اسامہ ندیم ستی: جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزمان نے طالبِ علم کو جان بوجھ کر قتل کیا

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں طالب علم اسامہ ستی کے قتل کے واقعے کے بارے میں جوڈیشل کمیشن کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ ستی کو پولیس اہلکاروں نے اس وقت گولیاں ماریں جب اُنھوں نے اپنی گاڑی کو روک لیا تھا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کا مقصد حالات کو کنٹرول کرنا یا مقتول سے پوچھ گچھ کرنا نہیں بلکہ اس کو قتل کرنا ہی تھا۔

ایڈشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس جوڈیشل کمیشن کی انکوائری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان میں سے چار ملزمان نے گاڑی کے چاروں اطراف سے گولیاں چلائیں اور گولیوں کے نشانات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گولیاں کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر چلائی گئیں، جبکہ اس ضمن میں پولیس کا مؤقف تھا کہ گاڑی نہ روکنے پر پولیس اہلکاروں نے مقتول کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جائے حادثہ سے ملنے والی گولیوں کے 22 خول کو 72 گھنٹوں کے بعد فارینزک ٹیسٹ کے لیے بھجوایا گیا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اسامہ ستی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دے کر تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ: پانچ بڑے سوالات

’وہ ڈاکو نہیں طالب علم تھا، تم لوگوں نے اتنی بے دردی سے گولیاں چلائیں‘

کراچی فائرنگ: ’ہم معذرت خواہ ہیں کہ ایسا ہوا ہے’

یاد رہے کہ چند دن قبل اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے 22 سالہ اسامہ ستی ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے علاقے میں ڈکیتی کی اطلاع موصول ہونے پر مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تھا اور نہ رکنے پر فائرنگ کی گئی۔

دوسری جانب مقتول اسامہ ستی کے خاندان کا مؤقف تھا کہ انھیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے پہلے ہی مار دینے کی دھمکیاں دی جا چکی تھیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے عدالتی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

اسامہ ستی، اسامہ ندیم ستی

BBC

وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں یہ ایک طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس افسر اس وقت تک گولی نہیں چلائے گا جب تک ملزم کی طرف سے پہلے فائرنگ نہ کی جائے لیکن اس واقعے میں ان قواعد کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار ہر قیمت پر اسامہ ستی کو مارنا چاہتے تھے اور ان کا حالات کو معمول پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح وقوعہ کے بعد جائے حادثہ سے شواہد کو مٹانے کی کوشش کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ پولیس حکام ان پولیس اہلکاروں کے اس اقدام کی مکمل حمایت کر رہے تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائے حادثہ پر اسامہ ستی کی لاش سڑک پر پڑی تھی اور اس کی لاش کے اردگرد پولیس کی گاڑیاں کھڑی کر دی گئیں تاکہ اس واقعے کو لوگوں کی نظروں سے بچایا جاسکے، جبکہ اسامہ ستی کو زخمی حالت میں ہسپتال لے کر جانے کے بجائے وہیں سڑک پر ہی رہنے دیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار اسامہ ستی کے مرنے کا انتظار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کنٹرول 15 نے رسیکیو 1122 کے اہلکاروں کو جائے وقوعہ کا غلط پتا بتایا جس کی وجہ سے وہ تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچے اور جب اس ادارے کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچے تو وہاں پر بھی اُنھیں ریسکیو کا کام کرنے سے جان بوجھ کر روکا گیا۔

اس کے علاوہ پولیس حکام نے اسامہ ستی کے والدین کو اس واقعے کے بارے میں چار گھنٹے تک بے خبر رکھا جبکہ اس کے علاوہ جائے وقوعہ کی رات کو ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران اور اہلکاروں نے اپنے اعلیٰ افسران کو تمام واقعات کے بارے میں اندھیرے میں رکھا اور بعد میں اس واقعے کو پولیس مقابلہ قرار دیا۔

اسامہ ستی، اسامہ ندیم ستی

BBC

اس رپورٹ میں اسامہ ستی کی پوسٹ مارٹم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مقتول کو سامنے سے گولی نہیں لگی تاہم پاکستان انسٹی ٹیوٹ اف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے ڈیوٹی پر موجد ڈاکٹر نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ مقتول کو سامنے سے بھی گولی ماری گئی لیکن جب مذکورہ ڈاکٹر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو اُنھوں نے کہا کہ ایسا غلطی سے لکھا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ ستی کے کسی ڈکیتی یا کسی سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

عدالتی کارروائی

دوسری جانب اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اسامہ ستی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دے کر تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے جس پر عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا، جس کا تفتیشی افسر نے نفی میں جواب دیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کا اقبالی بیان ریکارڈ کروا کر لائیں۔

اس کے علاوہ آج اسامہ ستی کے والد یونس ندیم ستی نے بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر عمران خان نے ان سے تعزیت کی اور اُنھیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17409 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp