متاثرہ خواتین کو ’موردِ الزام ٹھہرانے‘ والے میک اپ وائپس کے اشتہار پر چینی سوشل میڈیا صارفین برہم، کمپنی کی معذرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک چینی کمپنی نے میک اپ اتارنے والی وائپس سے متعلق ایسے متنازع اشتہار پر معذرت مانگ کر لی ہے جس میں مبینہ طور پر متاثرہ خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پرکاٹن نامی کمپنی کی جانب سے چلایا گیا یہ اشتہار اب تک وائرل ہو چکا ہے اور اس میں ایک خاتون کو ایک تعاقب کرنے والے مرد کو ڈرانے کے لیے اپنا میک اپ اتارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس اشتہار کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے تو یہ پیغام جا رہا ہے کہ مردوں کی غیر مطلوب جنسی توجہ کی وجہ دراصل خواتین ہی ہیں۔

اسی طرح کچھ افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اس لیے بھی اشتعال انگیز ہے کیونکہ اس میں یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خواتین میک اپ کے بغیر پرکشش نہیں رہتیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیپسی کولا کے اشتہار پر امریکی برہم

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراس: ’گھر والوں کو لگتا ہے کہ استاد کبھی غلط نہیں ہو سکتا‘

’مجھے اذیت اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا، اب جو بھی ہو گا اس پر پچھتاوا نہیں‘

چین کے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم ویبو پر ایک شخص نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کو خوف میں مبتلا کرنے اور تکلیف پہنچانے والی چیز پر اشتہار بنایا گیا ہے، کیا ان کے ساتھ کچھ دماغی مسائل ہیں؟‘

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اس کمپنی کی مذمت زور پکڑتی رہی اور اس کے بائیکاٹ کے لیے بھی کہا جاتا رہا۔

پرکاٹن کی جانب سے اپنے آفیشل ویبو اکاؤنٹ پر دو مختلف پوسٹس میں معذرت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ اشتہارات بنانے کے مراحل پر غور کریں گے تاکہ ایسے واقعات آئندہ نہ پیش آئیں۔ کمپنی نے اس اشتہار کو اپنے سوشل میڈیا صفحات سے ہٹا دیا، تاہم تب تک اسے وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا چکا تھا۔

اس 26 سیکنڈ کے کلپ میں رات کے وقت ایک مرد کو ایک تنہا چلی رہی نوجوان خاتون کا تعاقب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایسے میں وہ جلدی سے میک اپ اتارنے والا وائپ نکالتی ہیں اور اپنا میک صاف کرتی ہیں، اور جب یہ شخص انھیں پیچھے سے آ کر دبوچتا ہے تو وہ مڑ کر اپنا میک اپ کے بغیر چہرہ دکھاتی ہیں۔ اس موقع پر ان کا کردار ایک مرد اداکار نبھا رہے ہوتے ہیں۔

پھر سکرین پر چینی زبان میں لکھا آتا ہے قے (اُلٹی) اور پھر تعاقب کرنے والا یہ شخص غائب ہو جاتا ہے۔

اس اشتہار کی مذمت اور اس میں دکھائے گئے بیانیے پر تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جنسی تعصب اور متاثرہ خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرانے کے بیانیے کے خلاف آن لائن تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ برس دو چینی کالجوں کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انھوں نے اپنے حفاظتی ہدایت ناموں میں یہ بات لکھی تھی کہ طالبات کو کیمپس پر جنسی حملوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

گوانگزی یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ خواتین کو عام لباس پہننا چاہیے جس میں ان کے لباس کا گلا زیادہ گہرا نہ ہو اور نہ ہی ان کی کمر نظر آئے جس سے مردوں کو ’ترغیب دینے سے بچا‘ جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہینگزو میں واقع چائنہ اکیڈمی آف آرٹ کا کہنا تھا کہ ’خوبصورت نظر آنے‘ اور اپنی شکل و صورت پر بہت زیادہ توجہ’ دینے سے مردوں کی غیر مطلوب جنسی توجہ حاصل ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17282 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp