط سے انھوں نے 3054 رنز اسکور کیے۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں مہندر سنگھ دھونی کی کارکردگی کپتان کے طور پر نمایاں رہی اور انھوں نے 200 میچوں میں ترپن اعشاریہ پانچ پانچ کی اوسط سے 6641 رنز بنائے جبکہ عام کرکٹر کی حیثیت سے ان کی 150 میچوں میں بیٹنگ اوسط چھیالیس اعشاریہ چار دو اور رنز کی تعداد 4132 ہے۔

صرف ایسا نہیں ہے کہ ہر بڑا کرکٹر کپتان بن کر انفرادی کارکردگی کے معاملے میں کامیاب رہا ہو۔

کئی بڑے نام جب کپتان بنے تو ان کی کارکردگی کو گہن لگ گیا اس کی سب سے بڑی مثال انگلینڈ کے شہرۂ آفاق آل راؤنڈر این بوتھم کی ہے، جن کے لیے کپتانی کے 20 ٹیسٹ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین نے آئی سی سی کی اس رینکنگ پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ڈیٹا سائنٹسٹ کے نام سے ایک صارف نے اس درجہ بندی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا موازنہ ہے کہ جس میں ایک باؤلر، ایک مڈل آرڈر بیٹسمین، ایک خاتون بلے باز اور ایک آل راؤنڈر کو شامل کیا گیا ہے۔

ایک صارف شہریار حامد کے مطابق مہارت کے اعتبار سے یہ موازنہ کوہلی اور ڈویلیئر کے درمیان ہی بنتا ہے جبکہ قیادت کے اعتبار سے یہ قرعہ عمران خان کے نام نکلتا ہے۔ ان کے مطابق اس موازنے میں عمران خان جیسے آل راؤنڈر کو شامل کرنے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔

شہباز چوہدری نامی صارف نے آئی سی سی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ فہرست ہی غلط ہے، اس میں کلائیو لائیڈ این چیپل، سٹیو وا، رکی پونٹنگ اور مہندر سنگھ دھونی کے نام کہاں گئے؟

ان کی رائے میں وراٹ کوہلی ایک اچھے بیٹسمین ضرور ہیں مگر بطور کپتان ان کی کارکردگی کبھی بہتر نہیں رہی ہے۔ ان کی رائے میں دھونی انڈیا کے ایک عظیم کپتان تھے۔

کچھ صارفین نے موازنے کی اپنی فہرستیں تک بنا کر شیئر کر دیں۔ کچھ پاکستانی صارفین عمران خان کا نام اس فہرست میں شامل ہونے پر جشن بھی مناتے نظر آئے۔

کرکٹ میں سابق کپتان کے چاہنے والوں نے تو عمران خان کی پاکستان سے باہر کئی یادگار اننگز بھی ایسے گنوانا شروع کر دیں جیسے وہ آئی سی سی کو یاد کرا رہے ہوں کہ اگر کوئی اس کے فیصلے پر تنقید کرے تو اسے یہ اننگز ضرور یاد کرا دیں۔

ایک صارف آکاش لال نے آئی سی سی سے پوچھا کہ پانچ مرتبہ آئی سی سی ٹرافی اٹھانے والے کامیاب ترین کپتان رکی پونٹنگ کا نام کدھر چلا گیا۔

کسی نے کوہلی کو رنز بنانے والی مشین قرار دیا تو کوئی روہت شرما کے بارے میں سوالات کرتا نظر آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17886 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp